انصافی بھائیو ! سامنے سلیم صافی ہے

آزاد صحافی کے ایک جملے میں کتنی طاقت ہوتی ہے اسکا اندازہ سلیم صافی کے خلاف چلنے والی مہم سے لگایا جا سکتا ہے ، خلا سے اترنے والے ترجمان صحافی تو روز الزامات لگاتے رہتے ہیں مگر کبھی کسی نے توجہ نہیں دی، سلیم صافی نے ایک خبر بریک کی اور آگ بھڑک اٹھی ، سلیم صافی کے کہے ہوئے جملے میں جان اسی لیے ہے کہ وہ غلام صحافی نہیں ، تحریک انصاف والوں کو رنج یہی ہے کہ لوگ سلیم صافی کی بات پر یقین کیوں کرتے ہیں ؟ اس یقین اور اعتماد کو ختم کرنے کے لیے کبھی وہ لفافہ صحافی والا جملہ کستے ہیں اور کبھی انہیں نون لیگ کا ترجمان کہہ دیتے ہیں ، پھر بھی بات بن نہیں پاتی ، سلیم صافی صحافت کا معتبر حوالہ ہیں ، جاننے والے جانتے ہیں کہ سلیم صافی کون ہے ؟ شخصی خامیاں سلیم صافی میں بھی ہونگی مگر سلیم صافی کسی پارٹی کے ترجمان نہیں ، نون لیگ کے تو ہر گز نہیں، میری سلیم صافی سے شناسائی نہیں ، میں انہیں پروگراموں اور کالموں کی حد تک جانتا ہوں ، ذاتی زندگی میں وہ کیسے ہیں اسکا بھی علم نہیں مگر جس سلیم صافی کو میں بحثیت قاری جانتا ہوں وہ کرپٹ یا لفافہ خور نہیں ہو سکتا ،

ابھی کل کی بات ہے کہ میاں نواز شریف کی حکومت تھی ، سلیم صافی پر شریف برادران نے دروازے بند کیے رکھے ، وہ اپنے کالموں میں نواز شریف کی بادشاہت پر کڑی تنقید کرتے رہے ، وہ نون لیگ کی کچن کیبنٹ پر بھی جملے کستے رہے ، انہوں نے نواز شریف کے درباری کالم نگاروں کے خلاف بھی کئی بار لکھا ،مجھے ایسا یاد آ رہا ہے کہ عطاء الحق قاسمی کے خلاف انہوں نے باقاعدہ کالم لکھے اور انکو مراعات لینے والا کہا ، عرفان صدیقی پر کئی بار تنقید کی ، حلانکہ یہ وہ لوگ ہیں جو انکے طبقے سے ہیں ، پھر یہ لوگ جنگ جیو سے وابستہ تھے مگر صافی صاحب نے انکا خیال نہیں کیا ، سی پیک کے معاملے پر سلیم صافی نون لیگی حکومت کے خلاف کھڑے رہے ، انہوں نے اپنے علاقوں کا ڈٹ کر مقدمہ لڑا ، احسن اقبال ان سے نالاں رہے مگر سلیم صافی نے پرواہ نہیں کی ، انہوں نے اپنے علاقے کے لیے صحافتی حدود سے نکل کر بھی کردار ادا کیا ، سی پیک جیسے منصوبے پر نون لیگ کے خلاف کھڑے ہونا کوئی معمولی بات ہے ؟ یہ لفافہ صحافی کا کام نہیں ، یہ کام آزاد صحافی کیا کرتا ہے ، نون لیگ کے دور حکومت میں انہوں نے نون لیگ کو کوئی رعایت نہیں دی ، اور پھر فاٹا مرجر والے معاملے پر بھی سلیم صافی مولانا فضل الرحمن اور نون لیگ کے خلاف کھڑے ہو گئے تھے ، انہوں نے حکومت اور مولانا کو آڑے ہاتھوں لیا ، فاٹا یوتھ جرگہ کی خود سرپرستی کی اور لیت و لعل سے کام لینے پر نون لیگ کے خلاف کئی کالم لکھے ، کیا یہ کام کوئی وظیفہ خور صحافی کر سکتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ سلیم صافی کس سے لفافہ لیتا ہے ؟ اسکا نام کیوں نہیں لیا جاتا ؟ اور اب تو سلیم صافی نے کہہ دیا ہے کہ احتساب کا عمل مجھ سے شروع کیا جائے ، صحافیوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے صحافیوں کا احتساب ضروری ہے، صحافیوں سے پوچھا جائے انہوں نے مال کیسے بنایا ؟ کیا نئے پاکستان میں ایک صحافی کی بات کو جگتوں سے رد کیا جائے گا ؟ عمران خان کی حکومت کوئی مقدس گائے ہے کہ اس پر تنقید نہ کی جائے ؟

کیا لوگ نہیں جانتے کہ سلیم صافی پسماندہ اور آپریشن زدہ صوبے کا باشندہ ہے ؟ اسکے صوبے میں عمران خان کی حکومت رہی ،اگر وہ اپنے علاقوں کو کور کرتے ہیں تو اس میں برا کیا ہے ؟کیا سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے صحافی اپنی محرومیوں کا رونا نہیں روتے ؟ کیا وہ تخت لاہور کو اسکا ذمہ دار نہیں سمجھتے ؟ روف کلاسرہ اور ان جیسے دیگر لوگ اپنے کالموں میں اپنے علاقوں کی محرومیوں کا ذکر نہیں کرتے ؟ اگر یہی کام سلیم صافی کرے تو برا کیوں ہے ؟ کے پی کے میں پہلے پی ٹی آئی کی حکومت رہی ، اب مرکز ، کے پی کے اور پنجاب میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہے اگر ایک صحافی سوال پوچھے یا کوئی خبر دے تو اسکو لفافہ صحافی کے طعنے ملا کرینگے ؟ سوال حکومتوں سے نہ کیا جائے تو خس سے کیا جائے ؟ رد حکومتی دعووں کو نہ کیا جائے تو کس کو کیا جائے ؟ افسوس تو یہ ہے کہ عمران خان یہ کام اپنی نگرانی میں کروا رہے ہیں ، صافی صاحب کئی بار کہہ چکے کہ میرے پاس ثبوت موجود ہیں جن میں عمران خان میری کردار کشی کا کہتے ہیں ، ایک وزیر اعظم کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ ایک صحافی کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلوائے؟ ریاست مدینہ کے امیر المومنین کو کچھ تو خیال کرنا چاہئے ، ہاں اگر سلیم صافی نون لیگ کی تعریف کرتے رہے ہوں ؟ یا عمران خان کی ذات کو لیکر انکی برائیاں بیان کرتے رہے ہوں تو پھر تنقید کسی حد تک جائز ہے ، اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو پھر انکی ماں اور بہن کو گالی کیوں دلوائی جا رہی ہے ؟ مائیں بہنیں تو سانجھی ہوتی ہیں ،

کیا پی ٹی آئی کے پٹھان نمائندوں میں کوئی ایک بھی رجل رشید نہیں جو عمران خان سے کہہ سکے کہ صافی صاحب کی ماں بہن کو معاف کر دیں؟ مراد سعید کی بہنوں کے خلاف جب جاوید لطیف نے بکواس کی تھی تو یہی سلیم صافی تھے جنہوں نے کہا تھا کہ آئندہ کبھی میرے کسی پروگرام میں جاوید لطیف نہیں آئے گا ، طلاق کے بعد عمران خان کی ریحام خان نے کردار کشی کی، کئی لوگوں نے پروگرامز کیے مگر صافی صاحب چپ رہے ، حلانکہ صافی صاحب کا ریحام خان سے اچھا تعلق تھا وہ چاہتے تو عمران خان کی کردار کشی کروا سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا ، یقینا خاندانی تربیت آڑے آ گئی ہو گی ، انہوں نے اس موضوع پر بات تک نہیں کی ، افسوس کہ عمران خان اور انکی پارٹی یہ سب کچھ بھول گئی ، انہیں کچھ یاد ہی نہیں رہا ، کیا یہ مہم سلیم صافی کو کمزور کر دے گی ؟ نہیں ہر گز نہیں بلکہ یہ مہم سلیم صافی کو مزید مضبوط کرے گی کیونکہ سامنے کوئی اور نہیں بلکہ سلیم صافی ہے ، آپ نے چودہ کے دھرنے کے بعد پنگا لیکر دیکھ لیا ہے ، وہ دبے نہیں آگے بڑھے ہیں،اور اب بھی ان شاء اللہ آگے بڑھیں گے ،سلیم صافی کرپٹ ہیں تو انکے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے، دعوے سے کہتا ہوں عمران خان سے یہ کام کبھی نہیں ہو سکے گا کیونکہ انہیں معلوم ہے جو لوگ انکی حمایت کرتے ہیں کل وہ ریڑھی لگایا کرتے تھے اور آج پورے ٹاؤن کے مالک ہیں ، جو سائیکلوں پر فلم کی سی ڈیز بیچا کرتے تھے اب وہ جہازوں کے مالک ہیں ، ان سے پوچھ لیا جائے گھڑی کتنے کی لی تو گالیاں بکنا شروع ہو جاتے ہیں ، عمران خان انکے خلاف کیسے تحقیقات کا آغاز کر سکتے ہیں ؟ بھلا محسنوں کو کوئی ناراض کرتا ہے ؟ مبشر لقمان ، حسن نثار ، صابر شاکر ، حمید بھٹی کو ہیرو ماننے والی قوم سلیم صافی کو صحافت سکھانے چلی ہے، پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے ؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے