کشیر ہاوحال ساہر نی پھاسلن ہون اختیار گھچے میا آسن۔۔۔۔

بہہ یہچھس یاسان دنیاس کیا مطلب چھو۔۔۔۔(میں جو چاہتا ہوں دنیا کو اس سے کیا مطلب)
دیناچھ ہمیش پنینگ کتھ کران۔
دنیا ہمیشہ اپنی بات کرتی ہے۔۔۔
کشیر چھ میون گھر یتہ بھ ہمیش روزن یاسان چھس۔۔
(کشمیر میرا گھر ہے جہاں میں ہمیشہ رہنا چاہتا ہوں)
کشیر ہاوحال ساہر نی پھاسلن ہون اختیار گھچے میا آسن۔۔۔۔
(کشمیر پر ہر فیصلے کا اختیار صرف مجھے ہے)
کاہن کتھ کانیاں ہیکی میانج گھارو پیھصلہ کریت۔
(میرے گھر کے فیصلے کوئی کیسے کر سکتا ہے)
یہ الفاظ ایک کشمیری کے ہیں جو سرینگر کا رہنے والا ہے،بی بی سی کو 5سال پہلے انٹرویو دینے والے اس شخص کا نام مظفر احمد وانی ہے۔یہ 56 سالہ شخص پیشہ کے اعتبار سے معلم ہے جو بھارتی زیر انتظام کشمیر میں پلوامہ میں رہتا ہے۔یہ جو الفاظ اوپر کوڈ ہوئے ہیں یہ اس وقت کے ٹھیک بعد کے ہیں جب یہ شخص اپنے دو بیٹے کھو چکا تھا۔نوید عالم وانی،اور برھان مظفر وانی،یہ دونوں آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوئے۔بھارت، بھارتی زیر انتظام کشمیر میں موجود اپنی فورسز اور اداروں سے برہان مظفر کے بارے میں یہ ڈیکلریشن بارہا دے چکا تھا کہ برہان مظفر وانی ایک دہشت گرد ہے اور بھارتی سیکورٹی فورسز کو انتہائی مطلوب ہے۔آپ۔زرا اس درد اور کرب کا اندازہ کیجئے کے جس شخص کے دو جوان بیٹے اس دنیا سے جا چکے ہوں لیکن اسوقت بھی وہ کشمیر پر اپنے سے پیچھے نا ہٹ رہا ہو۔

مغلیہ سلطنت نے 1586 سے 1751 تک کشمیر پر حکومت کی۔ 1752-54 کے دوران افغانستان کے احمد شاہ ابدالی نے مغلوں سے کشمیر کو حاصل کر کے کشمیر پر جابرانہ تسلط قائم کیا۔ کشمیر میں افغان درانی دور 1819 تک چلا جب پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت میں سکھوں نے شوپیاں کی جنگ میں افغان گورنر جبار خان کو شکست دی۔کشمیر پر مغلوں کی حکمرانی کے دور کو شاہان مغلیہ کہا جاتا ہے۔سنہ 1822 میں رنجیت سنگھ نے گلاب سنگھ کو، جن کا تعلق ہندو ڈوگرا برادری سے تھا، ان کی خدمات کے عوض جموں کا راجہ بنا دیا۔ گلاب سنگھ نے اس میں راجوری، پونچھ، بدرواہ اور کشتوار کا اضافہ کیا۔

سنہ 1839 میں رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد گلاب سنگھ کا مقام مزید نمایاں ہو گیا۔ سنہ 1845 میں برطانیہ نے یہ کہہ کر سکھوں کے ساتھ جنگ چھیڑ دی کہ مہاراجہ وقت نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ساتھ 1809 میں طے پانے والے معاہدہ امرتسر کی خلاف ورزی کی ہے، جس کے ذریعے سکھ سلطنت کی مشرقی سرحدیں طے ہوئی تھیں۔سکھ مہاراجہ جنگ ہار گئے اور نو مارچ 1846 کے معاہدہ لاہور کے تحت طے ہونے والا جرمانہ ادا نہیں کر سکے، جس کے بعد انھیں کشمیر سمیت دیگر زمینیں بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام کرنا پڑیں۔

ان کی کامیابی یقینی بنانے میں کردار ادا کرنے کے لیے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے جموں کے راجہ گلاب سنگھ کو مہاراجہ بنا دیا اور 1846 کے معاہدہ امرتسر (ٹریٹی آف امرتسر) کے تحت تقریباً 5380پچھتر لاکھ روپے میں (لگ بھگ ایک لاکھ پاؤنڈ) انھیں کشمیر بیچ دیا۔وہاں لیکر 1947 تک کشمیر پر مہاراجوں کی حکومت رہی۔گو کہ اس سارے دور میں بہت سی باتیں،واقعات موجود ہیں لیکن اس دور میں کشمیر ایک ریاست کے طور پر بہرحال موجود رہا۔

1947 تقسیم ہندوستان کے بعد اس ریاست کو دو حصوں میں تقسیم ہونا پڑا۔ایک طرف بھارتی فورسز نے سرینگر ہوائی اڈہ پر اتر کر آج کے موجودہ بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔اور دوسری طرف قبائلیوں جنگجووں نے ہزارہ اور موجودہ آزاد کشمیر کی مقامی آبادی سے ملکر موجودہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔دونوں اطراف کے درمیان ایک عارضی بارڈر جسے لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے کی لکیر کھینچ دی۔یعنی کے ایک آن میں کشمیر خاندان دولخت ہوگئے جو آج تک ایک دوسرے کی دید کو ترستے ہیں۔اسوقت سے آج کی تاریخ اور لمحے تک،بھارت پاکستان کے درمیان کشمیر پر لاتعداد مذاکرات ہوچکے ہیں۔جنکا تذکرہ شائد طوالت کا سبب بنے لیکن۔۔۔۔۔۔۔

ان سب میں جو بات آج بھی اپنی اصل حالت میں قائم ہے وہ ہے کہ "کشمیری کیا چاہتے ہیں” بھارتی زیر انتظام کشمیر ہو یا پاکستانی زیر انتطام کشمیر دونوں اطراف کے کشمیری اپنے حق خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں۔گزشتہ سال پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اپنی ایک تقریر میں یہ الفاظ کہے کہ "میں کشمیری کو انکا حق خود ارادیت دینے کا قائل ہوں۔یہ سراسر کشمیریوں کا حق ہیکہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا خودمختار رہنا چاہتے ہیں۔

بھارتی زیر انتظام کشمیر میں موجود کشمیری اپنے شہداء کو آج بھی پاکستانی پرچم میں دفن کرتے ہیں جبکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں بھی سیاستدان طبقہ سے لیکر عام آدمی تک "کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے پر کاربند نظر آتا ہے۔دونوں اطراف میں موجود کشمیریوں کی ایک تعداد”خودمختار” کشمیر کی حامی ہے۔لیکن ایک بات طے ہے یہ تمام طبقات ایک بات پر متفق ہیں اور وہ یے حق خودارادیت،یعنی کشمیر پر فیصلہ کرنے کا اختیار صرف کشمیری کے پاس ہونا چاہیے۔یہی وجہ ہیکہ دونوں اطراف کشمیریوں میں آج کل یہ نعرہ تقویت پا رہا ہے”ایک نعرہ سب پر بھاری۔۔۔۔۔رائے شماری رائے شماری”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے