اس ہفتے کئی بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں ایک بہت بڑا واقعہ پارا چنار اپر کرم میں دو مختلف واقعات میں 8 افراد کا بےدردی سے قتل ہے۔ یہ واقعات کئی حوالوں سے سنگین تھے۔ ایک تو یہ کہ یہ تمام افراد ناکردہ گناہ کے جرم میں قتل کئے گئے اور دوسرا یہ کہ زیادہ تر افراد تعلیم جیسے مقدس شعبے سے منسلک تھے۔ ان واقعات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
ان واقعات پر کئی لوگوں نے مجھ سے تبصرے کا تقاضا کیا، کیونکہ ایک تو ہمارا ادارہ پورے ملک میں مسلکی ہم آہنگی اور فرقہ وارانہ تناو کو کم کرنے پر کام کر رہا ہے اور دوسرا یہ کہ ضلع کرم اور خصوصاً اپر اور لور کرم میں، میں نے بذات خود اس پر بہت کام کیا ہے۔ اب تک میں کئی سرکاری غیر سرکاری پروجیکٹس اور تقریبات کا حصہ رہ چکا ہوں اور سینکڑوں افراد کو اس موضوع پر تربیت دے چکا ہوں۔ اپنے ذاتی تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر میں اس واقعے کے حوالے سے چند گذارشات پیش کرتا ہوں۔ آپ اس سے اختلاف بھی کرسکتے ہیں اور اتفاق بھی۔
سب سے پہلی بات یہ کہ ضلع کرم میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ تناؤ بہت شدید قسم کا ہے۔
دوسری یہاں پر کئی قومیں سکونت پذیر ہیں جن کے درمیان برسوں سے زمینی تنازعات چلے آ رہے ہیں۔
تیسری یہ کہ پہلے یہ لوگ شیعہ سنی آبادی ایک دوسرے کے ساتھ ایک ہی علاقے میں مشترکہ طور پر آباد تھے، اگرچہ اکثریت اور اقلیت کا پہلو پہلے سے بھی موجود تھا مثلا اپر کرم یعنی پارا چنار شیعہ اکثریتی علاقہ تھا لیکن ان کے ساتھ سنی بھی رہتے تھے جبکہ لور کرم سنی اکثریت ابادی تھی مگر شیعہ بھی ان کے ساتھ رہتے تھے، جبکہ سنٹرل کرم پہلے ہی سے تقریباً سنیوں کا علاقہ تھا۔
چوتھا یہ کہ یہ چونکہ قبائلی علاقہ ہے اور قبائل کے اپنے طور و طریقے اور اقدار وروایات ہوتی ہیں۔ سوسال سے زیادہ عرصہ حکومتی انتظامیے کی عمل داری سے باہر رہنے کی وجہ سے یہ قبائل حکومت کے تمام تر احکامات کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے بلکہ اب بھی قبائلی ضابطوں پر عمل پیرا ہیں۔ خیبر پختونخواہ کے ساتھ انضمام سے پہلے اس علاقے کا بیش تر انتظام علاقائی ملکان کی ذاتی پسند ونا پسند اور ترجیحات کے رحم و کرم پر تھا۔ حکومت کے ساتھ سنی ملکان کے تعلقات کبھی خوش گوار نہیں رہے ہیں، اور اس وجہ سے وہ حکومتی رٹ کو من وعن ماننے میں ہمیشہ تامل کا شکار رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سنی اکثریتی علاقے تعلیم وصحت اور دیگر حکومتی ترقیاتی منصوبوں سے ہمیشہ محروم رہے ہیں، جبکہ شیعہ اکثریتی علاقے اس لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور آگے ہیں۔ پارا چنار میں تقریباً سو فیصد تعلیم ہے اور صحت کی بنیادی سہولیات وافر مقدار میں موجود ہیں۔ اس کے نتیجے میں شیعہ علاقے زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور اکثر حکومتی مناصب پر شیعہ براجمان ہیں اور سنی باوجود اپنی اکثریت کے ایک طرح سے احساس محرومی میں مبتلا رہتے ہیں۔
پانچویں یہ کہ پچھلے کئی برسوں سے شیعہ سنی تنازعات کی وجہ ایک دوسرے کے علاقوں سے مکمل انخلاء ہے۔ اپر کرم خصوصا پارا چنار سے تقریباً تمام سنی ہجرت کر چکے ہیں جبکہ لور کرم خصوصاً صدا سے تمام شیعہ پارا چنار منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ دونوں گروپوں کی زمینیں اور دوکانیں وغیرہ بغیر کسی قیمت کی ادائیگی کے ایک دوسرے کے قبضے میں آ چکی ہیں۔
اس مقدمے کے بعد عرض یہ ہے کہ یہ علاقہ ہمیشہ جنگ اور تنازعات کی ضد میں رہتا ہے۔ معمولی نوک جھونک پر پورا علاقہ یک دم مسلکی اور قومی جنگوں کے اکھاڑے میں تبدیل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اب تک ہزاروں افراد موت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اس طرح کے قتل وغارت کے واقعات کے بعد عمومی طور پر چند بیانیے وجود میں آ جاتے ہیں جیسا کہ یہ تنازع شیعہ سنی کا نہیں بلکہ زمین کا تنازع ہے۔ یہ تنازع بیرونی مداخلت اور سازش کی وجہ سے ہے۔ اب ایک اور بات زور وشور سے کہی جا رہی ہے کہ ہمیں پتا ہے کہ اس طرح کے واقعات کون کرتا ہے، ادارے اس میں ملوث ہیں وغیرہ وغیرہ۔
میں ان میں سے کسی ایک وجہ کو بھی رد کیے بغیر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میری نظر میں ان واقعات کا اصل محرک کیا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اس علاقے کا بنیادی مسئلہ شیعہ سنی تنازع اور کشمکش ہے اور یہاں پر اس لحاظ سے غیر معمولی حساسیت پائی جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہاں کے عوام جن اسباب اور لوگوں کو مسائل کے لیے ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں وہ بھی کسی حد تک مسائل کی وجہ ہوں، لیکن باہر کے لوگ اگر اس کے ذمہ دار ہیں، تو سوال یہ کہ وہ اپنے مقاصد میں کیوں کر کامیاب ہوتے ہیں؟!
اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ یہ لوگ شیعہ سنی شناخت کی اساس پر ایک دوسرے سے بےحد نفرت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو کسی طرح نقصان پہنچانے میں تامل نہیں کرتے۔
ہمارے ہاں یہ مسئلہ ہے کہ ہم ہمیشہ مرض کا علاج اس کی تشخیص کے بغیر چاہتے ہیں۔ ہم اکثر خوش فہمیوں میں رہنا پسند کرتے ہیں اور حقائق سے منہ پھیر لیتے ہیں۔ ہماری ریاست اکثر بنیادی اور قریبی اسباب کے بجائے دور کے اسباب پر یقین رکھتی ہے جس کی وجہ سے مسائل کا کوئی دیرپا حل نہیں نکلتا اور فرقہ واریت اور اس مسئلے کے حقیقی اسباب ونتائج کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتی۔ اکثر افسران بالا یا تو اس مسئلے کو سمجھتے ہی نہیں یا اس پر توجہ نہیں دیتے جس کی وجہ سے وہ ان مسائل کے حل کی صلاحیت سے عاری رہتے ہیں۔ کئی افسران بالا کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ مقامی سطح پر ان کے بہتر تعلقات اکثر انھی لوگوں سے ہوتے ہیں جو بد امنی کی علامت ہوتے ہیں اور جو لوگ با شعور اور امن کے پیروکار ہوتے ہیں ان کو جانتے تک نہیں۔
اچھے برے لوگ ہر معاشرے میں موجود ہوتے ہیں لہذا ضلع کرم میں دونوں طرف ایسے اچھے لوگ اور علماء کرام موجود ہیں جو کہ پورے ضلعے کے امن کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے وجود ہی سے رہے سہے تعلقات اور امن وامان برقرار ہے، مگر معاشرے ہمیشہ اکثریت کے تابع ہوتے ہیں۔
اب میں کرم میں شیعہ سنی کشمکش کے حوالے سے اپنے ذاتی مشاہدات کی طرف آتا ہوں۔ کرم میں شیعہ سنی نفرت بے انتہا ہے۔ دونوں فرقوں کے لوگ ایک دوسرے کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ ایک دوسرے سے سماجی و معاشرتی تعلقات کو ناجائز اور خلاف مذہب سمجھتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ذبیحے اور کھانے کو حرام سمجھتے ہیں۔ دونوں طرف ایک دوسرے کے مقدسات کی توہین وقتاً فوقتاً ہوتی رہتی ہے۔ آپ سنی اکثریتی علاقوں میں پہاڑوں پر یا اللہ مدد اور حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے نام دیکھیں گے، جبکہ شیعہ اکثریتی علاقوں کے پہاڑوں پر یا اللہ مدد کے بجائے یا علی مدد اور یاحسین کے نام دیکھیں گے۔ صرف یہی علامات ہی دونوں مکاتب فکر کی ذہنیت کی عکاسی کے لیے کافی ہیں۔
دیواروں پر جگہ جگہ نفرت آمیز اور توہین آمیز کلمات نظر آتے ہیں۔ اہل تشیع کے علاقوں میں مختلف غیر تاریخی مزارات ہیں جو کہ اہل بیت کرام کے ناموں سے موسوم ہیں اور لوگ وہاں اس عقیدت کے ساتھ آتے ہیں جیسے کہ یہ واقعی اہل بیت کے کسی فرد کا روضہ ہو۔ شیعہ مکتب فکر میں اس کی مختلف توجیہات ہیں، جبکہ اہل سنت اس کو بالکل حرام اور شرک سمجھتے ہیں۔
جیسے ہی محرم الحرام کا مہینہ قریب آتا ہے یہ کشمکش طوفان کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ بس معمولی سی بے احتیاطی ہی جنگ کی آگ بھڑکانے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ شیعہ مقررین اور ذاکرین ضرور کوئی نا کوئی ایسی بات چھیڑتے ہیں جو کہ اہل سنت کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ اسی طرح بدلے میں پھر انتہا پسند سنی بھی اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ خود ہی اہل سنت کے نزدیک محترم شخصیات کی بےحرمتی کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ ان تمام اسباب ووجوہات کی وجہ سے دونوں مکاتب فکر میں موجود معتدل لوگ ہمیشہ اپنے ہی مکتب فکر کے لوگوں کے زیرعتاب رہتے ہیں۔
شیعوں میں عام ذاکرین اور ان کے پیروکار مستند شیعی علماء اور ان کے معتدل پیروکاروں کی بنسبت زیادہ ہوتے ہیں۔ لہذا نفرت انگیز تقاریر میں عموماً ان کی طرف سے پہل ہوتی ہے۔ اہل سنت کی بعض انتہائی مقدس شخصیات اہل تشیع کے نزدیک بالکل بھی قابل احترام نہیں ہیں، بلکہ وہ ان کے اوپر لعن طعن کو ضروری سمجھتے ہیں جو اہل سنت کے لئے قطعاً ناقابل برداشت ہے۔ اگرچہ اہل تشیع کے مجتہدین کا فتویٰ اس بابت واضح ہے کہ اہل سنت کے مقدسات کی توہین حرام ہے اور کچھ علماء اہل تشیع یہ احتیاط کرتے بھی ہیں مگر اکثر ذاکرین اس فتوے کو عملاً درخور اعتنا نہیں سمجھتے، جس کے ردعمل میں اہل سنت اس فتوے کو جھوٹ کا پلندہ، منافقت اور تقیہ سمجھتے ہیں اور چونکہ اہل سنت تعداد میں زیادہ ہیں اور ان میں تعلیم وتربیت کی کمی بھی ہے، اس لیے ان کا ردعمل ہمیشہ بے لچک اور پرتشدد ہوتا ہے۔ لہذا اہل تشیع کے مجتہدین کے اس طرح کے فتاویٰ موثر نہیں ہیں۔
پرتشدد ردعمل کے اظہار کی وجہ سے مقامی حکومتی افسران اور باہر کی دنیا میں کرم کے اہل سنت سماجی اور سفارتی طور پر ہمیشہ کمزور پوزیشن پر رہتے ہیں اور عام تاثر یہ ہوتا ہے کہ اہل سنت ہی اس تمام تنازعے میں واحد قصور وار ہیں۔ میرے نزدیک یہ بات مبنی بر انصاف نہیں ہے۔ میرے خیال میں اصل سبب مقدسات کی بےحرمتی ہے، جس میں جو بھی پہل کرتا ہے وہی قصور وار ہے اور جو پرتشدد رد عمل کا مرتکب ہوتا ہے وہ انتہا پسند ہے۔بات کو افہام و تفہیم اور مکالمے سے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس تمام صورت حال کی وجہ سے وہاں تمام تنازعات فورًا مذہبی تنازعے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ لہذا سب سے بنیادی وجہ مذہبی منافرت، انتہا پسندی اور فرقہ واریت ہے۔ یوں تو مختلف فرقوں کے افراد کے درمیان تنازعات ملک کے دیگر علاقوں میں بھی پائے جاتے ہیں، لیکن وہاں پر تنازع کے حد تک محدود رہتے ہیں جبکہ کرم میں کوئی بھی تنازع مذہبی حساسیت کی وجہ سے فوراً شیعہ سنی تنازع کا رخ اختیار کر لیتا ہے۔ پھر ہر بندہ اپنے مکتب فکر کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے چاہے وہ حق پر ہو یا ناحق پر۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ ان ذاتی تنازعات میں حصہ نہیں لیتے اور اس کو مذہبی تنازع نہیں سمجھتے وہ اپنے ہی مکتب فکر کے مطابق صحیح العقیدہ اور حق پرست مسلمان نہیں رہتے۔