اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 23 جون تک ملتوی کردی گئی۔
نواز شریف اور مریم نواز کی سزا کے خلاف اپیلوں پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی اور دوران سماعت عدالتی معاون اعظم نذیر تارڑ نے دلائل دیے۔
انہوں نے دلائل میں کہا کہ عدالت نے تمام فریقین کو ایک ہی نظر سے دیکھنا ہے، اس بات سے انکار ممکن نہیں مختلف کیسز کے فیصلوں کے اثرات کا فرق ہوتا ہے، اس کیس میں صرف سزا معطلی کا عارضی ریلیف دیا گیا ہے، اس کیس میں ڈس کوالیفیکیشن موجود ہے، کسی ملزم کی غیر موجودگی میں ٹرائل کو غلط قرار دیا گیا ہے لہٰذا اس صورت میں اپیل کنندہ سامنے نہ ہو تو اپیل بھی نہیں سننی چاہیے۔
اس دوران جسٹس عامر فاروق نے اسستفسار کیا کہ نیب پراسیکیوٹرنے استدعا کی کہ میرٹ پر اپیل مسترد کی جائے۔
اس پر اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ سیاسی وابستگی کو بالائے طاق رکھ کر بات کروں گا، ذوالفقار علی بھٹو کیس اگر ان کے سوا کسی اور کا ہوتا تو آج تک یاد نہ رکھا جاتا، سیاسی کیسز نہ صرف قانون کی کتابوں میں بلکہ سیاسی تاریخ میں بھی کندہ ہوتے ہیں، ایسی مثالیں ہیں کہ غیرموجودگی میں ہائیکورٹ نے اپیلیں سن لیں پھر سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ غیرموجودگی میں ٹرائل بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے، نیب کہتا ہے اس اپیل کو اب میرٹ پر خارج کیا جائے لیکن یہ اپیل سماعت کیلئے منظور ہو چکی ہوئی تھی تو اب اپیل کرنے والے موجود نہیں تو کیا کریں؟
عدالتی معاون نے جواب میں کہا کہ عدالتوں کی کچھ نظیریں موجود ہیں، عدالتیں کہتی رہیں کہ اس صورتحال میں فیصلہ میرٹ پر نہ ہو، میں کوئی بھی سیاسی وابستگی ایک طرف رکھ کر بات کر رہا ہوں، ایسی صورتحال میں وہ راستہ اپنانا چاہیے جس سے کسی کا نقصان نہ ہو، ایسے مقدمات کا ایک اثر ہوتا ہے جس کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، سیاسی مقدمات صرف قانون کی کتابوں میں نہیں بلکہ تاریخ کی کتابوں میں بھی رہتے ہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے دلائل دیے کہ مجھے اپنے ادارے عدلیہ کا وقار عزیز ہے، نواز شریف کی نااہلی اور سزا دونوں اس وقت برقرار ہیں، اس وقت مزید ایسا کچھ نہیں کرنا چاہیے جس سے عدلیہ پر حرف آئے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں کچھ نکات پر مزید معاونت اگلی تاریخ پر کروں گا۔
ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے دلائل میں کہا کہ نوازشریف کا حق سماعت پہلے ہی ختم کیا جا چکا ہے، اس عدالت نے ہر پہلو کا جائزہ لے کر ہی ایسا کیا تھا، اب اس سٹیج پر نواز شریف کی اپیل خارج ہی کی جائے۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ میرٹ پر آپ کو سن کر کریں یا ایسے ہی؟ آپ کہہ کیا رہے ہیں؟
نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھاکہ شواہد میں بھی جائے بغیر اشتہاری ہونے پر اپیل خارج ہو سکتی ہے، میں عدالت کے سامنے عدالتی حوالے بھی پیش کر دوں گا۔
جہانزیب بھروانہ نے عدالت سے درخواست کی کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا برقرار رکھی جائے جبکہ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کی سزا بڑھائی جائے۔
ہائیکورٹ نے اعظم نذیر تارڑ کی مزید عدالتی معاونت کیلئے مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے اپیلوں پر سماعت 23 جون تک ملتوی کردی۔