ذہنی صحت اور بے روزگاری جدید دور کے خاموش مسائل

جس طرح ترقی کرتے ہوئے پوری دنیا انسان کی انگلیوں پر سمٹ آئی ہے اور جدید آلات کے ذریعے انسان دیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک رابطے میں رہ سکتا ہے، اسی طرح اس ترقی کے ساتھ ساتھ انسان ذہنی الجھن، دباؤ اور مختلف ذہنی پیچیدگیوں کا بھی شکار ہوا ہے۔

ذہنی مسائل، مثلاً ذہنی دباؤ، بے چینی، ڈپریشن، غصہ، تنہائی اور نیند کی خرابی، ایک اہم مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ ذہنی صحت انسان کی مجموعی صحت، خاندانی زندگی، تعلیم، روزگار اور معاشرتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

موجودہ حالات میں ذہنی مسائل بڑھنے کی اہم وجوہات میں بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح بھی شامل ہے۔ پڑھے لکھے افراد ہوں یا مزدور طبقہ، روزگار کی عدم دستیابی نے ہر طبقے کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے۔

روزگار نہ ہو تو انسان معاشی، ذہنی اور گھریلو تنازعات کا شکار رہتا ہے، جو اس کی ذہنی کیفیت کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ روزگار ہو اور پیٹ بھرا ہو تو ہر چیز اچھی لگتی ہے، لیکن جب ایک طرف روزگار نہ ہو اور دوسری طرف معاشرہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہو تو انسان اپنی بنیادی ضروریات بھی کیسے پوری کر سکتا ہے؟

بے روزگار انسان بے شمار ذہنی مسائل سے دوچار ہو سکتا ہے۔ وہ نہ خود خوش رہ پاتا ہے اور نہ ہی اپنی خواہش کے مطابق گھر والوں کے لیے کچھ کر پاتا ہے۔ اسی صورتِ حال میں گھر کا ماحول بھی کشیدہ ہونے لگتا ہے، کیونکہ معاشی پریشانیاں اکثر گھریلو تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ بھوک اور پریشانی کی حالت میں بعض اوقات اچھی بات بھی بری محسوس ہونے لگتی ہے۔

اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بڑھتے ہوئے ذہنی مسائل کی اہم وجوہات میں بے روزگاری اور مہنگائی بھی شامل ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، قرض اور مالی عدم تحفظ انسان کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتے ہیں۔

گھریلو ناچاقی، رشتوں میں تلخی، والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے اور ازدواجی تنازعات بھی ذہنی پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔

اسی طرح ہماری زندگیوں میں سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال بھی ذہنی تناؤ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے استعمال سے ہم دوسروں کی زندگیوں کے ساتھ اپنا موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ آن لائن تنقید، دوسروں کی مصنوعی طور پر بہترین دکھائی جانے والی زندگیوں اور غیر حقیقی توقعات کے باعث احساسِ کمتری اور بے چینی جنم لے سکتی ہے، جس سے انسان ذہنی انتشار کا شکار ہو سکتا ہے۔

تنہائی اور حقیقی سماجی روابط میں کمی بھی انسان کی ذہنی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ جب کوئی شخص اپنے پیشے یا کام میں مسلسل محنت کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر پاتا تو وہ بھی ذہنی الجھن اور دباؤ محسوس کرنے لگتا ہے۔

نیند کی کمی، جسمانی سرگرمی کا فقدان اور غیر متوازن خوراک بھی انسان کی ذہنی کیفیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

انسانی زندگی میں پیش آنے والے اچھے برے واقعات، ناموافق حالات اور کسی صدمے کے اثرات بھی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات سے نکلنے کے لیے کسی اپنے کی توجہ، ہمدردی اور ساتھ بہت اہم ہو سکتا ہے۔

ذہنی مسائل سے بچاؤ اور ذہنی صحت میں بہتری کے لیے روزمرہ زندگی میں چند اقدامات مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

روزانہ مناسب اور باقاعدہ نیند لینے کی کوشش کریں۔ سونے سے پہلے ذہنی سکون کے لیے وقت نکالیں اور غیر ضروری سوچوں سے خود کو کچھ دیر کے لیے آزاد کریں۔

باقاعدگی سے چہل قدمی یا ورزش کریں۔ جسمانی سرگرمی ذہنی تناؤ کم کرنے اور موڈ بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

سوشل میڈیا کے بے جا استعمال سے گریز کریں اور اپنی زندگی کا دوسروں کی زندگیوں سے موازنہ کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں اور حقیقی ضروریات پر توجہ دیں۔

اپنے احساسات اور پریشانیوں کو کسی قابلِ اعتماد شخص کے ساتھ شیئر کریں۔ بعض اوقات کسی کی توجہ سے سن لینا بھی انسان کے لیے بہت بڑا سہارا بن جاتا ہے۔

صرف پیسہ کمانے کی دوڑ میں خود کو نظرانداز نہ کریں۔ اپنی صحت، خاندان اور ذاتی سکون کے لیے بھی وقت نکالیں، کیونکہ صحت مند انسان ہی زندگی کے دوسرے معاملات بہتر انداز میں سنبھال سکتا ہے۔

تمام پریشانیوں کو ایک ساتھ حل کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے انہیں چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں اور ایک ایک کرکے ان کا حل تلاش کریں۔

ذہنی صحت بھی جسمانی صحت کی طرح اہم ہے۔ ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا شرمندگی کی بات نہیں، بلکہ اس کا بروقت ادراک اور مناسب مدد حاصل کرنا دانش مندی ہے۔

اگر ذہنی پریشانی مسلسل برقرار رہے یا روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو ماہرِ نفسیات یا ماہرِ امراضِ نفسیات سے رجوع کریں۔ بعض حالات میں صرف مثبت سوچ کافی نہیں ہوتی، بلکہ باقاعدہ مشاورت اور علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

یاد رکھیے، اپنا بھی خیال رکھیں اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کا بھی۔ ذہنی مسائل کا سامنا صرف بڑے ہی نہیں کر رہے، بلکہ بچے بھی مختلف وجوہات کی بنا پر ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال ہماری آنے والی نسل کی تعلیم، تربیت، شخصیت اور مستقبل پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، کام کی جگہوں اور معاشرے میں ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جہاں لوگ اپنی پریشانیوں کا اظہار بلاخوف کر سکیں، ایک دوسرے کو سمجھ سکیں اور ضرورت کے وقت مدد حاصل کر سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ بے روزگاری اور مہنگائی جیسے بنیادی معاشرتی مسائل کے حل، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور نوجوانوں کو بہتر مستقبل فراہم کرنے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ ذہنی صحت کی بہتری کے لیے انفرادی کوششوں کے ساتھ معاشرتی تعاون اور مؤثر اقدامات بھی اہم ہیں۔

کیونکہ ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد صرف معاشی ترقی نہیں، بلکہ انسان کا ذہنی سکون، احساسِ تحفظ، باہمی ہمدردی اور پُرسکون زندگی بھی ہے۔

آئیے، ہم سب مل کر ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کریں جہاں ہر فرد کو عزت، سکون اور بہتر زندگی گزارنے کا موقع میسر ہو، تاکہ ہم خود بھی ذہنی طور پر صحت مند رہ سکیں اور اپنی آنے والی نسل کو بھی ایک محفوظ، صحت مند اور پُرسکون مستقبل دے سکیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے