جمعرات : 11 فروری 2021 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]لداخ : بھارت اور چین نے فوجیں پیچھے ہٹانی شروع کر دیں[/pullquote]

خطہ لداخ میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے چین اور بھارت کے درمیان ایک سمجھوتہ طے پا گيا ہے، جس کے تحت فریقین نے بعض مقامات سے اپنی فوجیں پیچھے ہٹانی شروع کر دی ہیں۔ بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے مطابق ابھی صرف پینگانگ جھیل کے شمالی اور جنوبی کناروں سے فوجوں کو پیچھے ہٹانے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے جبکہ دیگر متنازعہ علاقوں سے متعلق فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان مشرقی لداخ میں ایل اے سی پر تنازعے کی ابتدا گزشتہ برس مئی میں ہوئی تھی اور جون کے وسط میں وادی گلوان میں دونوں فوجیوں کے درمیان ہونے والے ایک تصادم میں بھارت کے 20 فوجی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

[pullquote]جو بائیڈن کی چینی سربراہ مملکت سے ٹیلی فون پر بات چیت[/pullquote]

منصب صدارت سنبھالنے کے تین ہفتے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے پہلی بار اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے مطابق بائیڈن نے بیجنگ کی معاشی سرگرمیوں، ہانگ کانگ میں جبر اور سنکیانگ میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے بارے میں اپنے ’’بنیادی خدشات‘‘ کا اظہار کیا۔ دونوں سربراہان مملکت نے کووڈ انیس کی وبائی بیماری کے خلاف جنگ، عالمی صحت اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے مشترکہ چیلنجوں کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

[pullquote]یورپی یونین کا معیشت کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر کے امدادی پیکج کا اعلان[/pullquote]

یورپی یونین کے ارکان پارلیمان نے معیشت کی بحالی کے لیے 815 ارب ڈالر کے ریکوری فنڈ کی بھاری اکثریت سے منظوری دے دی ہے۔ یہ مالی پیکج یورپی یونین کے کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی معیشتوں کو دوبارہ بحال کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ یہ فنڈنگ آئندہ تین برس تک کے لیے دستیاب ہو گی اور یورپی یونین کی حکومتیں اپنی معیشتوں کی بحالی کے منصوبوں کے لیے تیرہ فیصد تک مالی اعانت کی درخواست کر سکتی ہیں۔ اٹھارہ یورپی ممالک یہ فنڈنگ حاصل کرنے کے لیے اپنی درخواستیں پہلے ہی یورپی کمیشن میں جمع کرا چکے ہیں۔

[pullquote]مشرق وسطیٰ میں کووڈ انیس سے ایک لاکھ افراد ہلاک ہوئے، رپورٹ[/pullquote]

نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2019 ء سے اب تک کووڈ انیس کی مہلک بیماری سے متاثر ہو کر مشرق وسطیٰ میں مجموعی طور پر ایک لاکھ افراد ہلاک ہو چُکے ہیں۔ اس پورے خطے میں مجموعی طور پر کورونا انفیکشن میں مبتلا افراد کی تعداد چار لاکھ ننانوے ہزار سات سو ستر بنتی ہے۔ اموات کے حوالے سے مشرق وسطیٰ دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ کورونا سے متاثرہ خطہ ہے۔ تاہم مشرق وسطیٰ کورونا متاثرین کے اعداد و شمار کے حوالے سے یورپ، وسطی امریکا، کینیڈا، لاطینی امریکا اور ایشیا سے پیچھے ہے۔

[pullquote]میانمار کی فوج کے خلاف امریکی پابندیوں کا اعلان[/pullquote]

میانمار میں فوجی بغاوت کے دس دن بعد امریکا نے اس ملک کے چوٹی کے جرنیلوں، ان کے اہل خانہ اور فوج کے ساتھ تعاون کرنے والی کمپنیوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے میانمار میں جمہوریت کی فوری واپسی اور سیاسی رہنما آنگ سان سوچی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دریں اثناء ہزاروں افراد نے ایک بار پھر ملک بھر میں فوج کے خلاف احتجاج کیا۔ اسی دوران سوچی کی پارٹی نیشنل لیگ برائے جمہوریت نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے متعدد سیاستدانوں اور عہدیداروں کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے۔

[pullquote]خواتین کے حقوق کی سعودی علمبردار لجین الھذلول کی رہائی[/pullquote]

سعودی عرب نے خواتین کے حقوق کی کارکن لجین الھذلول کو تقریباً تین برس تک قید میں رکھنے کے بعد بدھ کے روز رہا کر دیا ہے۔ ان پر سعودی سیاسی اور سماجی نظام میں خلل ڈالنے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ امریکا نے ان کی رہائی کا خیر مقدم کیا ہے۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تقریباً ایک درجن خواتین کے ہمراہ لجین کو مئی 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے سعودی عرب میں خواتین کے کار چلانے پر عائد پابندی کے خلاف مہم چلائی تھی۔ الھذلول کی گرفتاری کے تین ہفتے بعد ہی سعودی حکومت نے اس پابندی کو ختم کر دیا تھا۔

[pullquote]ترکی کا قبرص کے لیے دو ریاستی حل پر اصرار[/pullquote]

ترکی نے بحیرہ روم کے جزیرے قبرص کو فیڈریشن یا ’وفاق‘ بنانے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ اس تجویز کو یونان اور یونانی اکثریتی جمہوریہ قبرص کی حمایت حاصل ہے۔ ترکی اس کی بجائے دو ریاستی حل پر اصرار کر رہا ہے۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ یہ تنازعے کا واحد ممکنہ حل ہے۔ ترک صدر کی طرف سے یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مبنی بحیرہ روم کے جزیرے کے امن معاہدے کے یونانی اور قبرص کے مطالبات کا جواب ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ بھی وفاقی ریاست کے قیام کے حق میں ہے۔

[pullquote]ویکسین کی منظوری میں تاخیر، یورپی کمیشن کی طرف سے غلطیوں کا اعتراف[/pullquote]

یورپی کمیشن کی صدر اُرزولا فان ڈیئر لائن نے کہا ہے کہ وہ کورونا ویکسین کی فراہمی میں حائل مزید رکاوٹوں کو روکنا چاہتی ہیں۔ یورپی ممالک میں اس وقت کورونا ویکسین کی سست رفتار فراہمی کے حوالے سے اُرزولا فان ڈیئر لائن نے اس امر کا اعتراف کیا کہ ویکیسن کی منظوری کے عمل میں تاخیر ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ کورونا ویکسین کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو ہر ممکنہ حد تک دور کیا جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے ویکسینیشن کے ہدف کے بارے میں بتایا کہ گرمیوں کے آخر تک یورپ میں 70 فیصد بالغ افراد کی ویکسینیشن مکمل کر لی جائے گی۔ یورپی ممالک، خاص طور سے جرمنی میں کورونا ویکسین کی عدم دستیابی کے سبب یورپی یونین پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

[pullquote]جرمنی میں کورونا لاک ڈاؤن میں مزید توسیع[/pullquote]

جرمنی میں کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لیے لاک ڈاؤن میں سات مارچ تک کی توسیع کر دی گئی ہے۔ تاہم حجاموں کو رعایت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر وہ حفظان صحت کے تقاضوں پر سختی سے عمل کریں تو یکم مارچ سے وہ دوبارہ اپنی دکانیں کھول سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز چانسلر انگیلا میرکل اور جرمنی کے ریاستی وزرائے اعلیٰ نے وبائی مرض سے نمٹنے کے طریقوں پر صلاح و مشورے کے دوران کیا۔ اسکول اور کنڈر گارٹن دوبارہ کھولنے کا فیصلہ پورے ملک میں یکساں طور پر نہیں کیا جا سکتا اس لیے اسے وفاقی ریاستوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

[pullquote]بریگزٹ تجارتی معاہدے کی توثیق بعد میں ہو گی[/pullquote]

یورپی کمیشن کو برطانیہ کے ساتھ بریگزٹ تجارتی معاہدے کی توثیق کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ لہذا معاہدے کا اطلاق اپریل کے آخر تک عارضی طور پر ہوگا۔ اس طرح یورپی یونین کو 24 زبانوں میں اس معاہدے پر قانونی اور لسانی نظر ثانی جبکہ یورپی پارلیمان اور کونسل میں اس کی جانچ پڑتال کے لیے مزید وقت مل جائے گا۔ اس بارے میں یورپی یونین کی ریاستوں بلکہ برطانیہ کو بھی ڈیڈ لائن میں توسیع پر اتفاق کرنا ہو گا۔

[pullquote]آن لائن کمپنیوں کو صارفین کے نجی ڈیٹا کو مزید محفوظ بنانا ہو گا، یورپی یونین[/pullquote]

کئی برسوں کی رکاوٹ کے بعد یورپی یونین کے رکن ممالک نے بنیادی طور پر نام نہاد ’ای پرائیویسی‘ قانون میں اصلاحات پر اتفاق کر لیا ہے۔ آن لائن خدمات فراہم کرنے والے اداروں جیسے واٹس ایپ یا زوم کو اپنے صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت کے لیے سخت ضوابط پر عمل کرنا ہو گا۔ اس مجوزہ قانون کو حتمی شکل دینے کے لیے اب یورپی پارلیمان کی منظوری باقی ہے۔ یہ قانون 2017ء سے رکن ممالک میں بحث و مباحثے کا سبب بنا ہوا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے