43 اعلی عہدوں پر بیوروکریٹس کے تبادلے کیسے ہوئے۔۔؟

وزیراعظم ہاؤس کے لاﺅنج میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانافضل الرحمن کےساتھ انکے دو بھائی لطف الرحمن اور ضیاءالرحمن تشریف فرما ہیں, یہ 29مارچ کی رات ساڑھے دس بجے کا وقت ہے اسی اثناء میں وزیراعظم شہبازشریف ایک اعلیٰ انتظامی افسرکےساتھ لاؤنج میں داخل ہوتے ہیں اور پھر ان سب میں ملکی سیاست پرگفتگو شروع ہوجاتی ہے.

اس دوران خیبرپختونخوااسمبلی میں جے یوآئی کے سابق پارلیمانی لیڈر اور مولانافضل الرحمن کے بھائی لطف الرحمن نے وزیراعظم کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم صاحب خیبرپختونخوا میں بیوروکریسی پوری کی پوری پی ٹی آئی زدہ ہے، تبادلوں کی اشدضرورت ہے، وزیراعظم غورسے لطف الرحمن کو سن رہے تھے، لطف الرحمن نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں اب تک جتنے بھی تبادلے ہوئے ہیں، ان میں ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، بیشتر تبادلے گورنرصاحب یا اکرم درانی صاحب نے کئے ہیں ،ہماری کوئی سنتاہی نہیں ،پہلے بوسال صاحب ہمیں ٹرخایا کرتے تھے، اب ندیم اسلم چوہدری صاحب لفٹ نہیں دے رہے ، وزیراعظم نے ضیاءالرحمن کی جانب دیکھا جو خود اس وقت خیبرپختونخوامیں پراونشل کیڈرکے پی ایم ایس آفیسر ہیں, تبادلوں سے متعلق گفتگوکے بعد وزیراعظم شہبازشریف ایک اہم شخصیت کو کال ملاتے ہوئے اور کال ختم ہونے پر مولانا فضل الرحمن کو یقین دلاتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں اب کوئی مسئلہ نہیں ہوگا.

اس ملاقات کی روداد بتاتے ہوئے ایک اہم حکومتی عہدیدار نے بتایاکہ خیبرپختونخوا میں بیوروکریسی کے تبادلوں پر گزشتہ دوماہ سے شدیداختلافات تھے، خیبرپختونخواکی نگران کابینہ میں زیادہ تر نامزدگیاں گورنر غلام علی، انکے صاحبزادے زبیرعلی اور اکرم خان درانی کے علاوہ صاحبان دانش نے کی ہیں ،تبادلوں سے متعلق بیوروکریسی میں یہ تصور عام ہوچکا تھا کہ اگر اپ نے من پسند پوسٹنگ کرانی ہے تو آپ کو غلام علی ، زبیر علی یا اکرم درانی میں سے کسی سے ملناہوگا، ایک اور افسر جو اس محفل میں بیٹھے ہوئے تھے نے مزید بتایاکہ لطف الرحمن کو گورنر انکے صاحبزادے اور اکرم درانی سے یہ شکوہ تھا کہ صوبائی معاملات میں انہیں اعتمادمیں نہیں لیاجاتا، اس لیے انہوں نے براہ راست مولانا فضل الرحمن کے ذریعے وزیراعظم ہاﺅس تک رسائی حاصل کی، راقم نے اس اعلیٰ افسرسے پوچھاکہ دو ماہ سے بیوروکریسی کی اعلیٰ سطح پر تبادلوں میں رکاوٹ کیاتھی؟ سینئر بیوروکریٹ نے بتایا کہ محمودخان کے جانے اور پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ ہفتہ دس دنوں میں سیکرٹری لیول کے تبادلے ہوجائنگے اور بیوروکریسی کو یہ امید نگران وزیراعلی اعظم خان سے تھی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ نگران وزیراعلی مکمل بے اختیارہیں، صاحب اختیار تو گورنرہاؤس میں بیٹھے ہیں، اسی طرح کئی بیوروکریٹس اور پولیس۔

افسروں نے گورنرہاﺅس کی یاترا شروع کردی، وہ مزید بتاتے ہیں بعض اوقات تو گورنرہاؤس میں وہ پولیس آفیسر اور بیوروکریٹ بھی نظر آتے تھے جو کسی زمانے میں تحریک انصاف کے چہیتے ہواکرتے تھے۔ محمود خان کی حکومت میں جب انتظامی اختیارات کا سرچشمہ انکے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ ہواکرتے تھے جو بعد میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری بھی بنے ،کے اکرم درانی سے شدیداختلافات تھے، اکرم خان درانی کی طرح شہاب علی شاہ کا تعلق بھی بنوں سے ہے اور بنوں میں انتظامی امور کے فیصلوں بالخصوص لوکل گورنمنٹ کی تعیناتیوں پر اکرم درانی اورشہاب علی شاہ میں ٹھن گئی تھی، خیبرپختونخوا اسمبلی میں اکرم درانی نے کھل کر شہاب علی شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا، شہاب علی شاہ اصل میں سابق وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے حلقے سے تعلق رکھتے تھے، تواعظم خان کے کہنے پر اس وقت کے وزیر اعلی محمود خان نے اسمبلی آکر شہاب علی شاہ پر سٹینڈ لیا تھا اور دبے الفاظ میں اکرم درانی کوبرا بھلا کہا ،جب شہاب علی شاہ اور اکرم درانی کے مابین اختلافات بڑھ گئے تو شہاب علی شاہ نے اپنے ایک قریبی دوست اور مولانافضل الرحمن کے بھائی لطف الرحمن سے رابطہ کیا، بعدازاں لطف الرحمن نے ایک دعوت کااہتمام کیا،انہوں نے اکرم درانی اور شہاب علی شاہ کے مابین اختلافات کے خاتمے کےلئے کوششوں کاآغاز کردیا۔

کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوامیں جب 31 مارچ کو 43 اعلیٰ افسران جن میں بیشتر سیکرٹریز تھے کے تبادلے بھی ہوئے، سینئر بیوروکریٹ نے بتایاکہ ان تبادلوں میں سب سے زیادہ ہاتھ لطف الرحمن کے علاوہ ان کے چھوٹے بھائی ضیاءالرحمن کابھی ہے لیکن اہم تعیناتیوں میں شہاب علی شاہ سے بھی مشاورت کی گئی، راقم نے سینئر بیوروکریٹ سے پوچھا کہ چیف سیکرٹری کاتبادلوں میں عمل دخل کتنا ہے ؟ توانہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری کے کردار سے پہلے ایک اور اہم بات بتا دیتا ہوں کہ خیبر پختونخوا کو عملی طور پر جے یو آئی کے حوالے کیاگیاہے، شہزاد بنگش کی چیف سیکرٹری کی حیثیت سے رخصتی کے بعد جے یوآئی کی کوشش تھی کہ ارشد مجید کو بحیثیت چیف سیکرٹری تعینات کیاجائے لیکن ن لیگ کی صوبائی قیادت نے وزیراعظم شہبازشریف کو پیغام دیا کہ صوبے میں کسی حد تک اختیار ہمارے پاس بھی رہنا چاہیے جس کے بعد منڈی بہاﺅالدین سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کے رکن قومی اسمبلی کے چھوٹے بھائی امداد اللہ بوسال کو چیف سیکرٹری تعینات کیاگیا،انکی جانب سے بیوروکریسی کے تبادلوں کے اختلافات کے بعد ندیم اسلم چوہدری کی تعیناتی میں بھی بڑاہاتھ ن لیگ کا ہے.

خیبرپختونخواکی نگران کابینہ میں سب سے اہم نامزدگیاں گورنر غلام علی اوراکرم درانی نے کئیں، اس پورے عمل میں لطف الرحمن کوکھڈے لائن کیاگیا، لہٰذا تنگ آمد باجنگ آمد کے مصداق لطف الرحمن نے وزیراعظم تک رسائی حاصل کی جو بجا طورپر ان کے بڑے بھائی مولانا فضل الرحمن کی مرہون منت تھی ،اسی محفل میں بیٹھے ہوئے دوسرے بیوروکریٹ نے بتایاکہ گورنر غلام علی ،اکرم درانی اور زبیر علی کو کابینہ کی حد تک محدود رکھا گیاتھا، کیونکہ ساری ریوڑیاں ان تینوں میں نہیں بانٹنی تھیں بلکہ کچھ نہ کچھ لطف الرحمن اور ضیاءالرحمن کے جولی میں بھی ڈال دیا گیا تاکہ سارے خوش رہ سکیں، راقم نے پوچھا نگران وزیراعلیٰ اعظم خان کو ان معاملات پر تحفظات نہیں ؟ دونوں بیوروکریٹس ہنسنے لگے اورکہا کہ اعظم خان کے لیے اس وقت یہی کافی ہے کہ وہ نگران وزیراعلیٰ ہیں اور تعیناتی کے وقت گورنر غلام علی نے ان کے گرد دائرہ کھینچتے ہوئے ان کی حدود سے آگاہ کیا تھا کہ “حضور یہ ریڈ لائن ہے“.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے