اسلام آباد: وزیر اعظم کی منظوری سے محقق اسکالر ڈاکٹر عامر طاسین سمیت 6 اسکالرز کو قومی رحمۃ للعالمین اتھارٹی کا رکن منتخب کرلیا گیا جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
دو ماہ قبل رحمۃ للعالمین اتھارٹی کے ممبران کے انتخاب کیلئے ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم و پیشہ وارانہ امور اور اضافی چارج ڈی جی برائے قومی رحمۃ للعالمین اتھارٹی معین وانی کی زیر نگرانی تلاش کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس کا کام قومی رحمۃ للعالمین اتھارٹی کے لیے چھ ممبران کی تقرری عمل میں لانا تھا۔
دو ماہ قبل رحمۃ للعالمین اتھارٹی کے ممبران کے انتخاب کیلئے ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم و پیشہ وارانہ امور اور اضافی چارج ڈی جی برائے قومی رحمۃ للعالمین اتھارٹی معین وانی کی زیر نگرانی تلاش کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس کا کام قومی رحمۃ للعالمین اتھارٹی کے لیے چھ ممبران کی تقرری عمل میں لانا تھا۔
بعد ازاں 5 رکنی انٹرویو کمیٹی قائم کی گئی جس میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت ناہید درانی سیکرٹری تعلیم، نمائندہ وزارت منصوبہ بندی، نمائندہ وزارت مالیات کے علاوہ اسٹیشلمنٹ ڈویژن کے رکن شامل تھے۔ جنہوں نے 20 سے زائد اہل افراد کو شارٹ لسٹ کرنے کے بعد انٹرویو کیے۔
بعد ازاں قومی رحمۃ للعالمین اتھارٹی کے لیے مختلف شعبہ جات میں مہارت کے حامل 6 ممبران کو منتخب کرنے اور ایم پی ون اسکیل دینے کیلئے سمری وزیر اعظم پاکستان کو ارسال کی گئی تھی۔ اس کے بعد ابتدائی مرحلے میں این ڈی یو سے چیئرمین اعجاز اکرم، عالمی اسلامی یونیورسٹی سے پروفیسر ڈاکٹر محمد الیاس، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے ڈاکٹر عائشہ لغاری اور قائدِ اعظم یونیورسٹی سے ڈاکٹر تنویر انجم کی منظوری دی گئی۔
دوسرے مرحلے میں اسلامک یونیورسٹی کے ممبر گورننگ بورڈ ڈاکٹر محمد عامر طاسین، قطر یونیورسٹی سے ڈاکٹر محمد مدثر علی اور باسط بلال کی منظوری دی گئی۔ محقق اسکالر ڈاکٹر عامر طاسین اعزازی طور پر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے رکن بورڈ آف گورنرز اور پاکستان کا قدیم تحقیقی علمی ادارہ مجلس علمی فاؤنڈیشن کے بھی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔
ڈاکٹر عامر طاسین قومی سطح پر آٹھ مرتبہ حکومت سے مختلف عنوانات پر تحقیقی مقالہ لکھنے کے باعث قومی سیرت ایوارڈ بھی وصول کرچکے ہیں۔ اور علمی سرگرمیوں کے علاوہ مختلف قومی میڈیا چینلز میں طویل عرصہ تک مذہبی شعبہ تحقیق، ڈائریکٹر مذہبی پروگرام اور سینسر ہیڈ رہنے کے علاوہ بے شمار مذہبی پروگرامز کی میزبانی کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔