گاؤں کی وہ دِلکش صبح یاد آئی

آج صبح صبح استاد نصرت فتح علی خاں کی آواز میں قوالی سنتے ہوئے اپنا لڑکپن یاد آیا۔ وہی قوالی کہ جس کے بول ہیں” مرے بعد کِس کو ستاو گے“

گاؤں اور شہر کے درمیان پرانے اسٹائل کی بیڈ فورڈ یا نسان بسیں چلا کرتی تھیں، صبح سویرے بہت ساری چڑھائی چڑھ کر دوسرے گاوں میں بنے اڈے تک پہنچنا زندگی کا دلچسپ تجربہ رہا ہے،اگر کبھی بس نکلنے کا وقت ہو جائے لیکن ہمارے اور بس کے درمیان ابھی کچھ فاصلہ اور پہاڑ کی اوٹ ہو تو ایسے میں بس کا الوداعی ہارن سننا دِل کی دھڑکنوں کو عجیب بے ربط اور سانسوں کو بے ہنگم کر دیا کرتا تھا لیکن پھر بھی کسی طرح دوڑ لپک کر ہم پہنچ ہی جاتے تھے۔

ڈرائیور لوگ دن کے آغاز میں قوالی یا قوالی کے طرز کے گانے سننا برکت کی چیز سمجھتے تھے۔ بس چلتی تو قوالی بھی شروع ہو جاتی، ڈھلوانی سڑک پر سفر کے دوران جہاں جہاں کوئی قبرستان آتا، ڈرائیور وہاں احتراماً میوزک کا والیم پست کر دیتا، ایک ہاتھ سے دعائیہ پوز بنا کر ہاتھ منہ پر پھیر لیتا اور کچھ مسافر بھی اس کی تقلید کرتے، قبرستان گزر جانے کے بعد قوالی یا میوزک پھر چلنے لگتا۔ ٹوٹی پھوٹی سڑک پر ہچکولے کھاتی بس میں سب لوگ جُھومتے نظر آتے تھے۔

بس میں مرد، خواتین، مسٹر، صوفی اور مولوی سب بیٹھے ہوتے تھے لیکن کسی کو ان قوالیوں پر مروڑ نہیں اُٹھتی تھی۔ علاقے کے معزز سمجھے جانے والے افراد (جیسے اساتذہ اور سماجی حیثیت رکھنے والے بزرگوں) کے لیے عموماً ڈرائیور کے پیچھے والی سیکنڈ سیٹ مختص ہوتی تھی۔ خاتون کوئی بھی ہو، اسے بہرصورت سیٹ ملتی تھی چاہے کسی لڑکے بالے کو اٹھنا ہی کیوں نہ پڑے۔ گویا یہ سوا ڈیڑھ گھنٹے کا سفر انسانوں کی پر امن بقائے باہمی کا ایک کامیاب اور دلچسپ تجربہ بن جاتا تھا۔

تصویر: سلمان عالم خان

بسوں کی چھتوں پر بیٹھنا بھی بھولنے والی چیز نہیں۔ تصور کیجیے کہ ایک بس کشمیر کی کسی سرسبز پہاڑی پر بنی بل کھاتی ہوئی سڑک پر مسلسل دوڑ رہی ہو، اِردگرد گھنے جنگل اور خوبصورت دیہاتوں کا منظر ہو اور آپ کھلی ہوا میں چھت پر بیٹھے ان سب چیزوں کا لطف لے رہے ہوں ، وہ لمحے کیسے ہوں گے؟

ایک اور بات جو مجھے یاد رہ گئی وہ سڑک کے کناروں پر چلنے والی گاوں کی وہ عورتیں یا دوشیزائیں ہیں جو سر پر گاگریں ، گھاس یا لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے چل رہی ہوتیں، وہ جونہی کوئی چھوٹی بڑی گاڑی سامنے سے آتے دیکھتیں تو اپنے چہروں پر چادر سِرکا لیتیں یا پھر دوسری جانب منہ کر کے گاڑی کے گزر جانے کا انتظار کرتیں۔ یہ ادا بھی انہی علاقوں کے ساتھ خاص ہے۔

کشمیر کی صبحوں کی ایک خاص چیز کا تصور تو مجھے آج بھی نہال کر دیتا ہے۔ بہار کے دِنوں میں اگر آپ صبح سویرے اسکول جا رہے ہوں یا اس بس میں سفر کر رہے ہوں تو آس پاس کے گھروں سے ناشتوں کی خوشگوار سی مہک آتی تھی، پراٹھوں کی مہک، اسکول کا راستہ کئی گھروں کے ساتھ یا محلوں کے بیچ سے ہو کر گزرتا تھا،اس لیے مہک کا یہ احساس ذہن میں اس قدر راسخ ہو چکا ہے کہ یہ لفظ لکھتے ہوئے بھی میں وہ مہک محسوس کر رہا ہوں۔

بات قوالی سے نکلی اور پراٹھوں کی مہک تک نکلتی چلی گئی، لوگوں کو عموماً ماضی کو یاد کرنا اچھا لگتا ہے اور اگر اس کی جھلکیاں ایسی دلفریب ہوں تو آدمی ان یادوں کے رومان میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

نئے زمانے کی حقیقیں بڑی بے رحم ہیں ، عہد موجود میں جینے والے لوگ اسی لیے ماضی پرستوں کو escapist قرار دیتے ہیں۔ لیکن میرا ماننا یہ ہے کہ ماضی پرستی میں مبالغہ درست نہیں لیکن کبھی کبھار اپنے قلب و ذہن میں یادوں کا میلہ لگا لینا اچھا ہوتا ہے۔

ماضی کو rewind کرنے کی آپشن نہیں ہوتی لیکن اس کے کچھ دِلفریب عکس ذہن کی اسکرین پر کبھی کبھار اُبھر ہی آتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں ایسی یادیں بھی آج کے اُلجھے ہوئے آدمی کے لیے کسی leisure سے کم نہیں اور آج میں نے اس leisure کا لطف لیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے