ہر شکست ناکامی نہیں ہوتی

ہر ہارنے والا ناکام نہیں ہوتا اور ہر جیتنے والا کامیاب نہیں ہوتا کیونکہ زندگی میں بعض اوقات جیت کی قیمت اپنا سکون، وقار اور شناخت کھو کر ادا کرنی پڑتی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں خاموشی کو کمزوری، پیچھے ہٹنے کو شکست اور اپنی راہ بدلنے کو ناکامی سمجھا جاتا ہے۔

یہاں فیصلے اکثر اس بنیاد پر کیے جاتے ہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا مگر یہ دیکھنے کی کوشش کم ہی ہوتی ہے کہ اس جیت یا ہار کے پیچھے انسان نے کیا کھویا اور کیا پایا۔زندگی کا ہر معرکہ جیتنا ضروری نہیں۔ بعض اوقات کسی معرکے سے باوقار انداز میں نکل آنا بھی کامیابی ہوتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہر وہ شخص جو کسی میدان سے پیچھے ہٹ جائے واقعی ہار جاتا ہے؟ اور کیا ہر وہ شخص جو بحث جیت لے لازماً کامیاب بھی ہو جاتا ہے؟

ہم نے کامیابی کو آگے بڑھنے، جیتنے اور ہر حال میں اپنی بات منوانے سے تعبیر کر لیا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص خاموش ہو جائے، کسی بحث سے دست بردار ہو جائے یا اپنا راستہ بدل لے اسے فوراً ناکام سمجھ لیا جاتا ہےحالانکہ بعض اوقات خاموشی شعوری فیصلے اور پیچھے ہٹنا دانش مندی کی علامت ہوتا ہے۔

فرض کیجیے کہ کوئی شخص اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے آپ پر پے در پے الزامات لگائے، آواز بلند کرے اور گفتگو کو دلیل سے نکال کر جھگڑے میں بدل دے۔ ایسے وقت میں ضروری نہیں کہ آپ بھی اسی لہجے میں جواب دیں۔ اپنی بات واضح کرنے کے بعد خاموش ہو جانا کمزوری نہیں کیونکہ آواز کی بلندی کسی مؤقف کو درست اور بحث کی طوالت کسی کو حق پر ثابت نہیں کرتی۔

زندگی میں ہر الزام کا جواب دینا اور ہر اختلاف کو جیت میں بدلنا ضروری نہیں۔ بعض اوقات دوسروں کی تلخی کے جواب میں اپنی زبان کو قابو میں رکھنا اور اپنے کردار کو ان کے رویوں کا عکس بننے سے بچانا زیادہ اہم ہوتا ہے۔

لوگ شاید آپ کی خاموشی کو شکست سمجھیں مگر ممکن ہے آپ کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہو اور آپ نے صرف یہ فیصلہ کیا ہو کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں یہی وہ سبق ہے جو ہمیں اپنی آنے والی نسل کو بھی سکھانا چاہیے اگر کوئی آپ پر کیچڑ اچھالے تو اسے جواب دینے کے لیے خود کیچڑ میں اترنا ضروری نہیں۔

دوسروں کی پھیلائی ہوئی آلودگی کو اپنے کردار کا حصہ بنا لینا دانش مندی نہیں۔ بعض اوقات اپنے دامن کو بچا کر گزر جانا اس بحث میں الجھنے سے بہتر ہوتا ہے جس کا مقصد حقیقت جاننا نہیں بلکہ دوسرے کو نیچا دکھانا ہو۔

تاہم کامیابی اور ناکامی کا معاملہ صرف بحث اور اختلاف تک محدود نہیں۔ کبھی کبھی زندگی ہمیں ایسے ماحول میں لا کھڑا کرتی ہے جہاں منفی سوچ معمول بن جاتی ہے۔ گفتگو میں تلخی، رویوں میں حسد، سوچ میں مایوسی اور دوسروں کی کامیابی کے بارے میں بدگمانی عام ہو جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں مسلسل رہنے سے انسان کا اعتماد متزلزل اور خواب دھندلا سکتے ہیں۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب انسان ایسے ماحول سے نکلنے یا اپنی راہ بدلنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ دنیا شاید اس فیصلے کو شکست قرار دے مگر کیا کسی جگہ کو چھوڑ دینا لازماً ناکامی نہیں ہوتا ہے۔

کبھی کسی ماحول سے نکلنا اپنی شناخت کی حفاظت ہوتا ہے اور کبھی راستہ بدلنا اپنی صلاحیتوں کو بہتر انداز میں بروئے کار لانے کی کوشش۔ بلند پرواز کے لیے صرف حوصلہ نہیں، موزوں فضا کا انتخاب بھی ضروری ہے۔

انسان کو ایسے ماحول سے نکلنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے جہاں اس کے خوابوں کی حوصلہ شکنی کی جائے، صلاحیتوں پر مسلسل سوال اٹھائے جائیں اور ہر کوشش کو منفی نگاہ سے دیکھا جائے۔ جب کسی جگہ رہنے سے ترقی کے امکانات محدود ہونے لگیں اور متبادل راستہ بہتر مواقع فراہم کرے تو وہاں سے نکلنا کمزوری نہیں بلکہ دانش مندانہ فیصلہ ہو سکتا ہے۔

البتہ ہر مشکل سے فرار اختیار کرنا بھی درست نہیں۔ اصل حکمت اس بات کو پہچاننے میں ہے کہ کہاں ثابت قدم رہنا ہے، کہاں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانی ہے اور کہاں اپنی توانائی کسی بہتر راستے پر صرف کرنی ہے۔

آخر کامیابی کا فیصلہ کون کرتا ہے دنیا یا خود انسان؟ دنیا شاید کہے کہ تم بحث سے پیچھے ہٹ گئے اس لیے ہار گئے، تم نے جگہ چھوڑ دی، اس لیے ناکام ہو گئے تم نے جواب نہیں دیا کیونکہ تمہارے پاس جواب نہیں تھا مگر ان ظاہری فیصلوں کے پیچھے انسان کے حالات، مقاصد اور ترجیحات بھی ہوتی ہیں۔ ممکن ہے اس نے اپنا ذہنی سکون بچانے، اپنے کردار کی حفاظت کرنے یا اپنی صلاحیتوں کے لیے بہتر مواقع تلاش کرنے کی خاطر یہ فیصلہ کیا ہو۔

کبھی راستہ چھوڑ دینا منزل سے دست برداری نہیں بلکہ منزل تک پہنچنے کے لیے راستہ بدلنا ہوتا ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان کا فیصلہ وقتی جذبات کے بجائے شعور، حالات اور مقصد پر مبنی ہو۔

کیا کامیابی یہی ہے کہ ہم ہر حال میں دنیا کو اپنی جیت کا یقین دلاتے رہیں یا اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم جان سکیں کہ ہماری توانائی، وقت اور کردار کس چیز کے لیے صرف ہونے چاہییں؟

زندگی میں اصل کامیابی ہر میدان میں فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ یہ پہچاننا ہے کہ کہاں ٹھہرنا ہے کہاں مقابلہ کرنا ہے اور کہاں اپنے وقار کے ساتھ آگے بڑھ جانا ہے کیونکہ ہر میدان میں جیتنا ضروری نہیں بعض اوقات خود کو کھوئے بغیر آگے بڑھ جانا ہی اصل کامیابی ہوتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے