[pullquote]پولش سرحد کے پاس يوکرينی فوجی اڈے پر روسی فضائی حملہ[/pullquote]
روس نے مغربی يوکرين ميں پولينڈ کی سرحد کے پاس واقع يافوريف کے ايئر بيس پر آج صبح فضائی حملے کيے، جن ميں ہلاکتوں اور زخميوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اس حملے ميں اب تک پينتيس افراد ہلاک اور ايک سو پينتيس زخمی ہو چکے ہيں۔ علاقائی گورنر نے دعوی کيا کہ روسی فورسز نے تيس سے زائد کروز ميزائل داغے۔ يافوريف پولينڈ کی سرحد سے صرف پچيس کلوميٹر کے فاصلے پر ہے اور يہ وہی فوجی اڈا ہے، جہاں يوکرينی فوج نيٹو کے ہمراہ مشترکہ جنگی مشقيں کرتی رہی ہے۔ اب تک اکثريتی روسی حملے يوکرين کے وسط اور مشرق کی جانب کيے جاتے رہے ہيں اور يہ پہلا روسی حملہ ہے، جو يوکرين ميں مغربی سرحد اور يورپی يونين کے رکن ملک پولينڈ کے پاس کيا گيا۔ ابھی تک يورپی يونين اور پولينڈ کا رد عمل سامنے نہيں آيا ہے۔
[pullquote]يوکرين ميں کوئی خفيہ امريکی ليبارٹری نہيں تھی، نیٹو[/pullquote]
مغربی دفاعی اتحاد نيٹو کے سيکرٹری جنرل ژينس اشٹولٹن برگ نے خدشہ ظاہر کيا ہے کہ آنے والے دنوں ميں يوکرين ميں حالات مزيد بگڑ سکتے ہيں۔ ان کے بقول روسی حملوں ميں تيزی کے سبب وہاں مالی نقصان بھی بڑھے گا اور امکان ہے کہ شہريوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے واقعات ميں بھی اضافہ ديکھا جائے گا۔ اشٹولٹن برگ نے جرمن اخبار ’ويلٹ ام زونٹاگ‘ سے بات چيت کرتے ہوئے يہ باتيں کیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ايسے روسی دعووں کو بھی مسترد کيا، جن کے مطابق يوکرين ميں امريکا کی خفيہ ليبارٹرياں ہيں، جن ميں کيميائی اور بائيو لوجيکل ہتھياروں پر کام جاری تھا۔ نيٹو کے سيکرٹری جنرل نے يوکرين کے لیے ’نو فلائی زون‘ کے مطالبات کو بھی ايک مرتبہ پھر مسترد کيا۔
[pullquote]عراق ميں ميزائل حملہ، ہدف مبینہ خفيہ اسرائيلی بيس[/pullquote]
عراق کے شمال ميں واقع کرد علاقے کے صدر مقام اربيل ميں اتوار کی صبح ايک درجن بيلسٹک ميزائل داغے گئے، جن کی ذمہ داری پاسداران انقلاب نے قبول کر لی ہے۔ ان کا ہدف مبینہ خفيہ اسرائيلی فوجی اڈا تھا۔ پاسداران انقلاب نے اسرائيل کو دھمکی بھی دی ہے کہ مستقبل ميں حملوں کا اسی طرز پر سخت جواب ديا جائے گا۔ واضح رہے کہ اس ہفتے کے آغاز پر پير کے روز شام ميں ايک اسرائيلی حملے ميں پاسداران انقلاب کے دو فوجی مارے گئے تھے اور ايران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ آج اربيل ميں ہونے والے حملے ميں کوئی جانی نقصان نہيں ہوا ہے۔
[pullquote]عراق کی ميزبانی ميں ايران اور سعودی عرب کی بات چيت معطل[/pullquote]
ايران نے عراق کی ميزبانی ميں سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات يکطرفہ طور پر معطل کر ديے ہيں۔ فوری طور پر اس فيصلے کی وجہ نہيں بتائی گئی ہے۔ گزشتہ روز سعودی عرب نے اکياسی افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد کيا، جن ميں کئی شيعہ مسلمان بھی شامل تھے۔ مبصرين کی رائے ميں يہی ايرانی فيصلے کی وجہ بنا۔ قبل ازيں عراقی وزير خارجہ فواد حسين نے ترکی ميں منعقدہ ايک سفارتی فورم سے خطاب کرتے ہوئے بتايا تھا کہ عراق آئندہ ہفتے بدھ کو علاقائی حريف ممالک سعودی عرب اور ايران کے مابين بات چيت کی ميزبانی کرے گا۔ بغداد کی ميزبانی ميں مکالمت کے چار ادوار منعقد ہو چکے ہيں اور يہ عمل گزشتہ ايک برس سے جاری ہے۔ سعودی عرب اور ايران مشرق وسطی ميں کٹر حريف ممالک ہيں، جن کے مابين شديد کشيدگی پائی جاتی ہے۔
[pullquote]يونانی وزير اعظم ترکی کے دورے پر[/pullquote]
يونانی وزير اعظم کيراکوس مٹسوٹاکس آج ترکی کے دورے پر ہيں۔ اس دوران وہ صدر رجب طيب ايردوآن سے ملاقات کريں گے۔ دونوں ملکوں ميں بحری امور، مہاجرين اور توانائی کے حصول کے ليے سمندری حدود کی ملکيت کے حوالے سے کئی اختلافات پائے جاتے ہيں۔ اس ملاقات ميں ان سميت عالمی امور اور بالخصوص يوکرين ميں جنگ کے موضوع پر بھی تبادلہ خيال متوقع ہے۔
[pullquote]امريکا ميں افغان سفارت خانے کی بندش[/pullquote]
واشنگٹن ميں افغان سفارت خانہ آئندہ ہفتے بند ہو جائے گا۔ اس امرکی تصديق امريکی محکمہ خارجہ نے کر دی ہے۔ سفارتی عملے کے پاس ايک ماہ کا وقت ہے کہ وہ امريکا کے ويزوں کے ليے درخواستيں جمع کرائيں۔ بصورت ديگر انہيں افغانستان ملک بدر کيا جا سکتا ہے۔ امريکا ميں ایک سفارت خانے کے علاوہ لاس اينجلس اور نيو يارک ميں دو افغان قونصل خانے بھی ہيں، جن ميں کوئی ايک سو افراد کام کر رہے ہیں۔ طالبان کو مالی وسائل کی شديد قلت کا سامنا ہے اور ايسے ميں سفارتی عملے کو تنخواہيں دينا ممکن نہيں رہا۔
[pullquote]بحيرہ روم ميں مہاجرين کی کشتی الٹنے سے متعدد ہلاکتوں کا خدشہ[/pullquote]
بحيرہ روم ميں ليبيا کے پاس مہاجرين سے بھری ايک کشتی الٹ گئی، جس کے نتيجے ميں کم از کم انيس افراد لاپتہ ہيں اور خيال کيا جا رہا ہے کہ وہ ڈوب گئے ہيں۔ ليبيا کے کوسٹ گارڈز کے مطابق کشتی پر کل تئیس افراد سوار تھے، جو يورپ پہنچنے کی کوشش ميں تھے۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کا تعلق شام اور مصر سے ہے۔ رواں سال کے پہلے دو ماہ کے دوران شمالی افريقہ سے يورپ پہنچنے کی کوششوں کے دوران 192 مہاجرين اپنی جانيں گنوا چکے ہيں۔ پچھلے سال سمندر ميں ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1,553 تھی۔
[pullquote]چين ميں ’زيرو کووڈ‘ پاليسی، کئی حصوں ميں لاک ڈاؤن[/pullquote]
چين ميں کورونا کے بڑھتے ہوئے کيسز کے تناظر ميں سخت لاک ڈاؤن متعارف کرايا جا رہا ہے، جس سے کئی ملين لوگ متاثر ہو رہے ہيں۔ شنگھائی ميں اسکول بند کرا ديے گئے ہيں۔ شين زن شہر ميں بھی سب کچھ بند کرا ديا گيا ہے اور ہفتے سے جيلين بھی جزوی طور پر بند پڑا ہے۔ ملک بھر کے اٹھارہ صوبوں ميں اوميکرون اور ڈيلٹا ويريئنٹس پھيل رہے ہيں۔ چند چينی سائنسدانوں کی رائے ميں ديگر ملکوں کی طرح سب کچھ کھول ديا جانا چاہيے کيونکہ اوميکرون کی علامات زيادہ خطرناک نہيں مگر حکومت ’زيرو کووڈ‘ پاليسی پر چل رہی ہے۔
[pullquote]ترکی اور يونان شديد برف باری کی لپيٹ ميں[/pullquote]
ترکی اور يونان ميں ايک مرتبہ پھر شديد برف باری نے تباہی مچا دی ہے۔ استنبول کے ہوائی اڈے پر درجنوں پروازيں منسوخ ہو چکی ہيں جبکہ ٹريفک حادثات اور رکاوٹوں کی وجہ سے کئی مرکزی شاہراہيں بھی بند پڑی ہيں۔ آج اتوار کے دن بھی طوفان کی پيشن گوئی ہے اور حکام نے عوام سے گھروں ميں رہنے کی اپيل کی ہے۔ يونان کے کئی جزائر بھی برف باری کی لپيٹ ميں ہيں اور کچھ حصوں ميں درجہ حرارت منفی پندرہ ڈگری سينٹی گريڈ تک پہنچ چکا ہے، جو ان علاقوں کے ليے انہونی سی بات ہے۔ يونان ميں بھی نقل و حمل کا نظام بری طرح متاثر ہے۔
[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اُردو[/pullquote]