ایک معروف اور قابل احترام مذہبی شخصیت نے ابھی فون کیا اور پوچھا کہ آپ کی سمجھ نہیں آتی کہ آپ کس سیاسی جماعت کے حامی ہیں ؟
کس مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور کون سی پارٹی آپ کو پسند ہے ؟
میں نے ان سے کہا کہ میں تو کسی ایک سیاسی جماعت کا حامی نہیں البتہ معاشرے میں سیاسی جماعتوں کا حامی ہوں اور کسی جماعت یا شخصیت کو تنقید یا تعریف سے مبرا نہیں سمجھتا ۔
کسی مکتب فکر سے تعلق نہیں البتہ عملا مکتب فقر سے تعلق ہے ۔
اور رہی بات پارٹی کی پسندیدگی کی تو صرف ایک ہی پارٹی پسند ہے جسے افطار پارٹی کہتے ہیں یا ٹی پارٹی…. مزاح کے بعد ان سے سنجیدہ گفتگو ہوئی تو پھر وہ مطمئن ہو گئے ۔ کہنے لگے کہ آپ کی تحریر سے یہ باتیں سمجھ نہیں آتیں، آپ کی گفتگو اور تحریر میں فرق کیوں ہے ؟
تو میں نے ان کی خدمت میں گزارش کی کہ دیکھیں آپ دینی علوم کے استاد ہیں ۔ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے ۔ اس میں اشارے ہیں ، تفصیل ہے ۔ محکمات ہیں ، متشابہات ہیں ۔ عربی کی کتاب کو سمجھنے کے لیے عربوں کو بھی کتنا وقت لگتا تھا ۔ روایات میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رض کو سورہ البقرہ سمجھنے میں آٹھ برس لگے جسے ہمارے ہاں قاری صاحبان نے پہلی رکعت میں مکمل پڑھ دیا تھا ۔
تو ایک بات واضح ہو گئی کہ پڑھنے میں اور سمجھنے میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔پڑھنا تو آپ پانچویں جماعت تک سیکھ جاتے ہیں لیکن لکھا کیا ہوا ہے اسے سمجھنے کے لیے ایک عمر چاہیے ہوتی ہے ۔ اکثر مجھے اپنی پوسٹ پر دوستوں کو لکھنا پڑتا ہے کہ دوبارہ پڑھیں ۔ اکثر ان میں سے ایسے ہوتے ہیں جو دوبارہ بھی پڑھتے ہی ہیں ۔ اسی طرح بولنا تو آپ پانچ برس میں سیکھ جاتے ہیں لیکن کب ، کہاں اور کتنا بولنا ہے ، یہ ہم اسی برس کی عمر میں بھی اکثر نہیں سیکھ پاتے ۔
دوسری بات قرآن کریم کے ضمن میں ہو رہی تھی کہ ایک قرآن ہے اور قرآن کے فہم کی بنیاد پر کتنے مسالک اور سلاسل وجود میں آ چکے ہیں ۔ ایک وقت ایسا بھی تھا فہم کے مسئلے پر ایک دوسرے کی تکفیر بھی کی گئی ۔ ان الحکم الا للہ والے کیا کہہ رہے تھے لیکن دیکھیں کہ فہم کا یہ مسئلہ رسول اللہ ص کے دور میں کبھی اس طرح پیدا نہیں ہوا جس طرح ان کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد ہوا ۔ اس وقت جب بھی کیمونیکیشن گیپ پیدا ہوتا تو رسول اللہ ص موجود تھے ، وہ سمجھا دیتے تھے ۔
صوفیاء کے سلاسل ، فقہاء اور علماء کا اختلاف کوئی ذاتی تھوڑا ہے ۔ فہم قرآن کی بنیاد پر ہے ۔ سب نے دیانت داری سے اجتہاد کیا اور اپنے اپنے نتائج پر پہنچے ۔ اپنی بات کو حق اور سچ ثابت کرنے کے لیے جانیں کھپا دیں ۔ ان کا قبول و رد بھی دین کی محبت میں ہوتا تھا اور ہوتا ہے اور ان کے مخالفین بھی اسی درد کے ساتھ ان کا رد کرتے تھے ۔ کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی بات بیان کی اور ساتھ ہی کہا کہ ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب (یہ ہماری (محنت اور رائے) ہے ، باقی درست بات اللہ کی ذات ہی بہتر جانتی ہے) .
رسول اللہ ص نے ارشاد فرمایا کہ علماٗ علوم انبیاٗ کے وارث ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تمام تر اختلاف علماٗ کے سینوں سے نکل کر ہی پھیل رہے ہیں ۔ ہم علماٗ کے ان اختلافات کو دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں کہ ہم کس عالم کے پیچھے چلیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کوئی عالم آپ کو زبردستی یہ نہیں کہتا کہ میرے پیچھے چلو ، یہ آپ کا فہم اور مرضی ہوتی ہے کہ جسے آپ ٹھیک سمجھتے ہیں ، اسی کے پیچھے چلتے ہیں لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ اگر کوئی عالم آپ کو دہشت گردی ، قتل و قتال کی بات کرتا ہے اور آپ ان کی گفتگو سن کر کوئی قتل کر دیتے ہیں تو پھانسی آپ کو لگے گی ،عالم کو نہیں ۔ راول پنڈی کے مفتی حنیف قریشی صاحب نے تقریر کی تھی اور اگلی صبح دعوت اسلامی کے ممتاز قادری صاحب کوہسار مارکیٹ اسلام آباد میں اس وقت کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر صاحب کو قتل کر دیا تھا ۔
تو یاد رکھیں ، جس طرح آپ سبزی منڈی میں ٹماٹر، پیاز ،دھنیا، پودینہ خریدتے وقت دکاندار کی شکل اور دکان دیکھنے کے بجائے ٹماٹر پیاز پر فوکس کرتے ہیں ، اسی طرح آپ کو مذہب کی اس مارکیٹ میں عالم کی شکل دیکھنے کے بجائے وہ جو بات کہہ رہا ہے ، وہ دیکھنی ہو گی ۔ یہ اس کی عقل نہیں ، آپ کے عقلمند ہونے کا امتحان ہے ۔ اگر اس ملک میں فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے والے موجود ہیں اور ان کے لاکھوں میں طرفدار ہیں تو اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ ان کا سودا بک رہا ہے کیونکہ جاہل ، گنوار اور احمق خریدار مارکیٹ میں آیا ہوا ہے ۔ ایسے موقعوں پر بیچنے والوں کی چاندی ہو جاتی ہے ۔ اب یہ ہی دیکھ لیں جو لوگ کل تک جہاد اور تکفیر کی منڈی لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، آج کل امن و امان کی باتیں کیوں کر رہے ہیں ۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ اب بے وقوف خریدار مارکیٹ سے نکلتا جا رہا ہے ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بے وقوف باشعور ہو گیا ہے تو میرا جواب ہے کہ نہیں ، بلکہ وہ اگلی مارکیٹ میں بے وقوف بننے نکل چکا ہے ۔ وہاں ایک عقل مند کھڑا مقبول بیانیے کے چورن نئی پڑیا میں ڈال کر بیچ رہا ہے اور یہ اب وہاں کھڑا نعرے لگا رہا ہے ۔
بات لمبی ہو گئی ،،، میں کہہ رہا تھا کہ رسول اللہ ص نے ارشاد فرمایا کہ علماٗ علوم انبیاٗ کے وارث ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تمام تر اختلاف علماٗ کے سینوں سے نکل کر ہی معاشرے میں پھیل رہے ہیں جس کی وجہ سے انتشار اور فرقہ واریت پھیل رہی ہے ۔ اس میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ علماٗ اور پیشہ وارانہ کام کرنے والوں میں فرق ہوتا ہے (نائی ، موچی ، بڑھئی سب کے کام کرنے کے مخصوص انداز ہوتے ہیں ) لیکن عالم معاشرے کے لیے قوانین بناتا ہے ۔ یہاں بھی مسئلہ ہمارا ہے کہ ہم نے ساڑھے پانچ سو روپے میں تیار ہونے والے ہر شخص کو عالم دین سمجھ لیا ہے ۔ یہاں سو روپے کی ٹوپی ، پچاس روپے تسبیح ، بیس روپے کی عطر ، پچاس روپے کا رومال ، ایک سو اسی روپے کا جبہ اور سو روپے کا عمامہ لیکر کوئی بھی شخص مولوی بن کر مارکیٹ میں آجاتا ہے اور اپنا دھندا شروع کر دیتا ہے ۔ یہ معاشرے اور ریاست کی علمی کمزوری، ذہنی پستی کی مثال ہے ۔آپ کے ذہن میں صحافی بھی آرہے ہوں گے تو عرض کرتا چلوں کہ صحافیوں کا حال تو اس سے بھی بدتر ہے کہ انہیں یہ بھی خرچہ نہیں کرنا پڑتا، وہ صرف اپنی جہالت کے زور پر چلتے ہیں۔ لیکن ایک خوشگوار پہلو یہ ہے کہ صحافت کسی فرقے یا برادری کا نام نہیں ہوتا ۔ یہ آزادانہ طور پر خبریں اکٹھی کرنے ، ان کی تصیحح کرنے اور انہیں ترتیب کے ساتھ قابل اشاعت بنانے کے فن کا نام ہے ۔
بات کو مختصر کرنا بھی کتنا مشکل کام ہے ، لمبی ہی ہوتی جا رہی ہے ۔ مولانا ابوالکلام آزاد سے کسی نے پوچھا تھا کہ آپ اتنا طویل اداریہ کیوں لکھتے ہیں تو انہوں نے فرمایا تھا کہ مختصر لکھنے کا وقت نہیں ملتا ۔
خیر اب ختم کرتا ہوں ۔ تو میں عرض گزار تھا کہ رسول اللہ ص نے ارشاد فرمایا کہ علماٗ علوم انبیاٗ کے وارث ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ تمام تر اختلاف علماٗ کے سینوں سے نکل کر ہی معاشرے میں پھیل رہے ہیں ۔ رسول اللہ ص نے فرمایا کہ ” میری امت کے درمیان اختلاف رحمت ہے ” (کچھ لوگوں کے خیال میں یہ حدیث رسول ص کی نہیں ہے ) ۔ یہاں بعض اہل علم کے نزدیک امت کا مطلب سول سوسائٹی ہے اور اختلاف کا مطلب گنجائش پیدا کرنا ہے ۔ یعنی زندہ معاشروں میں تو اختلاف ہوتا رہے گا لیکن مضبوط اور منظم سول سوسائٹی کی نشانی یہ ہے کہ وہ اس اختلاف کو اگلنے کے بجائے بطور اختلاف قبول کرے اور ایسا معاشرہ قائم کرے جہاں لوگ آزادانہ سوچ وچار کے بعد بغیر کسی خوف اور تردد کے اپنا نقطہ نظر آزادی کے ساتھ بیان کر سکیں ۔
روایتی طور پر مولوی اور عالم میں فرق یہ ہے کہ مولوی کا اختلاف مخالفت پر مبنی ہوتا ہے اور عالم کا اختلاف معاشرے میں گفتگو اور بحث کے لیے مواقع پیدا کرتا ہے ۔ عالم کے اختلاف سے معاشرہ کھلتا ہے جبکہ مولوی کے اختلاف سے معاشرہ کھولتا ہے ۔ عالم کی فکر معاشرے کو جوڑتی ہے ، محبتیں پیدا کرتی ہے ۔سہولیات پیدا کرتی ہے لیکن مولوی کی فکر معاشرے میں سازشی تھیوریز کی بنیاد پر ہر شخص کی زندگی میں مداخلت برپا کر رہی ہوتی ہے ۔(براہ مہربانی یہاں سازش اور مداخلت کو آج کل کے رائج مفہوم سے ہٹ کر پڑھیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد نت نئی تشریحات سامنے آ رہی ہیں ) ایک اہم بات کہ یہاں عالم سے مراد صرف دینی علوم کا ماہر نہیں بلکہ تمام علوم اور امور کے ماہرین شامل ہیں ۔
تو یہ مسئلہ رہے گا کہ آپ میری بات کیسے سمجھ رہے ہیں اور میں اپنی بات کیسے کر رہا ہوں ۔ اگر یہ معاملہ کتب مقدسہ اور صحائف کے ساتھ بھی موجود ہے تو میں کس کھیت کا شلجم ہوں ( مولی لکھنا مناسب نہیں اور ویسے بھی مولی مونث ہے اور شلجم مذکر ، آپ بھی تھوڑی سی احتیاط کیا کریں ).یہ ساری باتیں ان کے لیے نئی نہیں تھیں ۔ برسوں سے وہ استاد ہیں ۔ میں نے ان سے ان گذارشات پر معافی بھی مانگی لیکن یہ معاملہ کیمونیکیشن کا ہے ۔ آپ نے کون سی بات کہاں اور کس طریقے سے کرنی ہے ۔ آپ کو اس معاشرے اور طبقے کی لغت سے آشنا ہونا پڑے گا ورنہ آپ اپنی بات نہیں پہنچا پائیں گے ۔ تو میری تحریر اور گفتگو میں جو فرق ہے اس کی وجہ بھی شاید یہی ہے کہ میں کسی اور جگہ بیٹھ کر لکھتا ہوں اور آپ کسی اور جگہ بیٹھ کر پڑھتے ہیں لیکن ہم جب آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرتے ہیں تو پھر ہم اختلاف کے باجود بھی وہ بات محسوس نہیں کرتے جو تحریر سے پیدا ہوتا ہے ۔
انہوں نے میری گفتگو کو انجوائے کیا ۔ اپنی مسجد میں اکیس رمضان المبارک کو ختم قرآن کی تقریب میں گفتگو کے لیے دعوت دی ۔ میں ان شاٗ اللہ حاضر ہوں گا ۔حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ گذشتہ روز وسی بابا جی نے بھی رمضان کی نسبت سے ایک یونیورسٹی میں لیکچر کے لیے دعوت دی ہے ۔ میرا موقف ہے کہ آپ کو معاشرے میں کوئی دروازہ بند نہیں کرنا چاہیے ۔ جہاں سے دعوت ملے ، وہاں ضرور جائیں ۔ پوری محنت ، دیانتداری اور محبت کے ساتھ اپنا موقف بیان کریں ۔ جس کی جو چیز اچھی ملے ، اسے قبول کریں ۔ جسے غلط سمجھیں ، اس کا رد کریں لیکن احترام کا دامن نہ چھوڑیں البتہ کوئی طائف کے شرارتی لونڈوں کے خاندان سے ہو تو اسے بھی سبق ضرور دیں ۔ دروازے بند کرنا جہالت ہے ۔ کسی کو بریکٹ یا فریم کرنا بھی جہالت ہے ۔ اپنے آپ کو بھی بریکٹ یا فریم کرنا جہالت ہے ۔ خدا کے لیے اس جہالت سے نکلیں اور زندگی کو انجوائے کریں ۔ سبزی منڈی میں پڑے کدووّں کا ، فی کلو ریٹ اب بھی میرے تیرے جیسے دانشوروں سے زیادہ ہے ۔
نوٹ : کچھ باتیں تحریر میں اضافی ہیں جو صرف اپنے پیارے پڑھنے والوں کے لیے لکھی ہیں ۔