عمران خان کے ادارے اور اعلیٰ فوجی افسر پر الزامات ناقابل قبول ہیں : آئی ایس پی آر

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ادارے اور خاص طور پر ایک اعلیٰ فوجی افسر کے خلاف بیان کو بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیہ میں حکومت سے بغیر ثبوت کے ادارے اور اس کے اہلکاروں کے خلاف ہتک عزت اور جھوٹے الزامات کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

[pullquote]’ادارے کا ایک مضبوط اور انتہائی موثر اندرونی احتسابی نظام ہے‘[/pullquote]

علاوہ ازیں آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی فوج ایک انتہائی پیشہ ور اور نظم و ضبط کی حامل تنظیم ہونے پر فخر کرتی ہے، ادارے کا ایک مضبوط اور انتہائی موثر اندرونی احتسابی نظام ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اگر مفاد پرستوں کی جانب سے فضول الزامات کے ذریعے اس کے عہدے داروں کی عزت، حفاظت اور وقار کو داغدار کیا جا رہا ہے تو یہ ادارہ اپنے افسروں اور سپاہیوں کی حفاظت کرے گا۔

[pullquote]’ادارے/اہلکاروں پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات انتہائی افسوسناک ہیں‘[/pullquote]

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ادارے/اہلکاروں پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل قابل مذمت ہے، کسی کو بھی ادارے یا اس کے سپاہیوں کی بے عزتی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

آئی ایس پی آرکے مطابق اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے، بغیر کسی ثبوت کے ادارے اور اس کے اہلکاروں کے خلاف ہتک عزت اور جھوٹے الزامات کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرے۔

[pullquote]پنجاب اسمبلی میں عمران خان پر قاتلانہ حملے کیخلاف قرار داد کثرت رائے سے منظور[/pullquote]

لاہور: پنجاب اسمبلی میں عمران خان پر قاتلانہ حملے کے خلاف قرار داد کثریت رائے سے منظور کرلی گئی۔

قرارداد صوبائی وزیر ماحولیات راجہ بشارت نے پیش کی اور قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے جن تین ناموں کی نشاندہی کی گی ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) کے پیر اشرف رسول کی جانب سے کورم نامکمل ہونے کی نشاندہی کی گئی لیکن اسے نظرانداز کردیا گیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے