مقاصد کی اک لمبی فہرست سامنے ہے اور رضوان گل مسلسل مجھے گھور رہا ہے اسے پریشانی ہے کہ میں کیا سوچ رہا ہوں.
"کیا مقاصد بھی جینے کی وجہ ہو سکتے ہیں ؟” اس نے بالآخر سکوت توڑا
"ہاں! ایک بڑی وجہ ” میں چونکا.
کچھ کرنے کا مقصد, کچھ پا لینے کی خواہش ہی تو انسان کو جوان رکھتی ہے. یاد رکھیے ہر انسان ایک خیال ہے, ایک سوچ, ایک خواب. اور انسان نہیں مرتا, دراصل, یہ خواب یہ خیال مرتا ہے. اگر کسی کو مارنا ہو اسکا خواب مار دو. دن بدن گھلتا جائے گا.
سچا خواب وہ ہے جو انسان کو سونے نہیں دیتا کہ چاند کی جستجو کرنے والا ستاروں کے جھرمٹ میں ضرور جا گرتا ہے. کائنات کا اصول ہے کہ بقا کا راز فنا میں ہے اور فائدے والے کو بہرحال نقصان اٹھانا پڑتا ہے. حاصل کی تلاش میں گرنا مسئلہ نہیں ہے, البتہ گرے رہنا مسئلہ ہے.
ہر نوزائیدہ ایک نیا خواب ہے اس کی تعمیر میں سالوں درکار ہیں. کئی سردیاں, کئی گرمیاں. تب جا کر اک خیال جوان ہوتا ہے. اقبال کی نرگس ہزاروں سال اپنی بے نوری پہ روتی ہے کہ کب اسکا شاہین قابل پرواز ہو.
تو اب یہاں قدرت کا اک راز سمجھیے! جی بالکل
جینے کا طریقہ صبر اور برداشت میں پوشیدہ ہے. زندگی کی رمق میں صبر و برداشت کا چولی دامن کا ساتھ ہے.
کائنات لاکھوں سال پہلے وجود میں آئی. چشم و فلک نے ان گنت مناظر دیکھے. مگر قدرت اسی طرح صبر و برداشت سے زندگی کی انتہا کا انتظار کر رہی ہے. یہ ثابت کرتا ہے کہ جینے کا مقصد صبر و تحمل کا واضح اعلان ہے. جسے معاشرے میں فورا پروان چڑھایا جائے.
رضوان کی دلچسپی امڈ کر اسکی زبان پہ آگئی.
چہک کر بولا, "اچھا! واہ
اور کیا وجہ ہو سکتی ہے؟”
جینے کی اک بڑی وجہ امید ہے. سامنے بیٹھا بشیر احمد اس امید پر جوان ہے کہ اسے جلد یا بدیر اپنی سکینہ کے ہاتھ پیلے کرنے ہیں. غریب مزدور خوشحالی کی آس میں اینٹیں پکا رہا ہے کہ اسکا واحد جواں سالہ عبدالشکور پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے گا تو اس کے دن پھر جائیں گے. امید کا یہ زاویہ ہر عینک کے حساب سے مختلف ہے. امیر کا زاویہ نظر غریب سے کوسوں مختلف ہے. لیکن زندگی کی رمق میں امید کا کردار دونوں جانب یکساں ہے.
دھرتی کے باسیوں کو زندہ رکھنے کے لیے امید کا دیا جلتے رہنے دینا چاہیے کہ اسی میں گردش حیات ہے. اسی طرح
معافی کا معاملہ زندگی کی رگوں میں خون کا کام کرتا ہے. لوگوں کی خامیاں نظر انداز کرنا, انہیں معاف کرنا قدرت کا پسندیدہ فعل ہے. قدرت آج خامیوں پرپکڑ ڈھکر شروع کر دے تو چند لمحوں میں زندگی ختم ہو جائے. اسلام میں بار حا معافی کی تاکید کی گئی ہے
حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا :”جو شخص چاہتاہے کہ اس کے رزق میں وسعت وفراخی اور اس کی اجل میں تاخیر کی جائے (یعنی اس کی عمر دراز ہو) تو اس کو چاہیے کہ وہ رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور احسان کرے“۔
"اچھا زندگی کی تعریف کیا ہے؟”
اس نے فورا سوال داغا.
زندگی کی تعریف انسان کے حالات و واقعات, ماحول, سوچ اور شوق کی وجہ سے بیان کی جاتی ہے.
نصرت فتح علی خان کو زندگی قوالی کی دھن میں نظر آتی ہے. ٹنڈولکر کے نزدیک زندگی کرکٹ کا گراؤنڈ ہے. امیتابھ بچن کو زندگی سینما کی چکا چوند رنگینیوں میں نظر آتی ہے. منصور کا نعرہ اناالحق اسکا سرمایہ حیات ہے. ایدھی جیسی روحیں دوسروں کو سانس دے کر زندگی کا مزہ لیتے ہیں.
اسی طرح زندگی منٹو کے لئے اک آہ ہے کہ جسے واہ میں لپیٹ کر پیش کیا گیا ہے. جہاں
جون ایلیا کا شکوہ ہے کہ
جو گزاری نہ جا سکی ہم سے
ہم نے وہ زندگی گزاری ہے
وہیں ناسخ قدرے پر امید ہے کہ
زندگی زندہ دلی کا ہے نام
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
دلائی لامہ کے نزدیک خوشی کا حصول فلسفہ حیات ہے. کیٹس کے نزدیک زندگی عشق کا مجموعہ ہے. فیض احمد فیض کی زندگی امید ہے.
پس زندگی اس ہر شخص کے حساب سے مختلف ہے.زندگی بہر کیف خدا کا اک حسین تحفہ ہے اسے بیش قیمت سمجھ کر با مقصد طریقے سے گزارا جائے کہ جب جائیں تو بارگاہ الٰہی میں سرخرو ہوں.
بقول میر
کہیں کیا جو پوچھے کوئی ہم سے میرؔ
جہاں میں تم آئے تھے کیا کر چلے