فاتحِ خیبر، خلیفہءراشد حضرت علیؓ کا وہ مشہور اور سنہرا قول ہم سب کے لیے زندگی کی ایک سچی اور کھری حقیقت ہے کہ”کوئی بھی معاشرہ کفر کے نظام کے ساتھ تو چل سکتا ہے اور قائم رہ سکتا ہے، لیکن ظلم کے نظام کے ساتھ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا اور نہ ہی قائم رہ سکتا ہے۔“ مولیٰ علیؓ کے اس عظیم قول کو سامنے رکھ کر جب ہم آج اپنے اردگرد کے حالات اور اپنے معاشرے کو دیکھتے ہیں، تو یقین جانیے روح کانپ اٹھتی ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے۔
آپ سب جانتے ہیں کہ میرے زیادہ تر کالم پنجاب کی خوبصورت ثقافت، میلوں اور یہاں کے جیتے جاگتے رنگوں پر لکھے ہوتے ہیں، اور میں اپنی ان تحریروں میں اپنے پیارے دوستوں کا ذکر بھی بڑے شوق اور محبت سے کرتا ہوں۔ گزشتہ روز میں، میرے ہونہار شاگرد معروف کالم نگار خالد مسعود اور عامر سہیل مٹوایک چائے کے ڈھابے پر بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ اچانک ملتان کے اس لرزہ خیز واقعے پر گفتگو شروع ہو گئی۔ یقین مانیں اس معصوم بچے وسیم عباس کی مظلومیت کا ذکر کرتے کرتے ہم سب کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور چائے کا وہ کپ وہیں کا وہیں دھرے کا دھرا رہ گیا۔ پچھلے دو دن سے مجھ سے اس واقعے کے غم میں کچھ اور لکھا ہی نہیں جا رہا۔
جب میں ملتان کے اس افسوسناک واقعے پر لکھنے بیٹھا تو میرے سامنے معصوم وسیم عباس کی وہ ایک سی سی ٹی وی ویڈیو تھی، جس میں وہ معصوم بچہ خود کو ایک ظالم درندے سے بچانے کے لیے ننگے پاﺅں سڑک پر ادھر ادھر بھاگ رہا تھا۔ سچ کہوں تو مجھ سے وہ ویڈیو پوری دیکھی ہی نہیں گئی۔ میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، دل تڑپ اٹھا اور ہاتھ کانپنے لگے، کیونکہ میرے اپنے بیٹے محمد طلحہ تبسم کی عمر بھی ابھی ابھی 15 سال ہوئی ہے۔ جب میں نے اس 15 سالہ یتیم وسیم عباس کو جان بچانے کے لیے سڑک پر دوڑتے دیکھا، تو مجھے اس معصوم بچے میں اپنا لختِ جگر، اپنا محمد طلحہ تبسم نظر آنے لگا۔ ایک باپ کا دل ہی جانتا ہے کہ اپنے جوان ہوتے بیٹے کی عمر کے بچے کو یوں سڑک پر بے دردی سے کچلے جاتے دیکھ کر دل پر کیا قیامت گزرتی ہے۔
وہ ایک غریب یتیم بچہ تھا، جس کے سر پر نہ باپ کا سایہ تھا اور نہ ہی گھر میں کوئی بڑا سہارا دینے والا تھا۔ وہ تو ایک یتیم خانے میں رہ رہا تھا اور صرف اس لیے ملتان آیا تھا تاکہ الیکٹریشن کا کام سیکھ کر کسی قابل بن سکے۔ اس معصوم بچے کی آنکھوں میں اپنے لیے چھوٹے چھوٹے خوبصورت خواب تھے، لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ صرف کام چھوڑنے کی خواہش کرنا یا چند دن کی چھٹی مانگنا اس کی موت کا سبب بن جائے گا۔ ایک بااثر اور پتھر دل شخص توقیر نذیر نے اپنی تیز رفتار گاڑی سے اس معصوم بچے کا پیچھا کیا اور اسے سڑک پر بے دردی سے کچل کر مار ڈالا۔ یہ صرف ایک بچے کا قتل نہیں ہے، یہ ہم سب کے ضمیر اور انسانیت کا قتل ہے۔
مشہور یورپی دانشور ولٹیئر نے کہا تھا”کمزوروں پر ظلم کرنا بزدلی کی انتہا ہے اور اس ظلم پر خاموش رہنا اس سے بھی بڑا جرم ہے۔“ جب وہ معصوم بچہ اس کالی اور گرم سڑک پر تڑپ تڑپ کر اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوگا، تو اس کے ذہن میں اپنی ماں کا چہرہ اور وہ ادھورے خواب ضرور آئے ہوں گے جو وہ روز رات کو دیکھا کرتا تھا۔ وہ ایک ایسے معاشرے کی بھینٹ چڑھ گیا جہاں غریب اور یتیم بچوں کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا اور جہاں طاقتور لوگ معصوموں کی زندگیوں سے کیڑے مکوڑوں کی طرح کھیلتے ہیں۔
جہاں اس واقعے نے پورے ملک کو رولایا، وہاں اس کیس میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارواائی بھی سامنے آئی۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ اس معصوم بچے کو گاڑی تلے کچلنے والا ظالم توقیر نذیر، سی سی ڈی کے ساتھ ایک پولیس مقابلے میں مارا جا چکا ہے اور اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے، تو سچی بات ہے، مجھے ذاتی طور پر ایک دلی سکون ملا۔ اگرچہ ایک اچھے اور مہذب معاشرے میں قانون کا احترام اور اس کا پاس رکھنا سب سے ضروری ہے، لیکن جب ایسے ظالم انسان قانون کا مذاق اڑانے لگیں اور قانون کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کریں، تو ان کا یہی انجام ہونا چاہیے تھا۔ اس کا یہ انجام اس لیے ضروری تھا تاکہ دوسروں کو عبرت ملے، اور آئندہ کوئی بھی امیر یا بااثر شخص کسی غریب بچے کو بے سہارا سمجھ کر اس پر ہاتھ اٹھانے کی جرات نہ کرے، اور دوبارہ کوئی اور معصوم وسیم عباس اس طرح سڑکوں پر نہ کچلا جائے۔
لیکن اس کہانی کا ایک اور کڑوا اور افسوسناک پہلو اب شروع ہونے والا ہے جسے دیکھ کر دل مزید اداس ہو جاتا ہے۔ اب جب یہ معصوم بچہ اس دنیا سے جا چکا ہے اور ہر جگہ اس کا ذکر ہو رہا ہے، تو معاوضے یا پیسے کی لالچ میں اس بچے کے وہ چاچے، مامے اور دور کے رشتہ دار بھی ہمدردی جتانے اور آگے بڑھ کر دعوے کرنے سامنے آ جائیں گے جن کا اس سے پہلے کوئی نام و نشان ہی نہیں تھا۔ دل خون کے آنسو روتا ہے یہ سوچ کر کہ کاش! یہ چاچے اور مامے اس وقت سامنے آتے جب وہ بچہ یتیم ہوا تھا، کاش! یہ رشتہ دار اس وقت اس کا سہارا بنتے جب اسے پیٹ پالنے کے لیے غیروں کے رحم و کرم پر چھوڑا جا رہا تھا۔ اگر یہ خونی رشتے پہلے اس معصوم کے سر پر ہاتھ رکھ دیتے اور اسے اپنی اولاد کی طرح سینے سے لگا لیتے، تو آج وسیم عباس یوں بے دردی سے نہ مارا جاتا۔ یہ ہمارے رشتوں کی بے حسی ہی ہے جو یتیموں کو معاشرے کے درندوں کے آگے بے بس کر دیتی ہے۔
معصوم وسیم عباس کا خون ہم سب کے ضمیر پر ایک بوجھ اور قرض ہے۔ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا، اس کے خواب سڑک کی اس بے رحم تارکول پر تڑپ تڑپ کر دم توڑ گئے، لیکن اس کا کچلا ہوا وجود ہم سے سوال کر رہا ہے۔ میں جب بھی اپنے بیٹے محمد طلحہ تبسم کو دیکھتا ہوں، مجھے وسیم عباس کا وہ معصوم چہرہ یاد آ جاتا ہے۔ خدا کے لیے اپنے اندر کی بے حسی کو ختم کیجیے اور اپنے آس پاس موجود یتیموں اور غریب بچوں کی خبر گیری کیجیے، اس سے پہلے کہ وہ کسی اور ظلم کی نذر ہو جائیں۔ ہمارے دین نے ہمیں یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنے کی تلقین کی ہے، کاش ہم اس پر سچے دل سے عمل کر سکیں۔