جمعرات : 22 اپریل 2021 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]ادریس دیبی کے بیٹے کو چاڈ کا عبوری صدر بنا دیا گیا[/pullquote]

چاڈ کے مارے جانے والے صدر ادریس دیبی کے بیٹے محمد ادریس دیبی کو عبوری طور پر ملک کا نیا سربراہ بنا دیا گیا ہے۔ اڑسٹھ سالہ ادریس دیبی پیر کے روز جنگجوؤں کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔ ملکی فوج کا کہنا ہے کہ محمد ادریس دیبی کو عبوری صدر بنانے سے ملک میں استحکام پیدا ہو گا، تاہم اپوزیشن نے اس تقرری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ادریس دیبی تین عشروں تک اس وسطی افریقی ملک کے سربراہ رہے تھے۔ ان کی آخری رسومات جمعے کو ادا کی جائیں گی، جن میں فرانسیسی صدر ماکروں سمیت کئی اعلیٰ مغربی شخصیات بھی شریک ہوں گی۔

[pullquote]افغانستان سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس مؤخر[/pullquote]

افغانستان سے متعلق ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔ اس کانفرنس میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد اس ملک میں شراکت اقتدار کے بارے میں مذاکرات کیے جانا تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اس کانفرنس کی کامیابی کے امکانات انتہائی کم تھے، اس لیے اسے ملتوی کر دیا گیا۔ جرمن وزارت دفاع کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ نئے منصوبے کے تحت افغانستان میں تعینات نیٹو افواج میں شامل جرمن دستوں کا انخلا چار جولائی سے شروع ہو جائے گا۔ امریکی صدر بائیڈن اعلان کر چکے ہیں کہ واشنگٹن گیارہ ستمبر تک افغانستان سے اپنا فوجی انخلا مکمل کر لے گا۔

[pullquote]بھارت میں یومیہ بنیادوں پر کورونا انفیکشنز کا نیا ریکارڈ[/pullquote]

بھارت میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس ملک میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران تین لاکھ چودہ ہزار نئی انفیکشنز رجسٹر کی گئیں، جو کسی بھی ملک کے لیے یومیہ بنیادوں پر ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے۔ یوں بھارت میں کووڈ انیس سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباﹰ سولہ ملین ہو گئی ہے۔ اس صورت حال میں ملکی نظام صحت مفلوج ہو گیا ہے جبکہ ہسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے سہولیات کا فقدان بھی ایک شدید مسئلہ بن چکا ہے۔ نئی دہلی ہائی کورٹ نے حکم دیا ہے کہ حکومت صنعتی استعمال کے بجائے آکسیجن کی کورونا کے مریضوں کے لیے دستیابی کو یقینی بنائے۔

[pullquote]کورونا کی وبا سے متعلق نئے قانون کے خلاف برلن میں مظاہرے[/pullquote]

جرمن دارالحکومت برلن میں گزشتہ روز ہزاروں مظاہرین نے نئے کورونا قانون کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اس دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے مابین تصادم بھی ہوا۔ پولیس کے مطابق تقریبا ڈیڑھ سو مشتعل مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ کم ازکم آٹھ ہزار افراد اس نئے ملکی قانون کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔ میرکل حکومت نے ایک نیا قانون پاس کیا ہے، جس کے تحت کووڈ انیس کی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے سخت تر اقدامات ممکن ہو گئے ہیں۔ جرمنی میں کورونا کی وبا کی تیسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے

[pullquote]شام میں اسرائیل کی جوابی کارروائی[/pullquote]

اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شام میں میزائل داغے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ شام کی طرف سے جنوبی اسرائیل میں واقع ایک خفیہ جوہری ری ایکٹر پر ایک میزائل فائر کیا گیا تھا، جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔ اس کارروائی کو گزشتہ کئی برسوں کے دوران دونوں ہمسایہ ممالک کے مابین طاقت کے سنگین استعمال کا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ شامی سرزمین سے اسرائیل پر کیے گئے حملے میں ایران ملوث ہو سکتا ہے۔ تہران حکومت کا الزام ہے کہ اسرائیل نے نطنز کے شہر میں اس کے ایک جوہری مرکز پر حملہ کیا تھا۔

[pullquote]حوثی باغیوں کا ڈرون حملہ ناکام بنا دیا، سعودی عسکری اتحاد[/pullquote]

سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے کہا ہے کہ یمن میں سرگرم ایران نواز حوثی باغیوں نے سعودی شہر خمیس مشیط میں ڈرون حملہ کرنے کی کوشش کی، جو ناکام بنا دی گئی۔ سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس ڈرون کے ذریعے راکٹ حملہ کیا گیا لیکن اس راکٹ کو ہوا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ حوثی باغیوں کے ایک ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ خمیس مشیط میں واقع ایک فوجی چھاؤنی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ حوثی باغیوں اور سعودی عسکری اتحاد کے مابین سن دو ہزار پندرہ سے مسلح تنازعہ جاری ہے۔

[pullquote]کلائمیٹ سمٹ میں امریکا کا نیا ہدف[/pullquote]

انٹرنیشنل کلائمیٹ سمٹ سے قبل امریکا نے کہا ہے کہ واشنگٹن حکومت ان عالمی کوششوں میں شامل ہو گی، جن کے تحت جہاز رانی کی عالمی صنعت کی وجہ سے زہریلی کاربن گیسوں کے اخراج کو شرح سن دو ہزار پچاس تک صفر کر دینے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ امریکا کے ماحولیاتی امور کے لیے مندوب جان کیری کے بقول اس حوالے سے واشنگٹن قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی سربراہی میں ہونے والی اس ورچوئل سمٹ میں چالیس ممالک کے رہنما شریک ہوں گے۔ ڈیموکریٹ صدر بائیڈن تحفظ ماحول کو اپنی سیاسی ترجیحات کا ایک اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔

[pullquote]روس میں اپوزیشن رہنما ناوالنی کے حق میں مظاہرے[/pullquote]

روسی دارالحکومت ماسکو میں اپوزیشن رہنما الیکسی ناوالنی کے حق میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا۔ روسی حکومت کے ناقد ناوالنی اس وقت زیر حراست ہیں اور انہوں نے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ناوالنی کو مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ پولیس کے مطابق کم از کم چھ ہزار افراد نے اس پرامن مظاہرے میں شرکت کی۔ روس کے دوسرے سب سے بڑے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں بھی ناوالنی کے حق میں مظاہرہ کیا گیا، جس میں ساڑھے چار ہزار افراد شریک ہوئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے