[pullquote]ری سائیکلنگ نے زہریلی میتھین کو بنایا ماحول دوست بائیو گیس [/pullquote]
گزشتہ برس اقوام متحدہ کے ’فریم ورک کنونشن آن کلائمٹ چینج‘ کے زیراہتمام 26ویں ’کانفرنس آف دا پارٹیز‘ یا (کوپ26) میں میتھین گیس کو کم کرنے کیلئے تمام (197) ممالک نے عہد کیا۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ دنیا کے 10 ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔
کرہ ارض کے حفاظتی پرت یعنی اوزون کی تہہ کو متاثر کرنیوالی گیسز میں ایک میتھین بھی شامل ہے یہ گیس زیادہ تر گرین یا زراعتی پریکٹسز اور زرعی باقیات و مویشیوں کے فضلہ جات کو اکٹھا رکھنے یا کوڑا کرکٹ کے بڑے ڈھیر یا جلانے کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ جسے خاص سائنسی طریقہ کار سے محفوظ انداز میں اکٹھا کرکے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہیں سے اوزون کے لئے زہریلی گیس ایک ماحول دوست بائیو گیس میں بدل جاتی ہے۔
بائیوگیس کا استعمال زمانہ قدیم سے ہوتا آرہا ہے سترھویں صدی کے بعد آہستہ آہستہ کافی ممالک نے اس آگ پکڑنے والی گیس کو گھریلو اور فارم ہاؤسز پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا، ہمسایہ ممالک اور یورپ میں بھی کئی جگہوں پر اس گیس کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ مشاہدے کے مطابق ہمسایہ ملک میں آن لائن گوبر کی سیل کی جاتی ہے۔
یورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک ، انڈیا میں کئی دیہات میں فارم ہاؤسز پر بائیو گیس ہی استعمال کی جاتی ہےکیونکہ پلانٹ کے کچرے اور مائع کو بطور کھاد استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بائیو گیس اور اسکی پیداواری صلاحیت کے حوالے سے کئی کالجزاس کا عملی کورس کراتے ہیں۔ یوٹیوب پر کئی ویڈیوز موجود ہیں ، مثلاً کسان ٹی وی گھریلو یونٹ کے حوالے سے مکمل معلومات فراہم کرتے ہیں، اسکے علاوہ بھی کئی ادارے ہیں جو بائیو گیس پلانٹس لگانے کا کام کرتے ہیں۔
پاکستان میں پچاس کی دہائی میں بائیوگیس کے استعمال کا آغاز ہوچکا تھا، اسکے بعد بھٹو دور میں دیہاتوں میں لکڑی کے متبادل ایندھن کے طور پر زرعی باقیات کو بائیو گیس میں تبدیل کرکے استعمال کیا گیا۔ سن دو ہزار میں باقاعدہ حکومتی سرپرستی کی وجہ سے بائیو گیس کو صنعت کا درجہ ملا۔
کم آگاہی ، تن سکھی کی عادت، ادھورے علم اور غیر سنجیدہ اداروں کی وجہ سے شہری آبادی نے کبھی اس گیس کو بطور یوٹیلیٹی نہیں دیکھا۔ ریو گرین کمپنی (Revgreen) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میاں عارف علی گیارہ سال سے بائیوگیس پلانٹ انڈسٹری میں کام کررہے ہیں۔
عارف علی کی کمپنی آج تک ہزاروں کی تعداد میں گھریلو اور انڈسٹریل بائیو گیس یونٹ لگا چکی ہے۔ جن میں سے ڈیری فارمز اور انڈسٹریل سطح پر بیس سے تیس بڑے پلانٹس لگائے گئے ہیں ۔ سات سو کیوبک سے زائد گیس پیدا کرنیوالے بڑے پلانٹس کی لاگت چار کروڑتک بنتی ہے ، جبکہ چھوٹا گھریلو یونٹ پانچ کیوبک میٹر کی فٹنگ ستر سے پچہتر ہزار میں ہوتی ہے۔
میاں عارف نے لکھاری کو بتایا کہ بائیو گیس کے بارے میں بہت زیادہ غلط تصورات پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ شہری آبادی میں اپنی مقبولیت حاصل نہیں کرسکی۔ ایک غلط تصور کہ بائیو گیس صرف مویشیوں کے فضلہ سے بنتی ہے، بائیو گیس دراصل تخمیری عمل سے بنتی ہے اور پاکستان میں گائے بھینس کے فضلہ کے علاوہ گلی سڑی سبزیوں اور پھلوں، فصلوں اور گرین باقیات سے بھی بائیوگیس تیار کی جاتی ہے۔
ایک کلو گرین باقیات ، ایک کلو بائیو گیس کھاد کی بہ نسبت زیادہ یعنی تقریباً دوگُنا زائد بائیوگیس پیدا کرتی ہے ۔ بہت ساری کمیونیٹیز محلے کے منتخب کچرے ،سبزی منڈی اور جوس کارنر سے پھلوں کے چھلکوں اور انکی باقیات سے کمیونٹی بائیو گیس پلانٹس کو چلاتی ہیں ۔ یہ گیس زرعی باقیات،چاول کے چھلکے، بائیو کھاد، شہری کچرا، پودوں ، سبزیوں، پھلوں کے گلے سڑے میٹریل، گرین اور خوراک کی باقیات سے تیار ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر قدرتی یعنی اورگینک ہے۔
بائیو گیس اور پانی کی پی ایچ ایک جیسی ہے، بائیو گیس نیوٹرل ماحول میں بنتی ہے، باقی گیسز زمین کے نیچے پیدا ہوتی ہیں اور زیادہ آتشگیری صلاحیت کیساتھ جلنے پر فضاء کو آلودہ کر دیتی ہیں۔ بڑھتی ہوئی گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے لگتا ہے کہ شہروں میں بھی لوگ بہت جلد بائیو گیس کے گھریلو استعمال پر بھی آ جائیں گے۔
دوسرا غلط تصور کہ کچرے کے استعمال سے ماحول بدبو دار اور تعفن زدہ ہوسکتا ہے اسلئے یہ شہری آبادی کیلئے مفید نہیں۔ میتھین گیس کی کوئی ذاتی بُو نہیں ہوتی اور یہ ہوا سے ہلکی ہونے کے باعث کسی جگہ اکٹھی بھی نہیں ہوتی ، اسی وجہ سے دوسری مائع قدرتی و پٹرولیم گیس کی نسبت بائیو گیس کو محفوظ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسکے ہلکے پن کی وجہ سے اس گیس میں آتشزدگی یا پریشر کی وجہ سے کسی حادثے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔
بائیو گیس کے پلانٹس مکمل اور محفوظ طور پر بند بنائے جاتے ہیں جو گھروں میں کسی قسم کی بدبو کا باعث نہیں بنتے، جگہ کا مسئلہ ہوتا ہے مگر اب تیارشدہ پلانٹس کا چھوٹا سائز پانچ کیوبک میٹر بھی دستیاب ہے جو ستر سے پچہتر ہزار میں فٹ ہوتاہے ، اسے گھر کی چھت پر یا برآمدے میں بھی رکھا جاسکتا ہے۔ اس سے تین سے پانچ افراد کیلئے دو وقت کا کھانا بنا یا جا سکتا ہے۔
تیسرا غلط تصور اسکی مسلسل سپلائی کے حوالے سے پایا جاتا ہے، ریو گرین کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ پلانٹ لگانے کے بعد دس سے تیس دن کا وقت بیکٹیریا کی تخمیری کالونی بنانے میں لگ جاتے ہیں، اسکے بعد روازنہ اسکے ڈائجسٹر میں گرین باقیات ڈالی جاتی ہیں، اور روز ہی پلانٹ میں سے مائع اور کھاد کی صورت فضلہ یا باقیات خودکار طریقے سے باہر بھی آ جاتی ہے، یہ باقیات اور مائع بطور قدرتی کھاد بھی استعمال ہوتی ہیں۔
ڈیجیٹل میڈیا پر معلومات کی ترسیل کی بدولت بائیو گیس یونٹس کیلئے چھوٹے گڈریے ، دو سے تین مویشیوں کے مالک اور چھوٹے صنعتکار بھی رابطہ کر رہے ہیں ۔ لاڑکانہ میں بائیو گیس پلانٹس کی بدولت ایک کالونی میں دو سے تین سو گھروں کو سستی بائیو گیس کامیابی کیساتھ فراہم کی جا رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل لاہور میں فیض آباد انٹرچینج پر بھی تین سو گھروں کیلئے بائیو گیس یونٹ لگایا گیا مگر یہ پراجیکٹ کالونی کے فراڈ کی وجہ سے بیکار پڑا ہے ۔
میاں عارف علی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’ماحول دوست پریکٹسز کیلئے انسان کو مشقت کرنا پڑتی ہے، جہاں ٹیکنالوجی نے دنیا کو گلوبل گاؤں بنایا وہیں تن آسانی کی بیماری بھی پروان چڑھ رہی ہے، زیادہ تر لوگ پیسے دیکر کام کروانا چاہتے ہیں مگر خود کام کرنا مشکل لگتا ہے۔ یہ مکمل ماحول دوست گیس ہے، ابھی اپارٹمنٹس یا فلیٹس میں استعمال کیلئے مشینری یا پلانٹس میں جدیدیت نہیں آئی مگر آئندہ دس برسوں میں توقع ہے کہ لوگ اپنے ہی گھر کے سیوریج سے بائیو گیس اور بجلی پیدا کرنا شروع کردیں گے۔‘
بائیو کیمسٹ سکالر، زینب بی بی نے ہائی جین سے متعلق بائیو گیس کے حوالے سے پائے جانیوالے تحفظات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ بائیو گیس بنانے میں استعمال ہونیوالا بیکٹریا ماحول دوست ہوتا ہے اور اسکا پلانٹ بناتے وقت تمام حفاظتی اقدامات کو پہلے سے چیک کرکے لگایا جاتا ہے۔
اس گیس پر ہم کھانا بھی پکا سکتے ہیں ، جنریٹر بھی چلا سکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر انڈسٹریز میں جنریٹر اور مشینری کو چلانے کے لئے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ تاہم بعض تحقیقات میں اس گیس کو لوہے یا مشینری میں ڈائریکٹ استعمال کیلئے موضوع نہیں پایا گیا۔ ہمارے ملک میں قدرتی وسائل تیزی سے ختم ہورہے ہیں ایسی صورتحال میں ہمیں بائیو ریسورسز کو ہی استعمال کرنا پڑے گا، جیسا کہ ہم بائیوڈی گریڈایبل بیگز استعمال کر رہے ہیں، یہ بہت ہی سستے اور ماحول دوست ہیں ویسے ہی بائیو گیس بھی سستی، ماحول دوست اور محفوظ ہے۔
خیبر پختونخواہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں بھی لوگ بائیوگیس استعمال کرتے ہیں، اصحاب بابا کے رہائشی کے مطابق مارکیٹ میں 6 سے 7 لوگوں کے استعمال کیلئے تیارشدہ بائیو گیس پلانٹس بآسانی دستیاب ہیں یہ پلانٹ ایک ڈیپ فریزر جتنی جگہ گھیرتا اور 10 کیوبک میٹر گیس بناتا ہے ، کمیونٹی پلانٹ کے علاوہ یہاں انفرادی گیس کی سٹوریج کیلئے ٹرالی یا ٹریکٹر کے ٹائر کی پرانی ٹیوب یا کمپنی کے غبارے کو استعمال کیا جا تا ہے ، یہ رہائشی اپنے چھوٹے سے گھر کیلئے اسی یونٹ سے جنریٹر لگا کر بجلی بھی پیدا کرتا ہے۔
ایک مقامی چینل کی مطابق چکوال کا ایک زمیندار زیتون کے باغ کیساتھ بھینسوں کے فارم فاؤس کیلئے بائیو گیس پلانٹ سے گیس اور سولر پینل سے 25kb جنریٹر سے بجلی حاصل کرتا ہے۔ زمیندار کیمطابق تین سے چار لاکھ لاگت کے پلانٹ کو انجینئرز نے ہی لگایا اور شروع کیا تھا ، آغاز میں نو سے دس دن تک روز دو ٹرالی گوبر ڈالا گیا، پھر نو سے دس دن میں گیس بننا شروع ہوگئی۔
روز ایک ٹن گیس کیلئے دس سے بارہ ہتھ ریڑھی گوبر پلانٹ میں ڈالی جاتی ہے جو انکے فارم ہاؤس کے مویشیوں سے حاصل کی جاتی ہے۔ اتنا ہی ضائع شدہ فضلہ بھی پلانٹ سے باہر آتا ہے جس کو بطور کھاد اپنے زیتون کے باغ اور سبزی باغ میں استعمال کرتے ہیں، یہ قدرتی کھاد ہوتی ہے اسی وجہ سے اردگرد کے چھوٹے کسان ، گھریلو سبزیوں اور کچن گارڈن والے لوگ اسکو خریدنا پسند کرتے ہیں، اور یوں زمیندار اس سے کچھ مزید رقم بنا لیتا ہے۔
حالیہ خبروں کے مطابق حکومت نے اب مائع قدرتی اور پٹرولیم گیس کے مہنگے ہونے کی وجہ سے کراچی میں گرین بسوں کو بائیوگیس پر چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کو بائیوگیس کے استعمال کے حوالے سے آگاہی مہم چلانا چاہیئے تاکہ لوگ یا کمیونٹیز جو فارم ہاؤسز کے قریب یا قریبی علاقوں میں رہتے ہیں وہاں ایسے یونٹس لگا کر ان لوگوں کو سستی بجلی اور گیس فراہم کی جاسکے۔
ربیعہ ارشد ترکمان
صحافی، ریسرچر، ٹیوٹر، فوٹو جرنلسٹ، 2016 میں فلم اینڈ ڈاکو منسٹری میکنگ – یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ، لاس ایجیلس، امریکہ سے مکمل کیا، اسکے بعد فلم اینڈ ڈاکومنٹری کے ساتھ ملٹی میڈیا اینڈ ڈیجیٹل جرنلزم میں نئے کانسپٹس ایکسپور اور پریکٹس کر رہی ہوں.