پاکستان میں کن وزرائے اعظم کیخلاف عدم اعتماد لائی گئی؟ کتنی کامیاب ہوئیں؟

اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے، قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے حق میں اگر 172 ووٹ پڑگئے تو عمران خان کو وزیراعظم ہاؤس سے رخصت ہونا پڑے گا۔

حزب اختلاف کو امید ہےکہ ان کی لائی گئی تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں باآسانی کامیاب ہوجائےگی اور 172 سے زائد ووٹ حاصل کرلےگی۔

خیال رہے کہ پاکستانی پارلیمانی تاریخ اس قسم کی سیاسی ہلچل سے بھری پڑی ہے اور یہ تیسری بار ہے کہ کسی منتخب وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی گئی ہے۔

اگر تحریک کامیاب ہوگئی تو عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہوں گے جوکہ عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کے باعث ایوان وزیراعظم سے رخصت ہوں گے۔

اس سے قبل پاکستان کے2 منتخب وزرائے اعظم اپوزیشن کی تحریک عدم اعتمادکا سامنا کرچکے ہیں اور دونوں مرتبہ ہی تحریک ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔

[pullquote]بے نظیر بھٹو کیخلاف پہلی تحریک عدم اعتماد[/pullquote]

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ تحریک عدم اعتماد 1989 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف پیش کی گئی تاہم قومی اسمبلی میں اسے 12 ووٹوں سے رد کردیا گیا۔

Former Pakistani Prime Minister Benazir Bhutto cries as she lands at Karachi international airport after leaving Dubai, 18 October 2007. Bhutto is returning to the country after eight years of self imposed exile when she faced charges of corruption. U.S officials have backed a possible power-sharing deal between Bhutto and currrent Pakistani President, General Pervez Musharraf. Almost 20,000 troops and police have been deployed in Karachi amid threats by Islamist militants to assassinate both Musharraf and Bhutto on her return. AFP PHOTO/CARL DE SOUZA

237 ارکان کے ایوان میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو ہٹانے کے لیے 119 ووٹ درکار تھے تاہم تحریک کو 107 ووٹ حاصل ہوسکے، وزیراعظم نے 125 اعتمادکے ووٹ حاصل کیے جب کہ 5 ارکان غیر حاضر تھے۔

[pullquote]شوکت عزیز کیخلاف دوسری تحریک عدم اعتماد[/pullquote]

دوسری مرتبہ تحریک عدم اعتماد اگست 2006 میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور اقتدار کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز کو ہٹانے کے لیے لائی گئی تاہم اس بار بھی اپوزیشن کامیاب نہ ہوسکی۔

342 ارکان کے ایوان میں شوکت عزیز کو ہٹانےکے لیے 172 ووٹ درکار تھے تاہم عدم اعمتاد کی تحریک کو 136 ووٹ مل سکے اور شوکت عزیز 201 ووٹ لے کر وزارت عظمیٰ کا عہدہ بچاگئے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان بھی سابقہ وزرائے اعظم کی طرح ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوتی ہے۔

[pullquote] قومی اسمبلی کا اجلاس کب تک طلب کیا جاسکتا ہے؟[/pullquote]

قومی اسمبلی کی لیگل برانچ کے مطابق اپوزیشن کی ریکوزیشن پر اسپیکر قومی اسمبلی 14 روز میں اجلاس بلانے کے پابند ہیں۔

لیگل برانچ قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ریکوزیشن کے مطابق اسپیکر اب کسی بھی وقت اجلاس بلا سکتے ہیں، اجلاس بلانے کی حد 14 روز یعنی 22 مارچ بنتی ہے۔

لیگل برانچ حکام کا مزید کہنا ہےکہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے اور تحریک عدم اعتماد پیش ہونےکے 3 سے7 روز کے درمیان اس پر ووٹنگ کرانی ہوگی، اس کے علاوہ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ اجلاس قومی اسمبلی ہال میں ہی ہوگا،قومی اسمبلی کا اجلاس سینیٹ ہال یا کسی اور مقام پر بھی ہو سکتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے