بجلی کے بھاری ظالمانہ بل اور مجبورعوام

گزشتہ روز مجھے ایک ایسے شدید جذباتی صدمے اور سکتے کی حالت کا سامنا کرنا پڑا، جس نے میری روح تک کو ہلا کر رکھ دیا۔ میری ہمسائی جو ایک انتہائی شریف، خوددار اور سفید پوش خاندان سے تعلق رکھتی ہے، شدید پریشانی اور بے بسی کے عالم میں میرے پاس آئی اور اس نے کانپتے ہاتھوں اور نم آنکھوں کے ساتھ اپنا بجلی کا بل میرے سامنے رکھ دیا۔

میں کافی دیر تک اس بے جان کاغذ کے ٹکڑے کو حیرت سے دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی اور مجھے اپنی ہی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ بل پر درج بجلی کے کل استعمال شدہ یونٹ 200 سے بھی کم تھے، لیکن نیچے سرخ لکیر کے پاس کل واجب الادا رقم 11,000 روپے سے بھی اوپر جا چکی تھی! یہ دیکھنے کے بعد میں کافی دیر تک اسی گہری سوچ اور کرب میں ڈوبی رہی کہ وہ غریب متوسط طبقہ جو روزانہ چند سو روپے بمشکل کما پاتا ہے، وہ اس منہ زور مہنگائی کے دور میں اپنے معصوم بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کیسے کرتا ہوگا اور اتنے بھاری، ظالمانہ بل کہاں سے بھرتا ہوگا؟

یہ بھیانک منظر اب پاکستان کے کسی ایک گھر یا محلے کا نہیں، بلکہ ہر دوسرے شہری کا مقدر بن چکا ہے۔ پاکستان اس وقت تاریخ کے سنگین ترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے، جہاں مہنگائی کی لہر اب صرف ماہرینِ معیشت کے ٹی وی ٹاک شوز یا اخبارات کی سرخیوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ ملک کے کروڑوں غریب اور متوسط طبقے کے کچن پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔ صورتحال اس نہج پر آ چکی ہے کہ اب بات معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی نہیں، بلکہ محض زندہ رہنے کی جنگ بن چکی ہے۔ وہ سفید پوش طبقہ جو کبھی اپنی عزتِ نفس کی خاطر خاموش رہتا تھا، آج وہ بھی دہائیاں دینے پر مجبور ہو چکا ہے۔ ملک میں منہ زور مہنگائی نے عوام کو دال روٹی کا محتاج کر دیا ہے، اور رہی سہی کسر بجلی کے ان ظالمانہ بلوں نے پوری کر دی ہے، جنہوں نے واقعی عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔

ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے متواتر اضافے نے مہنگائی کی اس آگ کو مزید بھڑکایا ہے۔ جب بھی پٹرول مہنگا ہوتا ہے، ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، اور اس کا براہِ راست اثر آٹا، دالیں، چینی، گھی، دودھ اور سبزیوں جیسی بنیادی اشیاءِ خورونوش پر پڑتا ہے۔ مارکیٹ میں قیمتوں پر کنٹرول کا کوئی سرکاری نظام دکھائی نہیں دیتا۔ دکاندار اور ذخیرہ اندوز من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں، اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں صرف کاغذوں تک محدود نظر آتی ہیں۔ ایک عام دیہاڑی دار یا مقررہ تنخواہ دار شخص، جس کی آمدنی مہینے کے تیس دن بعد بھی وہیں کھڑی ہے، وہ روزمرہ کی اشیاءخریدنے کے لیے اپنی جمع پونجی بیچنے یا قرض کے بوجھ تلے دبنے پر مجبور ہے۔ متوسط طبقے کے گھروں میں اب پھل اور گوشت کا تصور ایک خواب بن چکا ہے، اور بات صرف سوکھی روٹی پر آ کر رک گئی ہے۔

بجلی جو کبھی ایک بنیادی ضرورت ہوا کرتی تھی، آج غریب کے لیے ایک بھیانک خواب بن چکی ہے۔ حیرت انگیز اور تکلیف دہ امر یہ ہے کہ صارفین کو اصل استعمال شدہ بجلی کی قیمت سے زیادہ مختلف اقسام کے ٹیکسز، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ، کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور سرچارجز ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔

پروٹیکٹڈ صارفین کا فارمولا اس قدر پیچیدہ اور ظالمانہ ہو چکا ہے کہ اگر کسی غریب کا بل ایک یونٹ بھی مقررہ حد سے اوپر چلا جائے، تو اس کا بل دگنا یا تگنا ہو جاتا ہے۔ ایک عام خاندان، جب اسے اپنی کل آمدنی کے برابر یا اس سے بھی زیادہ کا بجلی کا بل ملتا ہے، تو اس کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں، یا تو وہ اپنے بچوں کو بھوکا سلائے، یا پھر خودکشی جیسے انتہائی قدم پر مجبور ہو جائے۔ ملک کے طول و عرض سے آنے والی ایسی دردناک خبریں دل دہلا دینے والی ہیں جہاں والدین نے بجلی کے بل نہ بھر پانے اور بچوں کی بھوک نہ دیکھ پانے کی وجہ سے موت کو گلے لگا لیا۔

عوامی غیظ و غضب اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب وہ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو غریب عوام پر ٹیکسوں کا پہاڑ توڑا جا رہا ہے، اور دوسری طرف حکمران طبقہ، بیوروکریسی، اور بااثر شخصیات اب بھی کروڑوں روپے کی مفت بجلی، پٹرول اور مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ عوام سوال کرتے ہیں کہ جس ملک کے پاس اپنے شہریوں کو کھلانے کے لیے روٹی نہیں، اس ملک کے اشرافیہ کے پروٹوکول اور شاہانہ اخراجات کم کیوں نہیں ہوتے؟ آئی پی پیزکے ساتھ کیے گئے ماضی کے غلط اور یکطرفہ معاہدوں کا خمیادہ آج ملک کا وہ غریب کسان اور مزدور بھگت رہا ہے جس نے کبھی ایئر کنڈیشنر کا رخ بھی نہیں دیکھا، لیکن وہ ان پاور پلانٹس کو ”کپیسیٹی چارجز“ کی مد میں اربوں روپے ادا کر رہا ہے جو سارا سال بند رہتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے اکثر اوقات عارضی پیکجز، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت چند ہزار روپے کی امداد یا چند ماہ کی عارضی سبسڈی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ اقدامات ایسے ہی ہیں جیسے کینسر کے مریض کو ڈسپرین کی گولی دے دی جائے۔ عوام کو خیرات یا بھیک نہیں چاہیے، انہیں پائیدار ریلیف کی ضرورت ہے۔ جب تک بجلی کے بلوں سے غیر منصفانہ ٹیکس ختم نہیں کیے جاتے، آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی نہیں کی جاتی، اور بجلی چوری اور لائن لاسز کا بوجھ ایماندار صارفین پر ڈالنا بند نہیں کیا جاتا، تب تک یہ بحران حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو پائیدار بنیادوں پر سولر انرجی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ نیٹ میٹرنگ کے ذریعے عام آدمی کو مستقل ریلیف مل سکے۔

حکمرانوں کو اب یہ بات سمجھنی ہوگی کہ عوامی صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مہنگائی اور بھوک حد سے بڑھ جائے، تو وہ سماجی بدامنی، جرائم اور انارکی کو جنم دیتی ہے۔ اس وقت ملک میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ بھی اسی معاشی تنگدستی کا نتیجہ ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست اپنی ترجیحات کو تبدیل کرے۔ اشرافیہ کی مراعات کو فوری طور پر ختم کیا جائے، سرکاری سطح پر سادگی مہم کو سختی سے نافذ کیا جائے، اور ان پیسوں کو عوام کو بجلی اور خوراک پر براہِ راست ریلیف دینے کے لیے استعمال کیا جائے۔ اگر اب بھی سنجیدہ فیصلے نہ کیے گئے، اور عوام کو اسی طرح سسکنے کے لیے چھوڑ دیا گیا، تو یہ معاشی بحران ایک ایسے شدید ترین سماجی دھماکے کی شکل اختیار کر سکتا ہے جسے سنبھالنا پھر کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔

ایوانوں میں بیٹھے مقتدر طبقے کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ حکومتیں کفر کے نظام کے ساتھ تو چل سکتی ہیں، لیکن عوام کی بھوک، سسکیاں اور ناانصافی کا یہ نظام اب مزید نہیں چل سکتا؛ کیونکہ جب بھوک دیواریں توڑتی ہے، تو پھر تخت اور تاج ہوا میں اڑتے دیر نہیں لگتی!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے