اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ۔ ف) کے آزادی مارچ کا جلسہ ایچ 9 گراؤنڈ میں جاری ہے جس سے اپوزیشن کی مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے جلسے سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے 3 دن کی مہلت دے دی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایک دن آج کا اور اگلے دو دن، اس دوران وزیراعظم استعفیٰ دے دیں۔
مولانا فضل الرحمان نے جلسے کے شرکاء سے پوچھا کہ کیا آپ لوگ استعفے سے کم پر مانو گے؟ جس پر شرکاء نے یک زبان ہوکر ’نہیں‘ کے نعرے لگائے۔
اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم مزید صبرو تحمل کا مظاہرہ نہیں کرسکتے، ہم اداروں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں، ہم اداروں کےساتھ تصادم نہیں چاہتے، لیکن ہم اداروں کو غیر جانبدار بھی دیکھنا چاہتے ہیں، عوام کا فیصلہ آچکا ہے، حکومت کو جانا ہی جانا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دھرنے کے شرکاء ڈی چوک کی طرف جانا چاہتے ہیں، میں نے آپ کی بات سن لی ہے، نواز شریف نے بھی سن لی ہے، آصف علی زرداری نے بھی سن لی ہے اور ہم جنہیں سنانا چاہ رہے ہیں وہ بھی سن لیں۔
مولانا نے کہا کہ عوام کا یہ سمندر طاقت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کے گھر جاکر وزیراعظم کوگرفتار کرلے۔