پاکستان ورلڈ کپ سے باہر، میچ چاہے ہار گئے مگردل جیت گئے

آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اب تک ناقابل شکست رہنے والی پاکستان ٹیم آسٹریلوی قلعہ فتح کرنے میں ناکام رہی اور ورلڈ کپ سے باہر ہوگئی جبکہ آسٹریلیا فائنل میں پہنچ گیا۔

پاکستان نےآسٹریلیا کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز بنائے، محمد رضوان 67 اور فخر زمان 55 رنز بناکر نمایاں رہے۔

آسٹریلیا نے 177 رنز کا ہدف 19 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرکے ایونٹ میں ناقابل شکست رہنے والی پاکستان ٹیم کو شکست دی۔ میتھیو ویڈ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

دبئی میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف بھی اپنی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

پاکستان کیلئے اچھی خبر یہ تھی کہ ڈاکٹرز نے شعیب ملک اور محمد رضوان کو میچ کے لیے فٹ قرار دیا اور وہ آج میچ کا حصہ تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان متحدہ عرب امارات میں گزشتہ 16 ٹی ٹوئنٹی میچز میں ناقابل شکست تھا جبکہ آسٹریلیا آئی سی سی ایونٹ میں پاکستان کے خلاف تمام 5 ناک آؤٹ میچز جیتا چکا ہے۔ پاکستان یہ تاریخ نہیں بدل سکا۔

[pullquote]پاکستان کی اننگز[/pullquote]

پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز بنائے، محمد رضوان 67 اور فخر زمان رنز 55 بناکر نمایاں رہے۔

پاکستانی اوپنرز نے آسٹریلیا کے خلاف بھی ٹیم کو شاندار آغاز فراہم کیا اور دونوں کے درمیان 71 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی۔

پاکستان کی پہلی وکٹ 10 ویں اوور میں گری جب کپتان بابر اعظم 34 گیندوں پر 39 رنز بناکر زمپاکی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

بابر اعظم نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف شاندار چوکے سے اپنا کھاتا کھولا اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھو ہیڈن کو پیچھے چھوڑ دیا۔

میتھو ہیڈن نے 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں 265 رنز بنائے تھے جس سے زیادہ اب بابر کے رنز ہوگئے ہیں۔

ایک وکٹ گرنے کے بعد محمد رضوان اور فخر زمان کے درمیان 72 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی۔

پاکستان ٹیم کا مجموعی اسکور 143 رنز پر پہنچا تو رضوان 67 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اسٹارک کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

محمد رضوان ایک کیلنڈر ائیر میں ایک ہزار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رنز بنانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے

محمد رضوان نے آسٹریلیا کے خلاف 67 رنز کی اننگز کھیل کر سال 2021 میں ایک ہزار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رنز مکمل کرلیے۔ رضوان ایک کیلنڈر ائیر میں ہزار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رنز بنانے والے دنیا کے پہلے بیٹر ہیں۔

اس کے علاوہ محمد آصف پہلی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے جبکہ شعیب ملک بھی صرف ایک رن بناکر پویلین لوٹ گئے جبکہ فخر زمان آخری اوورز میں جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 32 گیندوں پر 55 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔

آسٹریلیا کی جانب سے مچل اسٹارک نے 2 اور پیٹ کمنز اور زمپا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

[pullquote]آسٹریلیا کی اننگز[/pullquote]

آسٹریلیا نے 177 رنز کا ہدف 19 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر پورا کیا۔

پاکستان کے 177 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کا آغاز اچھا نہ رہا اور پہلے ہی اوور میں کپتان ایرون فنچ صفر پر شاہین شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

پہلی وکٹ جلد گرنے کے بعد مچل مارش اور ڈیوڈ وارنر کے درمیان 51 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی لیکن جب آسٹریلیا کا مجموعی اسکور 52 رنز پر پہنچا تو مچل مارش 22 گیندوں پر 28 رنز بناکر شاداب کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

آسٹریلیا کی تیسری وکٹ 77 رنز پر گری،اسٹیون اسمتھ5 رنز بناکر شاداب کا شکار بنے۔

پاکستان کو چوتھی کامیابی 89 رنز پر ملی جب سیٹ بیٹسمین ڈیوڈ وارنر 49 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ انہیں بھی شاداب نے آؤٹ کیا۔

آسٹریلیا کو پانچواں نقصان 96 رنز پر اُٹھانا پڑا جب خطرناک بیٹر گلین میکسویل 7 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

5 وکٹیں گرنے کے بعد مارکس اسٹوئنس اور متھیو ویڈ نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے مزید کوئی نقصان نہ ہونے دیا اپنی ٹیم کو دوسری بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے فائنل میں پہنچا دیا۔

19ویں اوور میں حسن علی نے میتھو ویڈ کا کیچ چھوڑ دیا جو پاکستان کی شکست کی وجہ بنی۔ کیچ ڈراپ ہونے کے بعد میتھیو ویڈ نے شاہین شاہ آفریدی کو لگاتار تین چھکے رسید کرکے میچ اپنے حق میں کرلیا۔

میتھو ویڈنے 17 گیندوں پر برق رفتار 41 رنز بنائے جبکہ مارکس اسٹوئنس نے 40 رنز بناکر ٹیم کو فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان کی جانب سے شاداب خان نے 4 اور شاہین شاہ آفریدی نے ایک وکٹ حاصل کی۔

واضح رہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے پہلے سیمی فائنل میں گزشتہ روز نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو شکست دےکی پہلی بار فائنل کیلئے کوالیفائی کیا ہے۔

آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان 14 نومبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔

[pullquote]میتھیو ویڈ کا کیچ ڈراپ، حسن علی کو دباؤ سے نکالنے پر شعیب ملک کی تعریفیں[/pullquote]

آسٹریلین اننگز کے 19 ویں اوور میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولر حسن علی نے میتھیو ویڈ کا اہم کیچ ڈراپ کیا جس نے میچ کا پانسہ سیکنڈوں میں تبدیل کردیا۔

کیچ ڈراپ کرنے کے بعد حسن علی بہت دباؤ میں آگئے تھے لیکن ایسے میں سابق کپتان شعیب ملک حسن علی کے پاس گئے ان کا حوصلہ بڑھایا اور تھپکی دی۔

اس موقع پر کمنٹیٹرز اور اسٹیڈیم میں موجود شائقین نے بھی شعیب ملک کی اسپورٹس مین اسپرٹ کی تعریف کی۔

خیال رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے گروپ میچز میں ناقابل شکست رہنے والی پاکستانی ٹیم سیم فائنل میں آسٹریلیا سے شکست کھاگئی۔

پاکستان نےآسٹریلیا کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز بنائے، محمد رضوان 67 اور فخر زمان 55 رنز بناکر نمایاں رہے جب کہ آسٹریلیا نے ہدف 19 ویں اوور میں حاصل کرلیا۔

[pullquote]’ میچ چاہے ہار گئے پردل جیت گئے ‘برطانوی ہائی کمشنر بھی پاکستان ٹیم کے گرویدہ[/pullquote]

برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کی پرفارمنس کے گرویدہ ہوگئے۔

آسٹریلیا سے سیمی فائنل میں شکست کے بعد برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر نے ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے لکھا کہ میچ چاہے پاکستان ہار گیا پردل جیت گیا، پاکستان ٹیم نے اچھا میچ کھیلا۔

کرسچن نے کہا کہ وہ اب پاکستان بمقابلہ انگلینڈ دورے کے منتظرہیں۔

[pullquote]یہی ٹیم اچھی تھی، سب چیزیں ہارنے کے بعد نظر آتی ہیں: مشتاق احمد[/pullquote]

قومی ٹیم کے سابق کھلاڑی اور نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں اسپن بولنگ کنسلٹنٹ مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم اسی طرز کی کرکٹ کھیلتی رہی تو ہم ہمیشہ کرکٹ کو انجوائے کریں گے۔

جیو نیوز کے مارننگ شو جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی ٹیم کو بیک کرنا چاہیے، پاکستان ٹیم نے پورا ٹورنامنٹ اچھا کھیلا، سیمی فائنل بھی آخری تین چار اوورز خراب ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کو جیت کا کریڈٹ دینا چاہیے، وہ بہت اچھا کھیلے خاص طور پر آخری کے تین چار اوورز میں تو آسٹریلیا نے بہت ہی اچھی کرکٹ کھیلی۔

مشتاق احمد کا مزید کہنا تھا جس طرح کی کرکٹ ہماری ٹیم نے کھیلی ہمیں اس پر فخر ہونا چاہیے لیکن ہمیں بولرز کو ضرور ٹرائی کرنا چاہیے جیسے آسٹریلیا نے آؤٹ آف دی باکس جا کر میکسویل سے تیسرا اوور کروایا، اس اوور میں رضوان کا کیچ بھی ڈراپ ہوا لیکن اس کے باوجود کئی بار یہ سب چیزیں ہارنے کے بعد نظر آتی ہیں، یہی وہ ٹیم ہے جو کل سے پہلے جو بھی فیصلے کر رہی تھی ہمیں اچھے لگ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ چیزوں میں بہتری ہونی چاہیے تھی اور وہ ہو بھی سکتی تھیں لیکن ہم میچ آخری اوورز میں جا کر ہارے ہیں، یہ ہو جاتا ہے لیکن اس صورت حال میں ہمیں اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنا چاہیے، اگر ٹیم اسی برانڈ کی کرکٹ کھیلتی رہے گی تو ہم ہمیشہ کرکٹ کو انجوائے کرتے رہیں گے۔

قومی ٹیم میں ایک فل ٹائم اسپنر کی کمی سے متعلق سوال پر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اسپنرز کی کوئی کمی نہیں ہے، بینچ میں ہمارے پاس عثمان قادر ہے، نواز ہے، زاہد ہے، عماد وسیم ہے اور شاداب بھی ہے۔

سابق لیگ اسپنر نے کہا کہ میں خود بھی نیشنل ہائی پرفارمنس سینٹر میں اسپن بولنگ کنسلٹنٹ ہوںں، ہم فوکس کر رہے ہیں کہ مسٹری اسپنرز کو سلیکٹ کر کے ان پر کام کیا جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے