پاکستان کے ضلع راولپنڈی کے مضافاتی علاقے واہ کینٹ میں واقع پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے ایک پلانٹ میں دھماکے سے تین اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔
واہ میں پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے مختلف کارخانے ہیں جہاں اسلحے اور گولہ بارود کے علاوہ پاکستان کی مسلح افواج کی وردیاں بھی تیار ہوتی ہیں۔ یہاں تیار کیے جانے والا اسلحہ پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق یہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے پیش آنے والا حادثہ ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حادثے کی جگہ کو کلیئر کر دیا گیا ہے اور پی او ایف کی ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے صورتحال پر قابو پا لیا ہے۔
دھماکے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر اور ویڈیوز گردش کرنے لگی تھیں جن میں دھوئیں کے کالے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔ بعض افراد نے ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دھماکے سے آس ہاس واقع بعض گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔
پاکستان آرڈیننس فیکٹری 1951 میں قائم کی گئی تھی۔
تقسیم کے وقت پاکستان کے حصے میں کوئی آرڈیننس فیکٹری نہیں آئی تھی کیونکہ اس وقت تک قائم ہونے والی تمام اسلحے کی فیکٹریاں بھارت کے حصے میں آئی تھیں۔ اسی بات کے پیشِ نظر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان نے قیامِ پاکستان کے صرف چار ماہ بعد تھری ناٹ تھری رائفل اور اس کی گولیاں بنانے کا ایک یونٹ لگانے کے احکامات جاری کیے۔ واہ میں چار آرڈیننس یونٹس کا سنگِ بنیاد ملک کے دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین نے رکھا تھا۔