پاکستان کے وزرائے خزانہ اور وزرائے مملکت برائے خزانہ اور مشیران برائے خزانہ اور ان کی تعلیم اور معاشیات سے ان کا تعلق ریورس آرڈر میں کچھ یوں ہے۔
( شمشاد اختر اور سلمان شاہ کی مدت اتنی مختصر تھی کہ ان کے ذکر کا کوئی مطلب نہیں)
1- مفتاح اسماعیل۔ بنیادی طور پر کاروباری، پبلک فنانس پڑھے ہوئے۔ مائنر پولیٹیکل اکانومی میں لیکن ہارڈ کور معاشیات سے کوئی تعلق نہیں

2- شوکت ترین۔ سادہ ایم بی اے اور کیرئیر بینکر۔ مالیات اور معاشیات دونوں میں کوئی تعلیمی ڈگری نہیں۔

3- حماد اظہر۔ بنیادی طور پر قانون دان ہیں ، ڈیویلپمنٹ اکنامکس میں محض ایک انڈر گریجویٹ ڈگری ۔ معاشیات اور مالیات کا کوئی تجربہ نہیں

4- عبدالحفیظ شیخ۔ معاشیات دان ہیں۔ معاشیات میں پی ایچ ڈی بھی ہے۔ لیکن عالمی سطح پر کوئی قابل قدر کنٹرییبیوشن نہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ کی ڈکٹیشن پر چلتے ہیں۔

5- اسد عمر۔ ایم بی اے ہیں اور وہ بھی غالبا مارکیٹنگ میں ۔ معاشیات اور مالیات کا کوئی تجربہ یا ڈگری نہیں ہے۔ عمر کا بیشتر حصہ ایک کارپوریشن اینگرو میں ملازم رہے۔

6- رانا افضل خان۔ پولیٹیکل اکانومی میں بلوچستان یونیورسٹی کے پڑھے ہوئے۔ ویسے الیکٹریکل انجینئر۔ معاشیات یا مالیات میں کوئی کام نہیں کیا۔

7- اسحاق ڈار۔ بی کام اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ۔ معاشیات اور مالیات سے دور کا کوئی رشتہ نہیں

8- نوید قمر۔ کمپیوٹر سائنس اور مینجمنٹ کے گریجویٹ ۔ معاشیات اور مالیات سے بالکل لاتعلق

9- شوکت عزیز ۔ ایم بی اے اور بینکر۔مالیات اور معاشیات سے کوئی تعلق نہیں

10- سرتاج عزیز۔ سول سرونٹ اور پبلک ایڈمنسٹریشن میں اعلی ڈگری۔ معاشیات میں انڈر گریجوئیٹ لیکن اس ضمن میں عالمی یا قومی سطح پر کوئی علمی کنٹرییبیوشن نہیں

11- سلیم مانڈوی والا۔ کمرشل پائلٹ اور ایوی ایشن میں اعلی تعلیم ۔ کاروباری خاندان سے تعلق پر معاشیات اور مالیات کس چڑیا کا نام ہے، یہ ان کے لیے دور کی کوڑی تھی۔

اسی طرح چلتے جائیے۔ پتہ لگ جائے گا کہ ہماری معاشی حالت میں کبھی سدھار نہ آنے کی ایک وجہ incompetence بھی رہی ہے۔ اس ضمن میں اسٹیبلشمنٹ اور تمام سیاسی پارٹیوں کا کردار ایک جیسا ہی رہا ہے۔
پس نوشت: اس سے پہلے کہ کسی کی رگ پھڑکے ، میرا تعلق مالیات کے شعبے سے ہے اور کاروبار سے ۔ ایک ایم بی اے فنانس ہے آئی بی اے کراچی سے اور سی ایف اے ہے سی ایف اے انسٹیٹیوٹ ورجینیا سے۔ معاشیات میں مضمون کی حد تک دل چسپی ہے لیکن اس میں کوئی ڈگری نہیں ہے۔