ایک خاتون جب کسی بڑے عہدے پر فائز ہوتی ہے تو بظاہر یہ اس کی ذاتی کامیابی محسوس ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ پورے معاشرے کی کامیابی ہوتی ہے۔ وہ جب مقابلے کا امتحان پاس کرکے انتظامی عہدے تک پہنچتی ہے، ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل، صحافی، افسر یا کسی ادارے کی سربراہ بنتی ہے تو اس کے پیچھے صرف اس کی اپنی محنت نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسے معاشرے کی امید بھی ہوتی ہے جو اپنی بیٹیوں کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا عہدہ بدل جانے سے عورت کے ساتھ معاشرے کا رویہ بھی بدل جاتا ہے؟
حال ہی میں راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مالیحہ سحر کی جانب سے اپنے شوہر کے خلاف درج کرائی گئی شکایت نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے۔ خبر کے مطابق انہوں نے اپنے شوہر پر جسمانی تشدد، مبینہ طور پر غیر قانونی حراست، جان سے مارنے کی دھمکیوں اور مسلسل گھریلو تشدد کے الزامات عائد کیے ہیں۔ شکایت پر راولپنڈی کے ویمن پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 342 اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاع ہے۔
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ الزامات ہیں اور ان کی حتمی سچائی کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ لیکن اس واقعے نے ایک نہایت اہم اور بنیادی سوال ضرور اٹھا دیا ہے: اگر ایک تعلیم یافتہ، بااختیار اور انتظامی عہدے پر فائز خاتون بھی اپنے گھر کی چار دیواری میں مبینہ تشدد سے محفوظ نہیں تو پھر اس ملک کی ان لاکھوں خواتین کا کیا حال ہوگا جو نہ اپنے حقوق سے پوری طرح واقف ہیں، نہ انہیں قانونی مدد میسر ہے اور نہ ہی ان کی آواز سننے والا کوئی مؤثر فورم موجود ہے؟
عہدہ بڑا ہو یا چھوٹا، عزت سب کا حق ہے
عورت صرف اس وقت قابلِ احترام نہیں ہوتی جب وہ کسی بڑے سرکاری عہدے پر فائز ہو۔
وہ ماں ہے تو قابلِ احترام ہے۔
وہ بیٹی ہے تو قابلِ احترام ہے۔
وہ بہن ہے تو قابلِ احترام ہے۔
وہ بیوی ہے تو قابلِ احترام ہے۔
وہ دادی یا نانی ہے تو قابلِ احترام ہے۔
وہ گھریلو خاتون ہے تو بھی قابلِ احترام ہے۔
وہ کسی دفتر کی ملازم ہے تو بھی عزت کی مستحق ہے۔
اور اگر وہ افسر ہے تو اس کا عہدہ اس کے احترام میں اضافہ ضرور کرتا ہے، لیکن اس کی انسانی عزت کا بنیادی حق کسی عہدے کا محتاج نہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں بعض اوقات عورت کی حیثیت اس کے عہدے، معاشی حیثیت یا خاندان سے وابستہ کردی جاتی ہے۔ غریب گھر کی عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو معمول سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ کسی بااثر یا صاحبِ حیثیت خاتون کا مسئلہ سامنے آئے تو معاشرہ چونک جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر عورت کی عزت برابر ہے۔
اسلام نے عورت کو کیا مقام دیا؟
اسلام نے عورت کو محض کسی مرد کے تابع وجود کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے ایک باعزت انسان، ماں، بیٹی، بیوی اور معاشرے کے ذمہ دار فرد کی حیثیت دی۔
قرآنِ کریم شوہر اور بیوی کے تعلق کو سکون، محبت اور رحمت کا تعلق قرار دیتا ہے:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً
یعنی اللہ نے میاں بیوی کے درمیان محبت اور رحمت رکھی۔
غور کیجیے، یہاں رشتہ طاقت، خوف اور جبر پر قائم کرنے کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ مودّت اور رحمت کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ نے بھی عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی بار بار تاکید فرمائی۔ اس لیے کسی عورت کو جسمانی یا ذہنی اذیت دینا، اسے خوف میں مبتلا رکھنا یا اس کی عزتِ نفس مجروح کرنا محض ایک گھریلو معاملہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور انسانی مسئلہ بھی ہے۔
اگر ایک افسر بھی محفوظ نہیں تو عام عورت کہاں جائے؟
یہی اس واقعے کا سب سے زیادہ پریشان کن پہلو ہے۔
ایک ایسی خاتون جو انتظامیہ میں اہم منصب رکھتی ہو، جسے سرکاری معاملات نمٹانے کا اختیار حاصل ہو، جو قانونی اور انتظامی نظام سے واقف ہو، اگر اسے بھی اپنے نجی گھر میں مبینہ تشدد کا سامنا کرنا پڑے اور اسے باقاعدہ پولیس سے رجوع کرنا پڑے تو ہمیں ان خواتین کے بارے میں ضرور سوچنا چاہیے جو دیہی علاقوں، پسماندہ بستیوں اور دور دراز علاقوں میں زندگی گزار رہی ہیں۔
وہ عورت جو پڑھ نہیں سکتی، اسے قانون کا علم کہاں سے ہوگا؟
جو موبائل فون یا انٹرنیٹ تک رسائی نہیں رکھتی، وہ اپنی آواز کس تک پہنچائے گی؟
جسے اپنے ہی گھر سے باہر نکلنے کی آزادی حاصل نہیں، وہ پولیس یا عدالت تک کیسے پہنچے گی؟
اور جسے یہ سمجھایا جاتا رہا ہو کہ "گھر کی بات گھر میں رکھو”، وہ برسوں تک اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو کس نام سے پکارے گی؟
یہ سوال صرف خواتین کا نہیں، پورے معاشرے کا سوال ہے۔
خاموشی ہمیشہ صبر نہیں ہوتی
ہمارے معاشرے میں عورت کو اکثر صبر کا درس دیا جاتا ہے، جو اپنی جگہ ایک اچھی اخلاقی قدر ہے۔ لیکن صبر اور ظلم برداشت کرنے میں فرق ہے۔
صبر کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ظلم کو جائز سمجھ لے۔
خاندان کو بچانا یقیناً اہم ہے، بچوں کا مستقبل بھی اہم ہے، رشتوں کی حفاظت بھی ضروری ہے، لیکن خاندان کی بنیاد اگر مسلسل خوف، تشدد اور تحقیر پر قائم ہو تو پھر ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہم کس خاندان کو بچا رہے ہیں؟
بچے بھی گھر کے ماحول سے سیکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے والد کو اپنی والدہ کے ساتھ بدسلوکی کرتے دیکھیں گے تو ان کے ذہن میں عورت کے احترام کا تصور کیسے مضبوط ہوگا؟
مسئلہ صرف مرد کا نہیں، تربیت کا بھی ہے
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مرد ظالم نہیں اور ہر عورت مظلوم نہیں۔ معاشرے میں اچھے شوہر، بااخلاق باپ اور ذمہ دار مرد بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اسی طرح بعض گھریلو تنازعات میں دونوں فریقوں کے رویے قابلِ اصلاح ہوسکتے ہیں۔
لہٰذا مسئلے کو مرد بمقابلہ عورت بنانے کے بجائے ہمیں اسے انسانی احترام، خاندانی تربیت، قانون کی بالادستی اور اخلاقی ذمہ داری کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔
ایک مرد کی اصل طاقت یہ نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو خاموش کرا دے؛ اصل طاقت یہ ہے کہ وہ اپنے غصے پر قابو رکھے۔
ایک شوہر کی مردانگی یہ نہیں کہ اس کی بیوی اس سے ڈرے؛ اصل مردانگی یہ ہے کہ اس کی بیوی اس کے ساتھ خود کو محفوظ محسوس کرے۔
اور ایک عورت کی کامیابی صرف یہ نہیں کہ وہ بڑے عہدے تک پہنچ جائے؛ اصل کامیابی یہ بھی ہے کہ معاشرہ اسے اس کے گھر، دفتر اور ہر جگہ عزت اور تحفظ دے۔
حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟
حکومت کو خواتین کے تحفظ کے قوانین بنانے کے ساتھ ساتھ ان پر مؤثر عمل درآمد بھی یقینی بنانا ہوگا۔ صرف قانون کی کتاب میں دفعات موجود ہونا کافی نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ:
– ہر ضلع میں خواتین کے لیے قابلِ رسائی اور مؤثر قانونی امداد کا نظام موجود ہو۔
– ویمن پولیس اسٹیشنز کو وسائل، تربیت اور اختیارات فراہم کیے جائیں۔
– گھریلو تشدد کی شکایات کو "خاندانی معاملہ” کہہ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔
– دور دراز علاقوں کی خواتین کے لیے قانونی اور نفسیاتی معاونت کے مراکز قائم کیے جائیں۔
– خواتین کو ان کے بنیادی قانونی حقوق سے آگاہ کرنے کے لیے آگاہی مہمات چلائی جائیں۔
– پولیس، عدلیہ، صحت اور سماجی بہبود کے اداروں کے درمیان مربوط نظام بنایا جائے۔
– گھریلو تشدد کے معاملات میں متاثرہ خاتون اور بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے۔
معاشرے کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
ہم صرف حکومت سے یہ توقع نہیں کرسکتے کہ وہ ہر گھر میں جا کر اخلاقیات سکھائے۔
والدین کو اپنے بیٹوں کی تربیت کرنی ہوگی کہ عورت کمزور نہیں، انسان ہے۔
اساتذہ کو بچوں کو بتانا ہوگا کہ عزت، برداشت اور اختلافِ رائے کا ادب کیا ہوتا ہے۔
علمائے کرام کو منبر و محراب سے خاندان میں حسنِ سلوک، حقوق العباد اور عورت کے احترام کا پیغام عام کرنا ہوگا۔
میڈیا کو بھی خواتین کے مسائل کو سنسنی خیزی کے بجائے ذمہ داری سے اجاگر کرنا چاہیے۔
اور ہمیں بحیثیت معاشرہ یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کسی بھی عورت پر تشدد کو معمول نہیں سمجھا جائے گا۔
آخر میں
راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر مالیحہ سحر کے معاملے میں عدالت اور متعلقہ ادارے ہی یہ طے کریں گے کہ شکایت میں لگائے گئے الزامات کس حد تک درست ہیں۔ لیکن اس واقعے نے ہمارے سامنے ایک ایسا آئینہ ضرور رکھ دیا ہے جس میں پورے معاشرے کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔
ہم اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلاتے ہیں، مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرواتے ہیں، انہیں بڑے عہدوں تک پہنچنے پر مبارک باد دیتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم انہیں ایک ایسا معاشرہ بھی دے رہے ہیں جہاں وہ اپنے عہدے سے قطع نظر محفوظ اور باعزت زندگی گزار سکیں؟
عورت کا احترام اس وقت شروع نہیں ہونا چاہیے جب وہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بن جائے۔
اس کا احترام اس دن سے ہونا چاہیے جب وہ بیٹی بن کر اس دنیا میں آئے۔
وہ گھر میں ہو یا دفتر میں، دیہات میں ہو یا شہر میں، ان پڑھ ہو یا اعلیٰ تعلیم یافتہ، گھریلو خاتون ہو یا افسر—اس کی عزت کسی عہدے، دولت یا اختیار کی محتاج نہیں۔
کیونکہ عورت کا سب سے بڑا عہدہ اس کا انسان ہونا ہے، اور انسان کی عزت کسی منصب سے بڑی ہوتی ہے۔