16 مارچ کو نگران وزیراعلی اعظم خان کیوں خاموش رہے؟؟؟

16مارچ کو جب موسم میں کافی حد تک خنکی باقی تھی ، خیبرپختونخوا کے سول سیکرٹریٹ کے عبدالولی خان بلاک میں محکمہ انتظامیہ کا آفیسر کابینہ ہال کھول لیتا ہے،،، آج صوبائی کابینہ کا اجلاس ہے، نگران وزیر مواصلات محمد علی شاہ سب سے پہلے کابینہ ہال میں داخل ہوتے ہیں جہاں پہلے سے کئی محکموں کے آفیسرز موجودہیں ، مقررہ وقت گیارہ بجنے میں ابھی دس منٹ باقی تھے کہ چیف سیکرٹری اور دیگر کئی محکموں کے انتظامی آفیسرز بھی ہال میں داخل ہوگئے جس کے بعد مرحلہ وار نگرا ںوزراءکی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔ جو وزیر آتا اس کی کوشش ہوتی کہ اپنی نشست وزیراعلیٰ کی کرسی کے قریب لے جائے،2 وزیروں نے جب دوسرے سرے سے اپنی سیٹ وزیراعلیٰ کی کرسی کے قریب لانے کی کوشش کی تو محکمہ انتظامیہ کے ایک آفیسر نے دوسرے کو کہا ۔۔ لگتا ہے سرکاری سکول میں آگئے ہیں، جو سیشن کے آغاز پر سب سے پہلے آتا تھا ،وہ پہلی قطار میں بیٹھ جاتا تھا اور پھر پورا سال اس کی وہی نشست ہوتی تھی۔

اس دوران نگران وزیراعلیٰ اعظم خان اپنے پروٹوکول آفیسر سمیت ہال میں داخل ہوئے ، کابینہ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، اجلاس کا ایجنڈا 14 نکات پر مشتمل تھا جس میں 6نکات اضافی ایجنڈے کا حصہ تھے۔ ایجنڈے پر پہلے اور دوسرے آئٹم کو ڈراپ کرنے کے بعد جب تیسرے نکتے پر صوابی کے علاقے مرغز میں محکمہ صحت کی اراضی کو محکمہ تعلیم کے حوالہ کرنے کی بات کی گئی تو مشیر برائے صحت عابد جمیل نے کہا کہ ہم کسی بھی صورت اپنی اراضی کو محکمہ تعلیم کے حوالے نہیں کریں گے، پھر ایک اعلیٰ آفیسر نے کہا ۔۔۔ مشیر صاحب یہ معمول کی کارروائی ہے، سرکاری اراضی ایک دوسرے کے منتقل کرنا عام سی بات ہے لیکن عابد جمیل بضد رہے اور محکمہ صحت نے ہار مان کر اس نکتے کو حذف کردیا۔

اسی طرح 14 نکاتی ایجنڈا 35 منٹ میں ہی ختم ہوگیا۔ کابینہ میں پہلی مرتبہ مختلف محکموں کی جانب سے بریفنگ کا آغاز ہوا، سیکرٹری خوراک نے رمضان المبارک کےلئے آٹا سپلائی سکیم کےلئے پروجیکٹر سکرین کے قریب گئے ، انہوں نے آٹا سپلائی کے حوالے سے 5آپشنز پیش کئے کہ صوبے میں آٹا سپلائی 400 روپے فی 10 کلو تھیلا فراہم کیا جائے، 600 روپے فی تھیلے پر حکومت کی اتنی لاگت آئےگی ، اور آخر میں مفت آٹے کے حوالے سے جب آپشن دیا توایک وزیر نے آواز دی کہ یہ سب سے بہترین ہے۔

تحریک انصاف صحت کارڈ کا جواب ہم مفت آٹا سکیم سے دے سکتے ہیں تو مشیر برائے خزانہ حمایت اللہ نے کہا کہ کیا خزانہ اس کی اجازت دیتا ہے؟؟؟ سیکرٹری خزانہ نے کابینہ کو بتایاکہ اس وقت اوور ڈرافٹنگ کی وجہ سے ہمارے اکاونٹ منفی میں جارہے ہیںسیکرٹری خزانہ کا جواب سنتے ہی کہ کابینہ سے آوازیں اٹھنا شروع ہوئیں کہ مفت آٹے کی فراہمی یقینی بناناہوگی ۔ ایک وزیر نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنے لوگوں کو ان مقاصد کےلئے استعمال کیا تھا، ہمیں ان سے یہ چیزیں بچانا ہوں گی۔

تقریباً ایک گھنٹے تک کابینہ اجلاس میں اس پر بحث ہوتی رہی کہ آٹا کیسے تقسیم کیا جائےگا؟؟؟ حمایت اللہ بار بار کابینہ کی توجہ ایجنڈے کی طرف دلاتے رہے لیکن کوئی سننے کو تیارہی نہیں تھا۔ اچانک سوات سے تعلق رکھنے والے نگران صوبائی وزیر مواصلات محمد علی شاہ اٹھے اور کہا کہ یہ کابینہ کا اجلاس ہے، کوئی مچھلی منڈی نہیں۔ میں جب سوات میں ضلع ناظم تھا تو کونسلرز بھی اس طریقے سے نہیں لڑتے تھے جس طرح آج کابینہ ممبران کررہے ہیں ۔ اس پورے عمل کے دوران نگران وزیراعلیٰ اعظم خان نے چھپ سادھ لی تھی ۔

اجلاس میں کچھ دیر کےلئے دوبارہ بریفنگ کا آغاز ہوا تو نگران وزیر صنعت عدنان جلیل نے نکتہ اٹھایا کہ تحریک انصاف نے کے پی ایزمک کے چیف ایگزیکٹیوکو غیر قانونی طور پر بھرتی کیا پھر انہیں توسیع بھی دی، وزیراعلیٰ صاحب آپ کو فوری طور پر اسے ہٹانا چاہئے ، وزیراعلیٰ نے کچھ بولنے کی بجائے نگران وزیرقانون کی طرف دیکھا تو انہوں نے اپنی سیکرٹری کی جانب اشارہ کیا، سیکرٹری قانون بولے ” سر ایسا ممکن نہیں“ یہ نکتہ ایجنڈے کا حصہ نہیں ہے۔ عدنان جلیل اڑ گئے کہ فوری طور پر مذکورہ افسر کو ہٹانا ہوگا۔

اچانک نگران صوبائی وزیر اطلاعات فیروز جمال کاکاخیل اٹھے اور کہا کہ بیوروکریسی ہماری بالکل نہیں مانتی، عدنان جلیل نے دوبارہ وزیراعلیٰ کی جانب دیکھ کر کہا کہ اگر کوئی قانونی رکاوٹ ہے تو کابینہ اجلاس میں کے پی ایزمک کے چیف ایگزیکٹیو کو ہٹانے کےلئے رائے شماری کر لیتے ہیں، جس پر سیکرٹری قانون نے خبردار کیا کہ رولز کے مطابق کابینہ اجلاس میں ووٹنگ نہیں ہوسکتی، کابینہ کا تمام کا نکات پر متفق ہونا ضروری ہے، اختلاف کی صورت میں مذکورہ وزیر کو مستعفی ہونا پڑے گا، استعفیٰ کا سن کر عدنان جلیل خاموش ہوگئے۔

تاہم فیروز جمال کاکاخیل ایک مرتبہ پھر اٹھے اور بیوروکریسی کےخلاف دل کی بھڑاس نکال دی، اس دوران ایک آفیسر نے نگران وزیر اطلاعات کو بتایاکہ میڈیا ایک گھنٹے سے بریفنگ کا انتظار کررہا ہے اور اب بریفنگ کے بائیکاٹ کی چہ مگوئیاں شروع ہوچکی ہیں، فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے کہا میڈیا کا کیاکام ہے، اسے انتظار کرنے دو،یہ کہتے ہی فیروز جمال کا کا خیل دوبارہ بیوروکریسی کے خلاف شروع ہوگئے۔اسی طرح دن 11 بجے شروع ہونےوالا کابینہ اجلاس شام 5بجے جب ختم ہوا تومیڈیابریفنگ کا بائیکاٹ کرکے جا چکا تھا ،میڈیا بائیکاٹ کی خبر جب نگران وزیر اطلاعات تک پہنچی تو انہوں نے ساتھ کھڑے ایک دوسرے وزیرسے کہا کہ میں یہی کہتا تھا کہ یہ بیورو کریٹ ہماری نہیں مانتی، مجھے یقین ہے کہ میرے سیکرٹری اطلاعات نے ہی میڈیا سے بائیکاٹ کرادیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے