[pullquote]ہتھیار نہیں ڈالیں گے، یوکرائنی صدر[/pullquote]
یوکرائنی صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرائنی فوج اور عوام روسی جارحیت کے سامنے کھڑے رہیں گے اور ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ انہوں نے یہ بات سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہی جس میں وہ دارالحکومت کییف میں اپنے دفتر کے باہر کھڑے دکھائی دیے۔ دوسری جانب خبر رساں اداروں کا کہنا ہے کہ یوکرائنی دارالحکومت کییف کے گلی کوچوں سمیت یوکرائن کے کئی شہروں میں روسی فوج کے خلاف یوکرائنی مزاحمت جاری ہے۔ روس نے جمعرات کے روز یوکرائن پر تین اطراف سے حملہ کیا تھا جس میں بھاری اسلحے، طیاروں اور میزائلوں کا استعمال بھی کیا گیا، جو بدستور جاری ہے۔
[pullquote]امریکا کی جانب سے یوکرائنی کے لیے چھ سو ملین ڈالر کی فوری عسکری مدد کا اعلان[/pullquote]
امریکی صدر جوبائیڈن نے یوکرائن کے لیے چھ سو ملین ڈالر کی فوری عسکری امداد کے احکامات جاری کیے۔ بتایا گیا ہےکہ صدر جوبائیڈن کی جانب سے وزیرخارجہ انٹونی بلِکن کو تحریر کردہ ایک مراسلے میں ساڑھے تین سو ملین ڈالر غیرملکی معاونتی قانون کے تحت یوکرائنی دفاع کے لیے جاری کرنے کا کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مزید ڈھائی سو ملین ڈالر یوکرائنی فوج کے لیے کسی قانونی نکتے سے ماورا فوری دفاعی امداد کی مد میں صرف کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ یوکرائن پر روسی حملے کے بعد امریکا سمیت مغربی دنیا کی جانب سے روس پر شدید پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
[pullquote]جرمنی نے یوکرائنی فوج کی مدد کے لیے پانچ ہزار ہیلمٹ روانہ کر دیے[/pullquote]
جرمنی کی جانب سے یوکرائنی فوج کے لیے پانچ ہزار حفاظتی ہیلمٹ روانہ کر دیے گئے۔ گزشتہ ماہ ان ہیلمٹس کا وعدہ جرمن حکومت کی جانب سے کیا گیا تھا، جب کہ برلن حکومت کی جانب سے یوکرائنی فوج کو ہتھیار فراہم نہ کرنے اور فقط ہیلمٹ دینے کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا۔ برلن حکومت کے مطابق روسی حملے کے باوجود یوکرائنی فوج کو ہتھیار مہیا کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے، کیوں کہ جرمنی جنگ زندہ علاقوں میں ہتھیار فراہم نہ کرنے کی پالیسی پر کارفرما رہے گا۔
[pullquote]روس میں جنگ مخالف مظاہرین کی گرفتاریاں جاری[/pullquote]
روسی پولیس ملک کے کئی شہروں میں جنگ کے خلاف مظاہرے کرنے والوں کی گرفتاریوں میں مصروف ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز کم ازکم پانچ سو ساٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ مقامی شہری حقوق کی تنظیموں کے مطابق بعض گرفتار شدگان کو قانونی مدد مہیا کی گئی ہے۔ جمعرات کے روز یوکرائن پر روسی حملے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر سترہ سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب جمعے کے روز روس کے ہم سایہ ملک جارجیا میں ہزاروں افراد نے دارالحکومت تبلیسی میں روس کے خلاف پابندیاں نافذ نہ کرنے پر اپنی حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا۔ یہ افراد یوکرائن پر روسی حملے کے خلاف بھی نعرے بازی کر رہے تھے۔
[pullquote]اٹلی روس پر پابندیوں کے یورپی اقدامات کے ساتھ ہے، وزیراعظم دفتر[/pullquote]
اطالوی وزیراعظم ماریو دراگی نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اٹلی روس کے خلاف پابندیوں کے معاملے میں یورپی موقف کے ساتھ ہے۔ وزیراعظم دفتر کے مطابق اگر یورپی یونین روس کو عالمی مالیاتی ادائیگی کے نظام سوئفٹ سے باہر کرنے کا اقدام کرتی ہے، تو اٹلی اس کا ساتھ دے گا۔ ہفتے کو دراگی نے یوکرائنی صدر سے ٹیلی فون پر بات کی۔ واضح رہے کہ اطلاعات تھیں کہ یورپی یونین کی جانب سے روس کو سوئفٹ سے خارج کرنے کے منصوبے کی اٹلی، ہنگری اور جرمنی کی جانب سے مخالفت کی گئی ہے۔
[pullquote]خونریز جھڑپوں کے دو دن بعد بھی پاک افغان سرحد بند[/pullquote]
پاکستانی اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان خونریز جھڑپوں کے دو دن بعد بھی چمن سرحدی کراسنگ بند ہے۔ پاکستانی اور طالبان سرحدی محافظوں کے درمیان جھڑپوں میں تین اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد یہ سرحدی کراسنگ بند کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں وہاں سینکڑوں افراد کراسنگ کھلنے کے انتظار میں جمع ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ گزشتہ برس اگست میں طالبان کی جانب سے کابل پر حملے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی رفتہ رفتہ بڑھتی دکھائی دی ہے۔ پاکستانی حکام کا الزام ہے کہ افغان سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
[pullquote]انٹرنیٹ بل پر تنقید کے بعد ایرانی ایکٹویسٹ لاپتا[/pullquote]
انسانی حقوق کے سرگرم ایرانی کارکن حسین روناغی حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ ضوابط کے ایک مجوزہ بل پر تنقید کے بعد لاپتا ہیں۔ روناغی آزادی اظہار رائے کے داعی ہیں اور صارفین کے تحفظ کے نیے قانونی مسودے کے خلاف نہایت زوردار آواز اٹھا رہے تھے۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق وہ بدھ کے روز سے لاپتا ہیں۔ روناغی کے بھائی نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ روناغی کو اغوا کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ بل پر تنقید کے بعد سے ان کے بھائی کو نامعلوم افراد کی جانب سے فون پر دھمکیاں موصول ہو رہیں تھیں۔
[pullquote]ویتنام میں سیاحوں کی کشتی غرق، کم از کم 13 ہلاکتیں[/pullquote]
ویتنام کے وسطیٰ حصے میں سیاحوں سے بھری ایک کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ بتایا گیا ہےکہ یہ واقعہ ویتنام کے وسطی ساحلی علاقے ہوئی آن کے قریب ہفتے کو پیش آیا۔ مقامی حکام کے مطابق چار افراد تاحال لاپتا ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔
[pullquote]صومالیہ میں انتخابات ملتوی کر دیے گئے[/pullquote]
صومالیہ میں پارلیمان کے ایوان زیریں کے انتخابات کی ڈیڈلائن میں اگلے ماہ تک کے لیے توسیع کر دی گئی ہے۔ انتخابات میں بار بار تاخیر کی وجہ سے صومالیہ میں سیاسی بحران بدتر ہونے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ صومالیہ میں ایوان زیریں کے انتخابات کی ووٹنگ جمعے کے روز تک مکمل ہونا تھی، تاہم یہ ڈیڈلائن اب پندرہ مارچ تک بڑھا دی گئی ہے۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے انتخابات میں توسیع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صومالیہ میں سیاسی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔ اسی تناظر میں امریکا کی جانب سے صومالی حکام اور دیگر پر انتخابی عمل میں رخنہ ڈالنے کے تناظر میں ویزہ پابندیوں میں توسیع کر دی گئی ہے۔
[pullquote]انڈونیشیا: زلزلے کے بعد ملبے تلے دفن افراد کی تلاش کا کام جاری[/pullquote]
انڈونیشی علاقے مغربی سماٹرا میں گزشتہ روز آنے والے شدید زلزلے کے بعد تباہ ہونے والے مکانات کے ملبے تلے دفن افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔ چھ اعشاریہ دو کی شدت کے اس زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ سماٹرا جزیرے کا پاسامان ضلع ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس زلزلے کے نتیجے میں مجموعی طور پر آٹھ افراد ہلاک جب کہ 86 زخمی ہوئے ہیں۔ جمعے کے روز یہ زلزلہ زمین میں بارہ کلومیٹر کی گہرائی میں آیا تھا اس کے جھٹکے ملائیشیا اور سنگاپور میں بھی محسوس کیے گئے۔حکام کے مطابق اس زلزلے کے نتیجے میں 435 مکانات کو نقصان پہنچا ہے جب کہ چھ ہزار افراد عارضی پناہ گاہوں میں ٹھہرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
[pullquote]جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے اومیکرون ویرئینٹ کا تیز رفتار پھیلاؤ[/pullquote]
جنوبی کوریا میں گزشتہ چوبیس گھنٹے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے آغاز سے اب تک کے بدترین ثابت ہوئے۔ کہا جا رہا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں جنوبی کوریا میں کووِڈ انیس کی وجہ سے 112 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز طبی حکام نے ملک میں ایک لاکھ چھاسٹھ ہزار سے زائد افراد میں اس وائرس کی تشخیص کی۔ اسے ایک روز قبل ایک لاکھ اکہتر ہزار چار سو اکیاون افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص کی گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی اس تازہ لہر میں اومیکرون ویرئینٹ کا اہم کردار ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ہسپتالوں میں داخل افراد میں سے چھ سو چالیس تشویش ناک حالت میں ہیں۔
[pullquote]فیس بک کی جانب سے روسی سرکاری میڈیا کے خلاف کارروائی[/pullquote]
سوشل میڈیا ادارے فیس بک نے روس کے سرکاری میڈیا کو اپنے پلیٹ فارم پر اشتہارات چلانے اور ویڈیوز کے ذریعے پیسے کمانے سے روک دیا ہے۔ فیس بک کے ایک عہدیدار نے ٹوئٹر پر لکھا کہ فیس بک روسی سرکاری میڈیا سے متعلق دیگر اقدامات بھی کر رہا ہے۔ یوکرائن پر روسی حملے کے بعد فیس بک نے اپنے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر بھی متعارف کروایا ہے، جس کے ذریعے صارف اپنے پروفائل اور نجی کوائف کی سکیورٹی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب روس کی جانب سے فیس بک پر "بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کو محدود بنانے” کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اُردو[/pullquote]