سر پر ہیلمٹ پہنے۔ ہاتھوں میں دستانے۔پیر میں جوگرز اور پنک رنگ کی اسکوٹی پر سوار پاکستان کی بائیکرز لڑکیوں کو دیکھیں تو بہت خوشی ہوتی ہے۔ اب سڑکوں پر صرف مرد اور لڑکے ہی نہیں بلکہ ہماری خواتین ،لڑکیاں، بچیاں بھی بائیک اور اسکوٹی چلاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔
بدلتے پاکستان کا یہ ایک خوشگوار پہلو ہے۔پڑوسی ملک کے ڈراموں میں جب لڑکیوں کو اسکوٹی پر کالج اور یونیورسٹی یا پھر نوکری پر جاتے ہوئے دکھایا جاتا تھا تو ہمارے ہاں بھی لڑکیوں کی یہی خواہش ہوتی تھی کہ وہ بھی سڑکوں پر بائیک چلائیں اور اپنے کام خود کرسکیں۔
آج جب لڑکیاں اپنے کام خود کر رہی ہیں۔ اسکول، کالج اور جاب پر جارہی ہیں تو دل خوش ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں بھی روشن خیالی پیدا ہورہی ہے۔ سندھ حکومت نے بھی اس حوالے سے پنک اسکوٹی دینے کا اچھا اقدام کیا ہے اور بہت سی لڑکیوں کو پنک اسکوٹی مل بھی چکی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔
اب ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں کسی کی محتاج نہیں ہیں۔ وہ نہ صرف اپنے کام خود کر رہی ہیں بلکہ گھر کی زمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھا رہی ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کو اسکول پہنچانے اور پھر اسکول سے لینے کے لیے بھی اسکوٹی کا استعمال کر رہی ہیں۔
اس عمل سے جہاں خواتین اپنے پیروں پرکھڑی ہوگئی ہیں۔ وہاں دوسری طرف بچت کے معاملے میں بھی بہت بہتری نظر آرہی ہے۔ بہت سے گھروں میں ہزاروں روپے رکشے اور اسکول وین کے دیے جا رہے تھے۔
میں تو حیران ہوں کہ ہماری یہ بائیکرز لڑکیاں تو لڑکوں سے زیادہ اچھی بائیک سوار ثابت ہورہی ہیں۔ کراچی جیسے شہر میں لڑکیاں بائیک اور اسکوٹی دوڑاتی پھر رہی ہیں۔
مگر افسوس کہ اکیسویں صدی میں بھی ہمارے معاشرے میں بعض مرد حضرات خواتین کو بائیک چلاتا ہوا نہیں دیکھ پا رہے ہیں۔ ان کو شاید یہ گوارا نہیں ہے کہ یہ لڑکیاں بائیک چلائیں اور ان کے مقابلے میں آجائیں۔ جبکہ بعض مرد حضرات بائیکرز لڑکیوں کو اس طرح گھورتے ہیں کہ جیسے یہ لڑکیاں نہیں کوئی خلائی مخلوق ہوں۔ بعض لڑکوں کا لڑکیوں کو دیکھ کر آوازیں کسنا، ان کو بائیک چلاتے ہوئے دیکھ کر ہنسنا اور قہقہے لگانا یہ سب ایسی بیہودہ باتیں اور رویے ہیں کہ جس کی وجہ سے ہماری یہ بائیکرز لڑکیاں پریشان ہوجاتی ہیں۔
مگر لڑکیوں تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر تمہیں موقع ملے تو تم ہمارے ساتھ قدم ملا کر چل سکتی ہو بلکہ ہم مردوں سے دو قدم آگے بھی جاسکتی ہو۔ بس چند باتیں ایسی ضرور ہیں کہ ان پر عمل کرنا ضروری ہے۔
اسکوٹی یا بائیک چلاتے ہوئے لڑکیوں کو ایسا لباس پہنا چاہیے۔ جس کی وجہ سے ٹائر میں کوئی چیز دوپٹہ یا برقعہ پھنس نہ جائے۔بائیک یا اسکوٹی مناسب اسپیڈ میں چلائی جائے بالخصوص کراچی جیسے شہر میں جہاں ٹریفک حادثات میں روزانہ لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔بائیک میں پیٹرول اور اسکوٹی کی چارجنگ فل ہونی چاہیے۔
خدا کا شکر ہے کہ بہت دنوں بعد لڑکیوں کو یہ سہولت مل رہی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بہتر انداز سے گزارسکیں۔ اسی لیے ان بائیکرز لڑکیوں کی حفاظت کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ ظاہر ہے کہ ہماری مدد سے یہ لڑکیاں آسانی سے اپنی زندگی کے مقاصد کو پورا کرسکیں گی۔
ایک ماں اپنے بچوں کو اسکول پہنچا سکے گی۔ ایک لیڈی ڈاکٹر بر وقت اسپتال پہنچ سکے گی۔لڑکیاں اسکول، کالج اور یونیورسٹی آسانی سے جا سکیں گی۔ کاروباری خواتین اپنا گھر چلا سکیں گی۔ یہ سب ممکن ہے۔ یہ سب ہوسکتا ہے مگر اس کے لیے ہمیں مل کر کوشش کرنی ہوگی۔ یاد رکھیے ہمارے ملک میں ایسے بہت سے تنگ نظر لوگ ہیں۔ جو عورت کو خوش دیکھنا نہیں چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورت ترقی کرے۔ اسی لیے وہ ان اوچھے ہتھکنڈوں کو ضرور استعمال کریں گے کہ کسی طرح خواتین کو ہراس کیا جائے اور وہ گھر پر بیٹھ جائیں مگر ہمیں مل کر اپنی خواتین لڑکیوں بچیوں کو سپورٹ کرنا ہے۔
حکومت اور پولیس کو اس حوالے سے اپنا موثر کردار ادا کرنا پڑے گا۔یہ حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ ان بائیکرز لڑکیوں کو کوئی ہراس نہ کرسکے اور اگر کوئی ایسی حرکت کرنے کی کوشش کرے تو اس کا سافٹ ویئر اپڈیٹ کیا جائے۔
کالم کے آخر میں امریکی شاعر فلپ بوتھ کی نظم "ماڈرن لڑکیاں” پیش کر رہا ہوں جس کا ترجمہ مجید امجد نے کیا ہے۔
سنہری دُپہروں رُپہلی رُتوں
میں، سورج مکھی کے شگوفوں کے پاس
چناروں سے قد اور ستاروں سے نین
زرافشاں بدن، زغفرانی لباس
حسیں گوریاں گنگناتی پھریں
مٹکتی پھریں، ڈگمگاتی پھریں
کڑی دھوپ میں قاشِ زر سے تراشی ہوئی پنڈلیاں
لہکتی پھریں، تھرتھراتی پھریں
سجل راستوں سے گزر جائیں یہ
نگینوں بھرے آبشاروں کی طرح
زمانوں کے د ل میں اتر جائیں یہ
لجیلی کٹیلی کٹاروں کی طرح
سنہری دوپہروں کو ٹھنڈک عطا کرنے والے خیالوں کے جادو جگاتی پھریں
مٹکتی پھریں، ڈگمگاتی پھریں