بدھ : 23 فروری 2022 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]یوکرائن میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی[/pullquote]

یوکرائن میں 30 دن کے لیے ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یوکرائن کی سکیورٹی کونسل کے سکریٹری اولیکسی ڈینیلوف کا کہنا ہے یوکرائن کی مشرقی سرحد پر روس کے ساتھ کشیدگی کے باعث ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد یوکرائنی شہریوں کو کرفیو کے دوران گھروں میں رہنا ہو گا۔ یوکرائن کو اس وقت سنگین بحران کا سامنا ہے۔ روس کی جانب سے اس کی مشرقی ریاستوں کو تسلیم کیے جانے اور وہاں فوجی بھیجے جانے کے فیصلے نے روس اور یوکرائن کے مابین تناؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

[pullquote]افغانستان: پولیس کے لیے نئے ضابطہ اخلاق کا اعلان[/pullquote]

طالبان حکومت نے افغانستان میں پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات میں اضافے کے پیش نظر پولیس کے لیے نئے ضابطہ اخلاق کا اعلان کر دیا ہے۔ کابل پولیس کی جانب سے افغانستان کے قائم مقام وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی طرف سے ہدایات شائع کی گئیں۔ حقانی، جو اقوام متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں، نے اپنی افواج کو حکم دیا کہ وہ عوام کے ارکان کو اذیت دینے، ہراساں کرنے اور ان کی توہین کرنے سے گریز کریں۔ پولیس فورس سے کہا گیا ہے کہ وہ رات کو عدالتی حکم کے بغیر مشتبہ افراد کے گھروں میں داخل نہ ہوں۔ پولیس کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ گشت کے دوران کسی پر گولی نہ چلائیں جب تک انہیں حملہ آوروں کا سامنا نہ ہو۔

[pullquote]امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے روس پر پابندیاں عائد[/pullquote]

امریکی صدر جو بائیڈن نے روس پر عائد کی جانے والی ابتدائی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ روس نے مشرقی یوکرائن کی دو علیحدگی پسند ریاستوں کو آزاد تسلیم کرنے اور ان ریاستوں میں فوج بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکا کی جانب سے روس کے دو مالیاتی اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ روس اگر جارحانہ اقدامات اٹھاتا ہے تو امریکا مزید پابندیاں بھی عائد کرے گا۔ یورپی یونین نے بھی ان روسی شخصیات اور اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جو یوکرائن کے علیحدگی پسند علاقوں کو خود مختار تسلیم کرنے میں ملوث تھے۔ یورپی یونین نے روسی فوج اور مشرقی یوکرائن کو مالی معاونت فراہم کرنے والے بینکوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔ یورپی بلاک کا کہنا ہے کہ یہ اقدام روس کے لیے یورپی یونین کی اقتصادی منڈیوں اور سروسز تک رسائی مشکل بنا دے گا۔ جاپان، کینیڈا اور آسٹریلیا نے بھی روس پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

[pullquote]یوکرائن تنازعہ: سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں، روسی صدر[/pullquote]

روسی صدر نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ روس کے مفادات اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا لیکن روس یوکرائن تنازعے کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے تیار ہے۔ ادھر امریکی سکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی ہے۔ یہ ملاقات جمعرات کو ہونا تھی۔ بلنکن کے مطابق یہ ملاقات اس شرط پر ہو رہی تھی کہ روس یوکرائن پر حملہ نہیں کرے گا۔ بلنکن نے روس پر سفارتکاری کو مسترد کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ روس نے یوکرائن کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد تسلیم کرنے اور وہاں فوج بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے روس کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ گوٹیرش کے مطابق روسی فوجی امن دستے نہیں ہیں، جیسا کہ روس کی جانب سے کہا گیا ہے۔

[pullquote]چین اور روس نے میانمار کی فوج کو اسلحہ فراہم کیا، اقوام متحدہ کے ماہر[/pullquote]

اقوام متحدہ کے ماہر تھامس انڈریوز کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج کو مسلح کرنے والوں میں چین اور روس بھی شامل ہیں۔ انڈریوز کے مطابق دونوں ممالک جنگی طیارے اور بکتر بند گاڑیاں فوجی جنتا کو فراہم کر رہے ہیں۔ اس ماہر نے میانمار کی فوج کو ہتھیار فروخت کرنے والوں میں سربیا کا نام بھی لیا اور کہا کہ یہ ہتھیار عام شہریوں کو ہلاک کرنے میں استعمال ہوئے تھے۔ اینڈریوز، جو سابق امریکی کانگریس مین ہیں، نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے میانمار کو ہتھیاروں کی سپلائی روکنے کا مطالبہ کیا۔ انڈریوز نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فوج کی تیل اور گیس اور زرمبادلہ کے ذخائر تک رسائی کم کی جائے۔ فروری 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے میانمار میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا، جن پر فوج کا شدید کریک ڈاؤن کیا گیا۔ میانمار کے سرگرم کارکنان فوجی کریک ڈاؤن کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد قریب پندرہ سو بتاتے ہیں۔

[pullquote]کووڈ انیس ویکسین کی تقسیم غیر مساوی ہے، جرمن صدر[/pullquote]

جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر تین روزہ دورے پر سینیگال میں ہیں۔ اپنے دورے کے دوران شٹائن مائر نے براعظم افریقہ میں کووڈ انیس ویکیسن بنانے پر زور دیا۔ جرمن صدر کا کہنا ہے کہ اس وقت افریقہ میں استعمال ہونے والی سو فیصد ویکسین افریقی براعظم سے باہر تیار کی جاتی ہیں۔ شٹائن مائر نے کہا کہ کورونا وبا کے پہلے سال افریقہ تک کووڈ انیس کی بہت کم خوراکیں پہنچی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں ویکسین کی تقسیم اب بھی غیر مساوی ہے۔ صدر نے سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار میں ایک سائٹ کا دورہ کیا جہاں جرمن فرم بائیو این ٹیک اپنے پروڈکشن پارٹنر فائزر کے ساتھ مل کر کووڈ انیس ویکسین بنانے کے لیے ایک موبائل لیب قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

[pullquote]نائجیریا، پرتشدد واقعات میں چار پولیس اہلکار ہلاک[/pullquote]

نائجیریا کے جنوب مشرق میں مشتبہ علیحدگی پسندوں کے دو مختلف حملوں میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مسلح افراد نے ریاست امو میں پولیس سٹیشن پر حملہ کیا جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ پولیس نے بتایا کہ بندوق بردار وقفے وقفے سے فائرنگ کر رہے تھے۔ انہوں نے پولیس اسٹیشن پر پٹرول بم اور دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد پھینکا جس سے سٹیشن کو آگ لگ گئی۔ پولیس نے مسلح افراد پر فائرنگ کی اور ان میں سے سترہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ دوسرا حملہ انمبرا ریاست میں ہوا جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ دونوں حملے اتوار کو ہوئے تھے۔ جنوب مشرقی نائجیریا میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ حکام آئی پی او بی نامی علیحدگی پسند تحریک کو اس تشدد کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ یہ گروپ ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

[pullquote]بھارت کی جانب سے گندم کے 50 ٹرک افغانستان روانہ[/pullquote]

پاکستان کی جانب سے غیرمعمولی اجازت ملنے کے بعد بھارت نے افغانستان کے لیے براستہ پاکستان پچیس سو ٹن گندم کے پچاس ٹرک بھیجے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق مغربی ممالک نے گزشتہ سال طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس ملک کے لیے امداد میں تیزی سے کمی کر دی تھی۔ امداد کی کمی کے باعث افغانستان کو تباہ کن انسانی بحران کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کی اٹھائیس ملین آبادی کی اکثریت کو امداد کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی امداد کی اپیل کے جواب میں بھارت نے افغانستان میں پانچ ہزار ٹن گندم بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اُردو[/pullquote]

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے