آج کل وطن عزیز نجانے کس سمت،کس منزل کی طرف جارہا ہے۔سمجھ سے بالاتر ہے۔سیاست سے لیکر معشیت تک بے یقینی ہی بے یقینی نے گھیرا ہوا ہے۔مفادوں سے لیکر جھوٹ تک،اناوں سے لیکر زدوں تک کا دور دورہ ہے۔ہر طرف ان وڈ وڈیروں،جاگیرداروں نے اپنا اپنا الگ ٹھاٹھ اور تماشہ لگایا ہوا ہے۔سب چورن بیچے جارہے ہیں۔اور ہم بھی اس چورن کو خوشی سے خرید بھی رہے اور ساتھ ان کی تعریفوں کے پل بھی باندھ رہے ہیں۔اور آخر نقصان ہوگا تو ملک پاکستان کا،اس کی عوام کا۔لیکن یہ بات طے ہے کہ اس ملک کی الیٹ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔کیونکہ یہ سب اپنے اپنے مفاد کے داعی ہیں۔
ہر الیٹ کلاس جاگیر دار وڈ وڈیرے کے بچے تو پہلے ہی سے باہر سیٹل ہیں۔اور ان جاگیر داروں نے بھی اپنا سامان باندھ رکھا ہے کہ خدانخواستہ جب بھی پاکستان پہ مشکل وقت آیا تو یہ سب باہر اڑان بھرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ہر دن ایک نئی انہونی،آئے روز ایک نیا تماشہ،صبح سے شام تک نت نئے نئے شوشے۔کہیں کرسی کا نشہ تو کہیں جیب بھرنے کی خواہش ان سب کی رگ رگ میں بسی ہوئی ہے۔
مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہےعوام دو وقت کی روٹی کھانے سے تنگ ہے۔پاکستان کن حالات سے گزر رہا ہے اس سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔موجودہ حکومت نے11اپریل سے اب تک پٹرول148روپے مہنگا کردیا ہے۔ڈیزل سے لیکر مٹی کے تیل تک،گھی سے لیکر دالوں تک،کس کس چیز کا ذکر کرو۔کس کس چیز کا رونا رویا جائے۔حتی کہ ضرورت کی ہر چیز غریب آدمی کی پہنچ سے اس وقت دور ہے۔ڈالر کی اڑان کو کوئی روکنا والا نہیں۔گزشتہ روز میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل بھی تشریف لائے ہوئے تھے تو ان سے سوال کیا گیاکہ اس وقت پاکستانی روپیہ دن بدن گرتا جارہا ہے اور ڈالر 205 کا ہوچکا ہے آپ اس پر کیا کہے گئے؟تو موصوف کہنے لگے میں اس پر کچھ بھی نہیں کہونگا۔حالانکہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے یہی ارسطو حکومت کو ڈالر سستا کرنے کی تجاویز پیش کرتے تھے۔
اس ساری صورتحال کو دیکھ کے شہر اقتدار میں دو سوال ہر طرف زیر گردش ہیں کہ آخر اس طرح چلتا رہا تو ملک کا کیا ہوگا؟عوام کا کیا بنے گا؟دوسرا سوال یہ ہے کہ آخر یکدم ایسا کیا ہوا کہ عمران خان کی حکومت کو گرا کر یہ موجودہ حکومت ملک کیلئے ناگزیر سمجھی گئی تھی۔
کچھ مقتدر حلقے کہتے ہیں کہ عمران خان حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی۔آخر پاکستان عوام کو بتایا جائے کہ پھر آخر ہوا کیا ہے؟اس ملک کے رکھوالوں کو آخر کیا سوجھی اس رجیم چینج آپریشن کی؟
سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان جو بیانیہ لے کے پاکستانی عوام کے پاس گئے ہیں وہ مقبول ہوا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کے پہلے جلسے سے لیکر2 جولائی کو پریڈ گراونڈ میں ہونے والے جلسے تک عمران خان کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ویسے آج کل رجیم چینج آپریشن کرنے والے بھی پریشان دیکھائی دے رہے ہیں۔کہ یہ ہم سے کیا ہوگیا،کیا کر بیٹھے۔یہ دانشور بھی اس وقت پی ڈی ایم حکومت کو پاکستان کیلئے ناگزیر سمجھنے لگے تھے۔آج حالات سب کے کنٹرول سے باہر ہیں۔پاکستان کو اس دوراہے پر لاکھڑا کرنے میں ان دانشوروں کا سب سے بڑا ہاتھ ہے۔جو یہ کہتے تھے کہ(ن) لیگ اور زرادری نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے۔آج دوبارہ زرداریوں اور شریفوں کو ہم پر مسلط کردیا کہ کوئی کسر باقی رہتی تھی تو پوری کرلو۔اب رج کے لوٹو،لیکن آخر اس ملک کے ساتھ ساتھ جس جس نے جو بھی کیا حساب سب کو دینا ہوگا۔
گزشتہ دنوں وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کہے رہے تھے کہ پاکستان کو سنوارا تھا سنوارے گئے۔حالانکہ یہ دونوں خاندان ملک پر تیس سال سے حکومت کررہے ہیں انھوں نے اب تک پاکستان کا جو حال کیا ہے۔وہ سب کے سامنے ہے۔سیاسی اور معاشی ماہرین کا کہنا تھا اس وقت پاکستان کیلئے معاشی استحکام بہت ضروری ہے اور معاشی استحکام تب ہی ممکن ہوگا جب ملک میں سیاسی استحکام ہوگا۔
اب اس ساری صورتحال کو دیکھتے ہوئے اس کا واحد ایک ہی حل ہے کہ جتنا جلد ہوسکے ملک میں شفاف اور عام انتخابات کا اعلان کردیا جائے۔