[pullquote]سیالکوٹ واقعے سے پاک سری لنکا تعلقات متاثر نہیں ہوں گے، وزیرخارجہ[/pullquote]
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سیالکوٹ واقعے سے سری لنکا اور پاکستان کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔
میڈیا سے گفتگو میں شاہ محمود کا کہنا تھاکہ سیالکوٹ کا واقعہ افسوسناک ہے، ہم نے واقعے کی مذمت بھی کی اور نوٹس بھی لیا۔
ان کا کہنا تھاکہ سیکرٹری خارجہ کی سطح پر سری لنکا کیساتھ مکمل رابطہ ہے جبکہ میرا سری لنکا کے وزیر خارجہ سے رابطہ ہوا ہے، سری لنکا نے پاکستانی مؤقف اور بروقت کارروائی کی تحسین کی، واقعے کی انکوائری کیلئے 48 گھنٹوں کی مہلت دی گئی ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ سری لنکا کو اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے ، ایسے اقدامات کی ہمارے ایمان اور ملک میں کوئی جگہ نہیں، واقعے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھاکہ سیالکوٹ کا واقعہ افراد کی کارروائی ہے حکومت کی نہیں، واقعے سے سری لنکا اور پاکستان کے تعلقات متاثر نہیں ہوں گے جبکہ اس واقعے نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ وزیراعظم سیالکوٹ معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں، فیکٹری منیجر کی فیملی کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں، مقتول فیکٹری منیجر کی فیملی کی مکمل تشفی کریں گے۔
[pullquote]سیالکوٹ فیکٹری کے مقتول سری لنکن منیجر کی اہلیہ کا پہلا بیان سامنے آگیا[/pullquote]
سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے سری لنکن فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا کی اہلیہ نیروشی دسانیہ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے انصاف کی اپیل کردی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو میں مقتول فیکٹری منیجر کی اہلیہ کا کہنا تھاکہ میرے شوہر معصوم انسان تھے، خبروں سے پتا چلا کہ بیرون ملک اتنا کام کرنے کے باوجود میرے شوہر کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
انہوں نے سری لنکا کے صدر اور پاکستان کے صدر و وزیر اعظم سے منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ میرے شوہر اوردو بچوں کو انصاف دیا جائے۔
مقتول فیکٹری منیجر کے بھائی کا کہنا تھاکہ پریا نتھا 2012 سے سیالکوٹ کی اس فیکٹری میں ملازمت کر رہے تھے، فیکٹری کے مالک کے بعد پریانتھا نے ہی اس کا تمام انتظام سنبھالا ہوا تھا۔
رپورٹ کے مطابق تعلیم کے اعتبار سے پریا نتھا کمارا ایک انجینیئر تھے اور ان کے دو بچے ہیں جن کی عمریں 14 اور 9 سال ہیں۔
[pullquote]سیالکوٹ جیسے واقعات کی غیر مشروط مذمت ہونی چاہیے، احسن اقبال کا فضل الرحمان کو جواب[/pullquote]
مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے ٹوئٹر پر جمعیت علماءاسلام (جے یو آئی) کے رہنما مولانا فضل الرحمان کو جواب دیتے ہوئےکہا ہےکہ مولانا صاحب سیالکوٹ جیسے واقعات کی غیر مشروط مذمت ہونی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان کی ٹوئٹ پر جواب دیتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اسلام اس طرح کی جنونیت اور ہجوم کے ہاتھوں غیر قانونی قتل کی اجازت کسی صورت میں نہیں دیتا۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ علماء کرام سے قوم توقع رکھتی ہےکہ وہ قوم کی اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں گے۔
خیال رہےکہ مولانا فضل الرحمان نے سیالکوٹ واقعےکی مذمت کرتے ہوئےکہا تھا کہ سیالکوٹ واقعہ قابل مذمت اورشرمناک ہے، جامع تحقیقات ہونی چاہیے، ریاست اگر توہین رسالت اور توہین ختم نبوتﷺ کے ملزمان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گی تو اس قسم کے واقعات تو ہوں گے۔
[pullquote]جس سپروائزر کی پریانتھا نے سرزنش کی اسی نے ورکرز کو اشتعال دلایا، پولیس رپورٹ[/pullquote]
سیالکوٹ میں فیکٹری منیجرپریانتھا کمارا کے قتل کی پولیس تحقیقات میں مزید انکشافات سامنے آگئے۔
پولیس کے مطابق ورکرزاور دوسرا عملہ غیرملکی منیجرکو سخت ناپسندکرتےتھے اور پریانتھا اور فیکٹری کے دوسرے عملے میں اکثرتکرار ہوتی رہتی تھی۔
[pullquote]ناقص صفائی پرپریانتھا کمارا نے ورکرزاورسپروائزرکی سرزنش کی تھی، پولیس[/pullquote]
پولیس نے بتایا کہ پریانتھا کے خلاف ورکرز اور سپروائزر نے مالکان سے کئی بارشکایت بھی کی تھی جبکہ واقعے کے روز پریانتھا کمارا نے پروڈکشن یونٹ کا اچانک دورہ کیا تھا جہاں ناقص صفائی پرپریانتھا کمارا نے ورکرزاورسپروائزرکی سرزنش کی تھی۔
پولیس کے مطابق فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا نے ورکرزکودیواروں پررنگ کیلئے تمام اشیا ہٹانے کا کہا تھا اور مقتول منیجر خود بھی دیواروں سے چیزیں ہٹاتارہا، اسی دوران مذہبی پوسٹر بھی اتارا جس پر ورکرز نے شورمچایا تو مالکان کے کہنے پر پریانتھا کمارا نے معذرت کرلی تھی۔
پولیس تحقیقات کے مطابق جس سپروائزر کی پریانتھا نے سرزنش کی اسی نے بعد میں ورکرز کو اشتعال دلایا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پریانتھا کمارا فیکٹری میں بطورجنرل مینجرپروڈکشن ایمانداری سے کام کرتا تھا اور فیکٹری قوانین پر سختی سے عمل درآمدر کراتا تھا جس پر فیکٹری مالکان بھی اس کےکام سے خوش تھے۔
قبل ازیں سری لنکن منیجر کے قتل کے واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آئی تھیں۔
پولیس کی تحقیقات کے مطابق وقوعہ کے وقت فیکٹری میں رنگ روغن کا کام جاری تھا، سری لنکن شہری نے صبح 10 بج کر28 منٹ پردیوارپر لگے کچھ پوسٹرز اتارے تو اس دوران فیکٹری منیجر اور ملازمین میں معمولی تنازع ہوا۔
[pullquote]’منیجر نے ملازمین سے معذرت کی تھی‘، سیالکوٹ واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں[/pullquote]
سیالکوٹ میں سری لنکن منیجر کے قتل کے واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔
پولیس کی تحقیقات کے مطابق وقوعہ کے وقت فیکٹری میں رنگ روغن کا کام جاری تھا، سری لنکن شہری نے صبح 10 بج کر28 منٹ پردیوارپر لگے کچھ پوسٹرز اتارے تو اس دوران فیکٹری منیجر اور ملازمین میں معمولی تنازع ہوا۔
[pullquote]فیکٹری منیجر زبان سے نا آشنا تھا جس وجہ سے اسے کچھ مشکلات درپیش تھیں[/pullquote]
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہےکہ فیکٹری منیجر زبان سے نا آشنا تھا جس وجہ سے اسے کچھ مشکلات درپیش تھیں تاہم فیکٹری مالکان نے ملازمین کےساتھ تنازع حل کرایا اور فیکٹری منیجر نے غلط فہمی کا اظہار کرکے معذرت بھی کی لیکن کچھ ملازمین نے بعد میں دیگر افراد کو اشتعال دلایا جس پر بعض ملازمین نے منیجر کو مارنا شروع کردیا۔
تحقیقات کے مطابق فوٹیج سے پتا چلا کہ صبح 10 بج کر 40 منٹ پر منیجر کو عمارت سے نیچے گرایا گیا اور مشتعل افراد اسے گھسیٹ رہے تھے، منیجر کو مشتعل ملازمین نے اندر ہی مار دیا تھا، جس وقت اسے نیچے گرایا تھا وہ بے سدھ ہوچکا تھا اور غالب امکان ہے کہ نیچے گرانے سے منیجر کی موت واقع ہوچکی تھی، اس کے بعد منیجر کی لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری ایریا سے باہر لایا گیا۔
[pullquote]گارمنٹ فیکٹری میں 13 سکیورٹی گارڈز تعینات تھے جو فرار ہوگئے: تحقیقات[/pullquote]
تحقیقات کے مطابق گارمنٹ فیکٹری میں 13 سکیورٹی گارڈز تعینات تھے لیکن واقعے کے وقت تمام گارڈز بھی موقع سے فرار ہوگئے جس کے بعد ملازمین فیکٹری منیجر کی لاش گھسیٹ کر باہر لے آئے، 11 بج کر 28 منٹ پر پولیس کو ون فائیو پر اطلاع دی گئی تو مقامی ایس ایچ او جائے وقوعہ پر پہنچے، صورتحال خراب دیکھ کر انہوں نے ڈی پی او کو کال کی جس پر ڈی پی او نے 27 انسپکٹرز کو موقع پر پہنچنے کی ہدایت کی اور بھاری نفری کو طلب کرلیا۔
تحقیقات سے پتا چلا ہےکہ سڑک بند ہونے سے پولیس کی نفری کو جائے وقوعہ پر پہنچنے میں تاخیر ہوئی اور ڈی پی او بھی خود پیدل بھاگ کر جائے وقوعہ پر پہنچے مگر ان کے پہنچنے تک ملازمین فیکٹری منیجر کی لاش کو جلا چکے تھے۔
[pullquote]پسِ منظر[/pullquote]
خیال رہے کہ گزشتہ روز 3 دسمبر کو اسپورٹس گارمنٹ کی فیکٹری کے غیر مسلم سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا پر فیکٹری ورکرز نے مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگا کر حملہ کردیا، پریانتھا کمارا جان بچانے کیلئے بالائی منزل پر بھاگے لیکن فیکٹری ورکرز نے پیچھا کیا اور چھت پر گھیر لیا۔
انسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈز روکنے میں ناکام رہے، فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے ، مار مار کر جان سے ہی مار دیا، اسی پر بس نہ کیا، لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہر چوک پر لے گئے، ڈنڈے مارے، لاتیں ماریں اور پھر آگ لگا دی۔
[pullquote]پریانتھا کمارا کی موت کی وجہ کیا تھی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی[/pullquote]
سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے سری لنکن فیکٹری منیجر پریانتھا کمارا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہوگئی۔
انسانیت سوز خونی کھیل کو فیکٹری گارڈز روکنے میں ناکام رہے، فیکٹری ورکرز منیجر کو مارتے ہوئے نیچے لائے ، مار مار کر جان سے ہی مار دیا، اسی پر بس نہ کیا، لاش کو گھسیٹ کر فیکٹری سے باہر چوک پر لے گئے، ڈنڈے مارے، لاتیں ماریں اور پھر آگ لگا دی۔
اب سری لنکن منیجر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پریانتھا کی موت دماغ اور چہرے پر ضرب لگنے سے ہوئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تشدد سے پریانتھا کمارا کے جسم کے مختلف حصوں کی ہڈیاں بھی ٹوٹیں۔
[pullquote]ایک شخص مشتعل ہجوم سے پریانتھا کمارا کو بچانےکی تن تنہا کوشش کرتا رہا[/pullquote]
درندوں کے ہجوم میں سسکتی انسانیت کو بچانےکی جدوجہد کرنے والا ایک انسان سامنے آگیا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھاجاسکتا ہےکہ وحشی ہجوم کے درمیان ایک بے بس شخص لوگوں کے سامنے ہاتھ جوڑتا رہا اور پریانتھا کمارا کی زندگی کی بھیک مانگتا رہا، لیکن بے حس ظالم ہجوم میں سے کسی نے ایک نہ سنی، الٹا اسی کو دھکے مارےگئے، دائیں بائیں گھسیٹا گیا۔
میڈیاکے مطابق پریانتھا کمارا کو بچانےکی کوشش کرنے والوں میں ایک اور شخص بھی تھا جس نے اسےکَور کیا ہوا تھا اور خود مار کھا رہا تھا اور اسے بچانےکی کوشش کر رہا تھا ۔