[pullquote]جے یو آئی( ف) کے گرفتارکارکنوں اور ایم این ایز کو رہا کر دیا گیا[/pullquote]
اسلام آباد: گزشتہ رات پارلیمنٹ لاجز سے حراست میں لیے گئے جمعیت علماء اسلام( ف) کے کارکنوں اور اراکین قومی اسمبلی کو رہا کر دیا گیا۔
جے یو آئی( ف) کے تمام کارکنوں کو شخصی ضمانت اور ضمانتی مچلکوں پر رہا کیا گیا۔رہائی کے بعد جےیوآئی ف کے کارکن اور دونوں ایم این ایز تھانہ آبپارہ سے روانہ ہو گئے۔ جے یو آئی ف کے گرفتار کارکنان کو جیل وین میں تھانہ آبپارہ متقل کیا گیا تھا۔
وفاقی پولیس نے گزشتہ رات پارلیمنٹ لاجز میں آپریشن کے دوران ایم این اے جمال الدین اور مولانا صلاح الدین ایوبی سمیت 21 افراد کو حراست میں لیا تھا۔
گرفتاریوں کے بعد جے یوآئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پر جے یو آئی اور پی ڈی ایم میں شامل دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان نے کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور سمیت دیگر شہروں اور علاقوں میں احتجاج شروع کیا تھا تاہم مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پراحتجاج اوردھرنا آج صبح تک ملتوی کردیا گیا تھا۔
کارکنوں اورارکان اسمبلی کی رہائی پرجے یوآئی (ف) کے ترجمان نے اپوزیشن قائدین اور کارکنوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
[pullquote]کارکنان کی رہائی کے بعد دوبارہ سڑکوں پر آنے کی ضرورت نہیں، فضل الرحمان[/pullquote]
اسلام آباد: جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ رہائی نہ ملنے کی صورت میں ہم نے دوبارہ سڑکوں پر آنے کے لیے فیصلہ کیا تھا لیکن اب اسکی ضرورت باقی نہیں رہی۔
عوام اور کارکنوں کے نام اہم پیغام میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صبح ہونے سے پہلے ہی تمام ممبران قومی اسمبلی اور کارکن رہا ہوچکے ہیں، جس پر کارکنوں اور عوام کو اس فتح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ جے یو آئی اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں اور عوام کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہماری آواز پر لبیک کہتے ہوئے فوری رد عمل دیا اور پورے ملک کو ایک گھنٹے سے کم وقت میں جام کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ لاجز میں اسلام آباد پولیس نے تمام قوانین اور اخلاقیات کو روندتے ہوئے دھاوا بولا، ممبران پارلیمنٹ پر بلاجواز تشدد کیاگیا، قوم کے منتخب نمائندوں کو گھسیٹتے ہوئے گرفتار کیا جبکہ ان کے مہمانوں کو زدوکوب اور گرفتار کیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ واقعے کی غلط تصویر اور جھوٹ پر مبنی بیانیہ قوم کے سامنے رکھ کر تاریخ کے صفحات پر اپنے سیاہ کردار کی پردہ پوشی کی بھونڈی کوشش کی۔
جے یو آئی ف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں شکرانہ کے نوافل ادا کریں، آئندہ بھی اللہ تعالی سے فتح و نصرت کے لیے اجتماعی اور انفرادی دعاؤں کا خاص اہتمام کریں کیونکہ رجوع الی اللہ ہماری کامیابیوں کی ضمانت ہے۔ اللہ سے امید ہے کہ آئندہ بھی اور خاص طور پر عدم اعتماد کی تحریک میں ہمیں اللہ کامیابی عطاء کرے گا، ان نااہل نالائق اور ناجائز حکمرانوں سے اللہ قوم کو نجات عطاء کرے گا۔
[pullquote]جمعیت کے کارکنوں نےکان پکڑکر معافی مانگی اورنکل گئے،فوادچوہدری[/pullquote]
اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ جمیعت کے غنڈوں نے کان پکڑ کر معافی مانگ لی اورنکل گئے۔
وزیراطلاعات فواد چوہدری نے ٹویٹ میں کہا کہ جمعیت کے غنڈوں نے کان پکڑ کرمعافی مانگی اورنکل گئے۔ انہیں نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔
فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے سے جعلی دانشور ایک بار پھر ظاہر ہو گئےجو بغض عمران میں جتھوں کی حمایت سے بھی باز نہیں آئے۔اپوزیشن اور میڈیا میں ان کے حمایتی ایک مخصوص مافیا کا حصہ ہیں جو اپنے مفادات کے کیلئے اکٹھے ہیں۔
[pullquote]عمران خان اپنی کرسی بچانے کیلئے انقلابی بن گئے ہیں، شہبازشریف[/pullquote]
لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر اور پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنی کرسی بچانے کیلئے انقلابی بن گئے ہیں۔
احتساب عدالت لاہور کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد ذاتی خواہشات کے لئے نہیں بلکہ عوام کی خواہشات کے مطابق جمع کرائی ہے، ریکوزیشن پر تمام جماعتوں نے دستخط کئے، اسپیکر قومی اسمبلی کا فرض ہے کہ 14 روز میں اجلاس طلب کرے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کو مہنگائی کی آگ میں جھلسانے کا کوئی جواز نہیں دیا جاسکتا، کروڑوں افراد کو ایک وقت روٹی سے محروم کردیا گیا ہے، ہرورز مہنگی بجلی بجلی بن کرگررہی ہے، پونے چار سال میں 22 کروڑ عوام کے ساتھ زیادتی ہوئی، لوگ وزیر اعظم اور حکومت سے جان چھڑانے کی دعائیں مانگ رہے ہیں، عمران خان کا دعویٰ تھا کہ بیرون ملک بھیجے گئے پیسے واپس لاؤں گا، کہاں گئے ان کے وہ وعدے، دعوے کررہے تھے کہ مر جاؤں گا آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاؤں گا، ان حالات میں ریاست مدینہ کی بات ان کو زیب نہیں دیتی۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد جمع کرانے پر عمران خان بہکی باتیں کررہے ہیں، وہ خود کو عقل کل اور افلاطون سمجھتے ہیں، اور اپنی کرسی بچانے کیلئے انقلابی بن گئے ہیں، میں عمران خان کی زبان میں بات کر سکتا ہوں نہ کروں گا، ہم نے جیلیں کاٹی ہیں، ہم یہاں پیدا ہوئے ہیں اور یہاں ہی مریں گے،عمران خان آپ بھگوڑے ہوں گے، لیکن ہم آپ کو بھاگنے نہیں دیں گے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی بوکھلاہٹ کا شکار اور پریشان ہیں، گیڈر بھبھکیاں دیتے ہیں شہبازشریف، فضل الرحمان چھوڑوں گا نہیں، پارلیمنٹ لاجز میں فضل الرحمان کے ساتھیوں کو مارا پیٹا گیا، ہم آئینی اور قانونی طریقے سے چلنا چاہتے ہیں اور یہ غنڈہ گردی پر اتر آئے ہیں، کل حکومت نے اپنا مکروہ چہرہ دیکھا دیا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ نوازشریف کو غیرجمہوری طریقے سے اقتدار سے باہر کیا گیا، ہم آپ کو آئینی طریقے سے گھر بھیجنا چاہتے ہیں آپ کو کیا تکلیف ہے، یہ غنڈہ گردی سے آئین کا راستہ روکنا چاہتے ہیں، وزیراعظم آج ہر جگہ پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ان کا دوغلا اور کھوکھلا پن ظاہر ہو چکا ہے، جو فیصلہ متحدہ اپوزیشن کرے گی اس کو لے کر چلیں گے، اجتماعی مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ نوازشریف کریں گے۔
[pullquote]دہشت نہیں پھیلانا چاہتا لیکن ہمارے پاس اطلاعات اچھی نہیں، وزیرداخلہ[/pullquote]
اسلام آباد: وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ دہشت نہیں پھیلانا چاہتا لیکن ہمارے پاس اطلاعات اچھی نہیں، اور سب سے زیادہ خطرہ مجھے اور مولانا فضل الرحمان کو ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرداخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز جو واقعہ ہوا اس کی مذمت کرتے ہیں،پارلیمنٹ لاجز میں 362فیملیز رہائش پذیر ہیں، 50 افراد کو لاجز میں داخل کیا گیا، ہم نے 5 گھنٹے مذاکرات کیے، کامران مرتضیٰ نے پولیس سے متعلق انتہائی غلیظ زبان استعمال کی، پولیس پر تشدد کیا گیا اور 6 افراد زخمی ہوئے، پولیس والے ان کی ٹھوڑی پر ہاتھ لگا کر منتیں کرتے رہے،ہم نے کسی کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنایا، ابھی ٹریلر کےطور پر ہلکے پرچے دیے، قانون کو ہاتھ میں لیا تو اگلی بار دہشتگردی کے پرچے ہوں گے
وزیرداخلہ نے بتایا کہ اسلام آباد بہارہ کہو میں پولیس کی کارروائی میں دہشت گرد گروپ گرفتار کیا گیا، دہشت نہیں پھیلانا چاہتا لیکن اطلاعات کچھ اچھی نہیں ہیں، اطلاعات ہیں کہ مولانا فضل الرحمان اور شیخ رشید کو زیادہ خطرہ ہے۔ آپ کے کسی ایم این اے کو سیکیورٹی چاہیے ہمیں بتائے، اپوزیشن والے قانون کو ہاتھ میں نہ لیں ،غلطی کریں گے تو آپ خسارے میں رہیں گے، اگر کسی نے قانون کو ہاتھ میں لینے والے کو کچل کر رکھ دوں گا، میں تمام اپوزیشن رہنماوں کو درخواست کرتا ہوں کسی غلط فہمی کا شکار نہ رہیں۔
شیخ رشید نے کہا کہ آئی جی کے پی کو ہدایت کی ہے کہ کوئی بندہ یونیفارم میں اسلام آباد نہ آئے، ملیشاء کے لباس میں جو اسلام آباد ایا اس کو نہیں چھوڑوں گا، میں نہیں دیکھوں گا کہ کون کتنا بڑا لیڈر ہے یا کسی جماعت کا سربراہ ہے، کسی کی سیکیورٹی چاہئے تو ہمیں بتائے، مولانا سے درخواست سے مدارس کے طلبہ کو استعمال نہ کریں، انہوں نے احتجاج کی کال واپس لے کر اچھا کیا، نوازشریف اور آصف زرداری مولانا فضل الرحمان کو استعمال کررہے ہیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ عدم اعتماد جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن اپوزیشن عمران خان سے ذاتی لڑائی لڑنے جا رہی ہے، اپوزیشن والے عدم اعتماد سے راہ فرار اختیار کررہے ہیں، اور عدم اعتماد سے پہلے اسلام آباد میں کوئی ہنگامہ کرنا چاہتے ہیں، یہ لوگ 172 افراد کو لا ہی نہیں سکتے، مولانا فضل الرحمان نمبروں کی بات کرنے والے کون ہوتے ہیں، شکر ہے اب آپ کہ رہے ہیں فوج نیوٹرل ہے۔ بعد میں آپ کے 6 ایم این اے کم ہو جانے ہیں پھر ہمیں نہ کہنا، یہ عدم اعتماد سے بھاگ جائیں گے اور کسی اور طرف جائیں گے، الیکشن کے دن پارلیمنٹ ہاوٴس، پارلیمنٹ لاجز اور پرانا ایم این اے ہاوٴس رینجرز اور ایف سی کے حوالے ہوگا، ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں کوئی ایسا واقعہ نہ ہوجائے کہ کوئی بدنامی کا باعث بنے۔