سوشل میڈیا پر آرمی چیف کے خلاف مہم ، پاک فوج ، تحریک انصاف اور شہباز شریف نے کیا کہا؟

[pullquote]عسکری قیادت کا پاک فوج کو بدنام کرنے کی پروپیگنڈا مہم کا سخت نوٹس[/pullquote]

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت 79ویں فارمیشن کمانڈر کانفرنس ہوئی، جس میں پاک فوج کو بدنام اور ادارے و معاشرے کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی حالیہ پروپینگڈا مہم کا سختی سے نوٹس لیا گیا جبکہ شرکا نے ملک اور قانون کی حکمرانی کے لیے عسکری قیادت کے فیصلوں کی بھرپور حمایت بھی کی۔پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت فارمیشن کمانڈر کانفرنس میں کور کمانڈرز، پرنسپل اسٹاف آفیسرز اور پاک فوج کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق شرکا کو پیشہ ورانہ امور، قومی سلامتی کو درپیش چیلنجز اور روایتی اور غیر روایتی خطرات سے نمٹنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ کے ساتھ پیشہ ورانہ امور اور نیشنل سیکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا گیا.کانفرنس میں پاک فوج کو بدنام کرنے اور ادارے و معاشرے کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی حالیہ پروپیگنڈہ مہم کا نوٹس لیا گیا جبکہ اس مہم کی روک تھام پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔فارمیشن کمانڈرز نے واضح پیغام دیا کہ ہم پروپیگنڈا مہم چلانے والوں تک پہنچ گئے ہیں، جو بھی ہو جائے، فوج قومی سلامتی پر کبھی کمپرومائز نہیں کرے گی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کانفرنس میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاک فوج وطن کی حفاظت کیلئے ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور آئندہ کھڑی رہے گی۔ترجمان پاک فوج کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فارمیشن کمانڈرز کانفرنس پوری فوج کی آواز ہے، پوری فوج آئین اور قانون پر عمل پیرا ہے۔ فارمیشن کمانڈرز کے شرکا نے آئین اور قانون کی حکمرانی کو ہر قیمت پر برقرار رکھنے کے عسکری قیادت کے فیصلے پر بھر پور اور مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانفرنس کے اختتام پر شرکا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اور ہر قسم کے اندرونی اور بیرونی خطرات کے خلاف پاکستان کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کا دفاع جاری رکھے گی۔آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی قومی سلامتی مقدس ہے، پاک فوج بغیر کسی سمجھوتے کے اس کی حفاظت کے لیے ہمیشہ ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑی رہے گی اور قانون کی حکمرانی کو ہر قیمت پر برقرار رکھے گی۔

[pullquote]آرمی چیف کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلانے والا گرفتار[/pullquote]

راولپنڈی: ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پر اینٹی اسٹیٹ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی گرفتاریوں کے لیے کریک ڈاون کیا جس میں آرمی چیف کے خلاف ٹرینڈ چلانے والے سیاسی جماعت کے ایکٹوسٹ کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔ذرائع کے مطابق سوشل میڈیا پر آرمی چیف، چیف جسٹس سپریم کورٹ سمیت اعلی عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹرینڈ چلانے اور اینٹی سٹیٹ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی گرفتاریوں کے لیے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاون شروع کردیا گیا ہے۔ایف آئی اے سائبر کرائم کی ٹیموں نے دیگر ونگز کے ساتھ مل کر اسلام آباد، لاہور، کراچی، ملتان اور راولپنڈی میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور لاہور سے آرمی چیف کے خلاف ٹرینڈ چلانے والے سیاسی جماعت کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ مقصود عارف سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کرکے قانونی کاروائی کے لیے ایف آئی کے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کے حوالے کردیا.ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر آفیسر کا کہنا تھا کہ چونکہ سائبر کرائم ایکٹ سے سیکشن 20 غیر فعال ہوچکی ہے اس لیے سائبر کرائم ونگ براہ راست ایسے عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لاسکتا اس لیے سائبر کرائم ونگ دیگر یونٹس کی معاونت کرکے ملزمان کو کاونٹر ٹیررازم ونگ کے حوالے کررہا ہے اور ملزمان کی گرفتاریوں کے لیے چھاہے جاری ییں۔دوسری جانب ایف آئی کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کے آفیسر کا کہنا مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں، ابھی مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ہے، ڈی جی ایف آئی اے کو سائبر کرائم ونگ کے سینئر افسران نے بریفنگ بھی دی ہے جس میں سوشل میڈیا پر اینٹی اسٹیٹ سرگرمیوں میں ملوث ہزاروں پیجز کی نشاندہی کی گئی ہے۔آفیسر نے بتایا کہ اسی طرح دو ہزار سے زائد اکاؤنٹس ایسے تھے جو پاک فوج اور ان کے سربراہ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے تھے۔

[pullquote]تحریک انصاف کا اپنے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی گرفتاری پر ہائیکورٹ جانے کا اعلان[/pullquote]

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی گرفتاری پر ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر نے بتایا کہ ہم نے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی گرفتاری کا معاملہ عدالت میں اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔اسد عمر کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی حراسگی کا معاملہ عدالت میں لے جانے کے لیے درخواست تیار کرلی گئی ہے، تحریری درخواست کل صبح ہائی کورٹ میں دائر کی جائے گی.خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر آرمی چیف اور چیف جسٹس سپریم کورٹ سمیت اعلیٰ عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹرینڈ چلانے اور اینٹی اسٹیٹ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کی گرفتاریوں کے لیے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاون شروع کیا گیا ہے۔

[pullquote]اداروں کے خلاف مہم چلانے والے قانون کی گرفت میں ضرور آئیں گے، وزیراعظم[/pullquote]

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں کی سب کو اجازت ہے مگر انتشار پھیلانے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے، اداروں کے خلاف مہم چلانے والے قانون کی گرفت میں آئیں گے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’آئین شکنوں کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر من و عن عمل کریں گے، ملک میں سیاسی سرگرمیوں کی سب کو اجازت ہے مگر انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے اگر ایسا ہوا تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، ہم کسی کو کچھ نہیں کہیں گے،ادارے اپنا کام کریں گے، اداروں کے خلاف مہم چلانے والے قانون کی گرفت میں آئیں گے‘۔وزیراعظم شہباز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب صرف پنجاب نہیں پاکستان میں رفتار کے ساتھ کام ہوں گے، پارلیمان کی مدت ڈیڑھ سال ہے، ہم نے کتنا ساتھ رہنا ہے اس کا اتحادی مشاورت کے ساتھ مل کر فیصلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) کی سوچ رہی ہے کہ اصلاحات کے ساتھ الیکشن میں جائیں، ہمارے لیے سب سے بڑا چلینج تباہ حال معیشت کی بحالی اور مہنگائی پر قابو پانا ہے .وزیراعظم نے پیپلزپارٹی کی کابینہ کا حصہ بننے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی حکومت ہے تو سب کو شامل کرنا پڑے گا، لیگی وزرا کے قلمدان کا حتمی فیصلہ نواز شریف کریں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ ’باتوں سے قومیں نہیں بنا کرتیں،اتوار کو بھی کام کرنا پڑے گا، دو چھٹیاں خوشحال قومیں کرتی ہیں‘۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’کشمیر،افغانستان پر بریفنگ پارلیمان میں ہوئی تو لیٹر گیٹ پر کیوں نہیں، مودی کو مشورہ دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کر کے پائیدار امن کی طرف چلیں، عمران خان دوست ممالک کو ناراض کر کے اور تعلقات خراب کر کے گئے ہیں، جو ممالک دوست بننا چاہتے تھے ان سے بھی ہمارے تعلقات خراب ہو گئے جس کو جلد بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی‘۔شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس کو پاکستان ہاؤس میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان سے بیوروکریسی لائیں گے، بیوروکریسی پر واضح کر دیا ہے کہ میرٹ سے ہٹ کر کوئی کام کہوں تو منع کر دیں۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ طعنہ دینے والے دیکھ لیں اللہ نے اچکن پہنا دی ہے، نیب نیازی گٹھ جوڑ کی چیرہ دستیاں سب کے سامنے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے