آبی آلودگی آبی حیات کے لئے خطرے کی علامت

میں جب فارغ ہوتا ہے اور بوریت کے باعث پَسِّنی کے مختلف ساحلی بیچ کی طرف رخ کرتا ہوں۔ کبھی کبھار مجھے ایسا لگتا ہے کہ پَسِّنی کے خوبصورت ساحل اب پلاسٹک کے جالوں کی آماجگاہ ہے جہاں ساحل کے ہر طرف پلاسٹک جالوں کے ٹکڑے ہی نظر آتے ہیں ۔مقامی ماہی گیر ممنوعہ پلاسٹک جال استعمال کرنے کے بعد اس کے ٹکڑوں کو ساحل کے قریب چھوڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف آبی آلودگی پھیل رہی ہے بلکہ نقل مکانی کرنے والے پرندے بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر یہاں سے دور جا رہے ہیں۔

بلوچستان کےساحلی علاقے جیوانی سے گڈانی تک پھیلے ہوئے ہیں، اس ساحلی خطے میں انواع و اقسام کی سمندری حیات پائی جاتی ہیں اور یہاں معدومیت کے خطرے سے دوچار سمندری حیات بھی موجود ہے۔ بلوچستان کےاس ساحلی خطے میں کئی خوبصورت بیچ بھی موجود ہیں جہاں سیاح بھی پکنک منانے آتے ہیں مگر وہ پکنک مناتے ہوئے ساحل کو گندہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے جبکہ ساحلی علاقوں کے کنارے مقامی ماہی گیر شکار کے بعد اپنی کشتیوں کو سمندر کے کنارے لنگر انداز کرتے ہیں اور اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ وہ استعمال شدہ پلاسٹک جال بھی سمندر کے کنارے چھوڑدیتے ہیں۔

[pullquote]پلاسٹک جال حل پزیر نہیں ہوتے [/pullquote]

ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک جال چونکہ چار سو سے چار سو پچاس سال تک حل پزیر نہیں ہوتے ہیں، گرمی اور نمی کی وجہ سے یہ چھوٹے چھوٹے ذرات میں بدل جاتے ہیں اور پھر سمندر میں مکس ہوتے ہیں یہ ذرات مائیکرو انیمل کے موت کے باعث بن جاتے ہیں جنکی وجہ سے سمندر کی ایکوسسٹم قائم و دائم ہے۔حالانکہ بلوچستان حکومت کی جانب سے پلاسٹک کے جالوں کے استعمال پر پابندی ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات ڈپارٹمنٹ بلوچستان ولی خلجی نے رابطہ کرنے پر بتایا ہے کہ ساحلی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو اپرول دینے سے پہلےہم انڈسٹریل کو پلاسٹک ڈیمپنگ سمندر میں نہ کرنے کے لئے سختی سے روکتے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ فشریز ڈپارٹمنٹ کے ساتھ ملکر پلاسٹک جالوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ولی خلجی نے پلاسٹک جالوں کے نقصانات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک جالوں کی استعمال کی وجہ سے آبی حیات انجری کا شکار ہوتے ہیں۔ انکے مطابق پلاسٹک کے جال ٹوٹ کر ذرات میں بدل جاتے ہیں جنہیں مچھلیاں اور سمندری مخلوقات نگل جاتی ہیں، جو کہ آبی حیات کے لئے خطرے کی باعث ہے۔

[pullquote]پلاسٹک جال کچھوؤں اور آبی پرندوں کی موت کا باعث بن رہے ہیں[/pullquote]

بلوچستان کے تین ساحلی خطے جیوانی دران، اورماڑہ تاک اور اسٹولہ جزیرہ پسنی جہاں سبز کچھوے افزائش نسل کے لئے آتی ہیں اور ماہرین کے مطابق یہ علاقے سبز کچھوؤں کی عارضی مسکن گاہ ہیں۔ سبز کچھوؤں کی مرغوب غذا چونکہ جیلی فش ہے اور وہ سمندر میں تیرتے ہوئے پلاسٹک کے تھیلوں کو جیلی فش سمجھ کر کھاتے ہیں جس کی وجہ سے انکی موت واقع ہوتی ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف اور مقامی ذرائع سے اکٹھا کرنےوالے معلومات کے مطابق 2020میں گوادر کے ساحلی علاقوں میں پچاس کے قریب کچھوؤں کے خول برآمد ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر کی اموات کی وجہ پلاسٹک جال بتائے جاتے ہیں۔

[pullquote]پلاسٹک جال دوسرے اقسام کے جالوں سے کیوں خطرناک ہیں؟[/pullquote]

لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر،واٹر اور میرین سائنسز اوتھل کے میرین سائنس کے طالب علم نصیر لعل کے مطابق پلاسٹک جال دوسرے اقسام کے جالوں سے اس لئے خطرناک ہے کہ ہر انواع و اقسام کی مچھلیوں کو بیک وقت شکار کرتا ہے جبکہ دوسرے جال مخصوص مچھلیوں کے شکار کے لئے ہوتے ہیں،انکے مطابق پلاسٹک جالوں کی وجہ سے اوورفشنگ بڑھ رہا ہے اور جسکی وجہ سے سمندری پیدوار میں کمی آرہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پلاسٹک سے بنے مصنوعات کے استعمال کی وجہ سے سمندری درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ نصیر لعل نے مزید بتایا کہ پلاسٹک جال حل پزیر نہ ہونے کی وجہ سے کسی نہ کسی طور پر سمندر کی تہہ میں موجود رہتے ہیں جسکی وجہ سے سمندری ماحول میں خلل پڑتی ہے اور مچھلیاں اور دیگر سمندری مخلوقات یہاں سے نقل مکانی کرتی ہیں۔

[pullquote] موسمیاتی تبدیلیاں[/pullquote]

انسٹی ٹیوٹ آف میرین سائنسز کراچی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر شعیب کیانی کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سمندر کا درجہ حرارت بڑھنے اور تبدیل ہونے سے مچھلیوں کی پیدوار متاثر ہورہی ہے۔ انکے مطابق مائیکرو ہلاسٹک سے فشریرز پروڈکشن کس حد تک متاثر ہورہی ہے، اس حوالے سے تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے مستند ڈیٹا موجود نہیں البتہ دنیا کے لیڈنگ مارکیٹوں میں ہمارے مچھلیوں پر پابندی ہے۔ انکے مطابق ڈیٹا اور کوالٹی ٹیسٹنگ کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے یورپ کے مارکیٹیوں تک ہماری رسائی نہ ہے۔ جس کی وجہ سے ہم جنوبی ایشائی ممالک کو اونے پونے داموں مچھلیاں فروخت کرنے ہر مجبور ہیں۔

[pullquote] سمندر سے مچھلیوں کا اسٹاک چالیس سے ستر فیصد ختم ہوچکا ہے[/pullquote]

Fisheries resources appraisal in Pakistan (FRAP) کے ایک پانچ سالہ تحقیقی پروجیکٹ کے رپورٹ کے مطابق سمندر سے مچھلیوں کا اسٹاک چالیس سے ستر فیصد ختم ہوچکا ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے بلوچستان کے سمندرپر مزید دباؤ بڑھ رہا ہے۔تہران یونیورسٹی کے ایک تحقیق کے مطابق ہر سال سمندر کا لیول چھ ملی میٹر بڑھ رہا ہے ،اگر یہ اسی طرح بڑھتا رہا تو2050 تک کئی ساحلی علاقے زیر آب آئیں گے۔ شعیب کیانی کے مطابق پلاسٹک جال اور دیگر پلاسٹک مصنوعات کے خاتمے کےلئے ایک جامع پلان بناکر اس پر من و عن عمل کرنا ہوگا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک کے جالوں پر سرکاری سطح پر پابندی ضرور ہے مگر اس پر بہت کم عمل ہورہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماحول دشمن مصنوعات پر مکمل پابندی لگا کر اس پر عمل کیا جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے