[pullquote]یوکرینی فوج نے روس کے متعدد حملے ناکام بنا دیے[/pullquote]
یوکرینی افواج نے روس کی جانب سے ملک کے مشرقی حصے میں کیے جانے والے کئی تازہ حملے ناکام بنا دیے ہیں۔ یہ بات برطانوی انٹیلیجنس کی طرف سے بتائی گئی ہے۔ دوسری جانب یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ رواں ہفتہ جنگ کے حوالے سے مشکل رہے گا۔ ادھر آسٹریا کے چانسلر کارل نیہامر آج ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کر رہے ہیں۔ آسٹریا کی وزارت خارجہ کے مطابق کارل نیہامر اس ملاقات میں جنگ بندی کے امکانات کے علاوہ روسی صدر کو اس جنگ کے سبب پیدا شدہ خطرات سے آگاہ کریں گے۔ 24 فروری کو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد روسی صدر پوٹن کے ساتھ کسی یورپی رہنما کی یہ پہلی براہ راست ملاقات ہوگی۔
[pullquote]فن لینڈ اور سویڈن کو نیٹو اتحاد میں شامل کرنے سے یورپ میں استحکام نہیں آئے گا، ماسکو[/pullquote]
ماسکو حکومت نے کہا ہے کہ سویڈن اور فن لینڈ کو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا حصہ بنانے سے یورپ میں استحکام کا راستہ ہموار نہیں ہو گا۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیشکوف کے مطابق روس کا یہ موقف رہا ہے کہ یہ اتحاد تصادم کی راہ اپنانے کا ایک ہتھیار ہے اور اس میں مزید توسیع براعظم یورپ میں استحکام کا سبب نہیں بنے گا۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ نیٹو اتحاد کے وزرائے خارجہ کے برسلز میں ہونے والے اجلاس میں فِن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو میں مجوزہ شمولیت کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔
[pullquote]اقتصادی بحران کے سبب ملک میں کورونا سے زیادہ اموات ہو سکتی ہیں، سری لنکن طبی حکام[/pullquote]
سری لنکا میں ڈاکٹروں نے متنبہ کیا ہے کہ اقتصادی بحران کے سبب ملک میں کورونا وائرس کی وبا کے مقابلے میں زیادہ اموات ہو سکتی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق ملک میں زندگی بچانے والی دوائیں تقریباً ختم ہوچکی ہیں۔ سری لنکا 1948ء میں اپنی آزادی کے بعد سے اب تک کے سب سے سنگین اقتصادی بحران سے دوچار ہے۔ سری لنکا میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں درآمد شدہ طبی ساز و سامان اور اہم دوائیں تقریباً ختم ہوچکی ہیں اور گزشتہ ماہ سے ہی متعدد شعبوں میں معمول کی سرجریز معطل کردی گئی ہیں۔ اقتصادی بحران کی وجہ سے سری لنکن عوام میں غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے اور وہاں صدر راجا پاکسے سے استعفی کے مطالبے کے ساتھ بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔
[pullquote]انڈونیشیا میں صدر کی مدت صدارت میں اضافےکے منصوبے کے خلاف ملک گیر احتجاج[/pullquote]
انڈونیشیا میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور ملکی صدر جوکو ویدودو کی مدت صدارت میں توسیع کے منصوبے کے خلاف طلبہ کی طرف سے بڑے مظاہرے کیے گئے ہیں۔ یہ مظاہرے دارالحکومت جکارتہ کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں بھی کیے گئے جن میں جنوبی سولاویسی اور مغربی جاوا بھی شامل ہیں۔ جکارتہ میں ہزاروں طلبہ نے پارلیمان کی طرف مارچ کیا۔ انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو کی مدت صدارت بڑھانے کے لیے ملکی آئین میں تبدیلی یا پھر 2024ء کے انتخابات میں تاخیر کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔
[pullquote]جنگ کے سبب 45 لاکھ سے زائد یوکرینی باشندے ملک چھوڑ چکے ہیں، اقوام متحدہ[/pullquote]
اقوام متحدہ کے مطابق یوکرین پر روسی حملے کے آغاز کے بعد سے اب 45 لاکھ سے زائد یوکرینی باشندے جان بچانے کے لیے اپنا ملک چھوڑ چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کے مطابق سب سے زیادہ 25 لاکھ یوکرینی ہمسایہ ملک پولینڈ پہنچے ہیں جبکہ رومانیہ اور ہنگری میں پناہ لینے والے یوکرینیوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ یو این ریفیوجی ایجنسی کے اندازوں کے مطابق یوکرینی مہاجرین کی ایک بڑی تعداد یورپ کے دیگر ملکوں میں بھی پہنچی ہے تاہم ان کی تعداد ریکارڈ نہیں کی گئی۔ دوسری طرف گزشتہ روز جرمن چانسلر اولاف شولس نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ٹیلفون پر بات کی۔ انہوں نے یوکرین کو جرمنی کے مکمل تعاون کی یقینی دہائی کرائی۔
[pullquote]یوکرائن کے معاملے پر بائیڈن اور مودی کی ورچوئل ملاقات[/pullquote]
امریکی صدر جوبائیڈن اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی آج ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے ملاقات ہو رہی ہے، جس کا مرکزی موضوع یوکرین جنگ کے سبب پیدا شدہ صورتحال ہے۔ جو بائیڈن کی ترجمان جین ساکی کے مطابق بائیڈن اس موقع پر اپنے بھارتی ہم منصب کو یوکرین کے خلاف روس کی بہیمانہ جنگ اور دنیا بھر میں خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی مارکیٹ پر اس کے نتائج سے آگاہ کریں گے۔ بھارت ابھی تک یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت کرنے سے گریزاں ہے۔ مارچ کے آغاز میں ’کواڈ الائنس‘ کی ملاقات کے موقع پر دونوں رہنما، روس کے خلاف ایک مشترکہ مذمتی بیان جاری کرنے میں ناکام رہے تھے۔
[pullquote]فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں اور مارین لے پین کے درمیان رائے شماری کا دوسرا مرحلہ[/pullquote]
فرانس میں گزشتہ روز ہونے والے صدارتی انتخاب میں صدر ایمانوئل ماکروں اور ان کی انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی مضبوط ترین حریف مارین لے پین نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں تاہم کوئی بھی امیدوار فیصلہ کن برتری حاصل نہیں کر سکا۔ ڈالے گئے 96 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد ماکروں کو 27.41 فیصد جبکہ لے پین کو 24.03 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے ان دو امیدواروں کے مابین دوسرے مرحلے کے لیے ووٹنگ اب 24 اپریل کو ہو گی۔ گزشتہ روز کی رائے شماری کے جائزوں کے مطابق ماکروں دوسرے مرحلے میں 51 فیصد ووٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
[pullquote]بھارتی ریاست گجرات کے ایک کیمیکل پلانٹ میں آتش زدگی، چھ افراد ہلاک[/pullquote]
بھارتی ریاست گجرات میں ایک کیمیکل پلانٹ میں دھماکے کے بعد لگنے والی آگ کے سبب کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ دہیج انڈسٹریل اسٹیٹ میں گزشتہ شب پیش آیا۔ مقامی پولیس افسر کے مطابق مذکورہ فیکٹری مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے، جبکہ ملبے سے چھ افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔ آگ بجھانے والے محکمے کے مطابق اوم آرگینک پلانٹ میں لگی آگ پر مکمل طور پر قابو پایا جا چکا ہے۔
[pullquote]اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے میں دو فلسطینی خواتین کو ہلاک کر دیا[/pullquote]
اسرائیلی فوجیوں نے گزشتہ روز مغربی کنارے کے علاقے میں دو مختلف واقعات کے دوران دو فلسطینی خواتین کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک خاتون کو ہیبرون کی سرحدی چیک پوسٹ پر ایک اسرائیلی فوجی نے اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا جب اس نے اس پر چاقو سے حملہ کیا۔ اس حملے میں یہ اسرائیلی فوجی معمولی زخمی ہوا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق قبل ازیں اتوار کی صبح مغربی کنارے کے شہر بیت اللحم کے قریب ایک فسلطینی خاتون کو اس کے مشکوک عمل کے سبب فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ خاتون بار بار متنبہ کرنے کے باوجود اسرائیلی فوجیوں کی طرف بڑھ رہی تھی جس پر یہ کارروائی کی گئی۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ خاتون غیر مسلح تھی۔
[pullquote]روسی حملے کی وجہ سے یوکرین کی معیشت شدید تباہ حالی کا شکار، ورلڈ بینک[/pullquote]
ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ روسی حملے سے یوکرین کی معیشت کو شدید تباہی کا سامنا ہے اور یہ اس سال کے آخر تک نصف رہ جائے گی۔ روسی حملے کے بعد سے یوکرین میں کاروباروں کی بندش اور تجارتی معاملات میں رکاوٹ اس صورتحال کی وجہ بنی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق روسی حملے کے باعث یوکرین میں اہم بنیادی شہری ڈھانچے کو تباہی کا سامنا ہے اور زرعی شعبے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ ورلڈ بینک نے یوکرین کے لیے بڑی مالی امداد کی تجویز دی ہے تاکہ یوکرین کی عوام کی مدد کے ساتھ ساتھ یوکرین میں حکومتی معاملات چلانے کو ممکن بنایا جا سکے۔
[pullquote]بشکریہ ڈی ڈبلیو اُردو[/pullquote]