پیش گوئیاں جو ابوالکلام آزاد نہ کر سکے

ابوالکلام آزاد صاحب علم تھے۔ پاکستا ن میں جب کبھی کوئی مسئلہ در پیش ہوتا ہے،کچھ حضرات قوم کی رہنمائی فرمانے آ جاتے ہیں کہ دیکھ لیجیے ابولکلام آزاد صاحب نے تو پہلے ہی پیش گوئی کر دی تھی۔ آئیے آج کچھ ایسی پیش گوئیوں کی فہرست مرتب کرتے ہیں جو ابوالکلام آزاد نہ کر سکے۔

ابولکلام آزاد یہ پیش گوئی نہ کر سکے کہ بھارت جو نام کا سیکولر ہے، اندر سے ایک فاشسٹ ریاست نکلے گا۔ جہاں دیگر مذاہب کے لیے زندگی جہنم بن جائے گی۔ جہاں دستور مرتب ہو گا تو سیکولر ہندوستان کی پارلیمان سکھوں کو الگ مذہب ماننے سے ہی انکار کر دے گی اور آرٹیکل 25 میں لکھ دے گی کہ سکھ کوئی الگ مذہب نہیں، یہ ہندو مذہب ہی ہے۔

ابوالکلام آزاد جہاندیدہ آدمی تھے مگر وہ یہ نہ بتا سکے کہ بھارت کی سیکولر ریاست کو ’ہندوانے‘ کا عمل اس کی پہلی پارلیمان کے ہاتھوں ہی انجام پا جائے گا اور ایوان میں سکھوں کے نمائندے سردار حکم سنگھ اور سردار بھوپندر سنگھ مان آئین پر دستخط کیے بغیر ناراض ہو کر ایوان سے نکل جائیں گے لیکن ہندو شاؤنزم ان کی ایک نہیں سنے گا۔

ابولکلام آزاد یہ پیش گوئی بھی نہ کر سکے کہ جس مہاتما گاندھی کی قیادت میں وہ بھارت کی جدو جہد کر رہے تھے وہی مہاتما آزادی کے چند ماہ بعد ہندو شاؤنزم اور ہندو کیپٹلزم کے علم بردار سردار پٹیل کے ہاتھوں بے بس ہو جائیں گے۔ امور ریاست میں ان کی بات کوئی سننے کو تیار ہی نہیں ہو گا۔ ہندو شاؤنزم نہ صرف مسلمانوں پر قیامت ڈھا دے گا بلکہ خطے میں وحشت کے سائے پھیلا دے گا اور پاکستان کے حصے کے وسائل روک لے گا۔ یہاں تک کہ مہاتما گاندھی کو اس ہندو شا ؤنزم کی پالیسیوں کے خلاف بھوک ہڑتال کرنا پڑے گی۔

ابولکلام آزاد یہ پیش گوئی بھی نہ کر سکے کہ آزادی کے چھٹے مہینے ہی ان کے مہاتما کو ایک ہندو انتہا پسند کے ہاتھوں قتل کر دیا جائے گا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ مہاتما کے قتل کے بعد وہ اس قوت کا نام تک نہ لے سکے خلق خدا جسے قاتل کہتی تھی۔ بعد میں کتاب لکھی تو ہومیو پیتھک سے انداز میں جان بچاتے ہوئے ادھر ادھر کی باتیں کر کے نکل لیے۔ رائے تک دینے کی ہمت نہ ہو سکی، روایات بیان کر کے عافیتوں میں جا پہنچے۔

پاکستان کے بارے میں قدم قدم پر پیش گوئیاں کرنے والے ابوالکلام آزاد ایسی کوئی پیش گوئی نہ کر سکے کہ مہاتما گاندھی پٹیل کے آگے اور سیکولر ہندوستان ہندو شاؤ نزم کے آ گے بے بس ہو جائے گا۔ چنانچہ جب سردار پٹیل نے گاندھی جی کی توہین کی تو ابوالکلام کے لیے یہ حیران کن تھا۔

انڈیا ونز فریڈم میں وہ لکھتے ہیں کہ ”ایک بات کا گاندھی جی کے ذہن پر بڑا بوجھ تھا اور وہ سردار پٹیل کا رویہ تھا“۔ ان کا کہنا ہے کہ سردار پٹیل کے اس رویے نے انہیں ] ابوالکلام آزاد کو[ حیران کر دیا۔ انہوں نے پٹیل سے شکوہ کیا تو پٹیل نے پلٹ کر جواب دیا: ”گاندھی نے ساری دنیا کے سامنے ہندوؤں کے منہ پر کالک مل دی ہے مجھے گاندھی سے کچھ نہیں لینا“۔

ابوالکلام نے یہ ساری باتیں بعد میں لکھیں، حیرت ہوتی ہے ان کی بصیرت ایسی کسی بات کو پہلے نہ بھانپ سکی اور وہ ایسی کوئی پیش گوئی نہ فرما سکے جیسی پیش گوئیاں وہ پاکستان کے بارے میں فرماتے رہے۔

ابوالکلام آزاد یہ پیش گوئی بھی نہ فرما سکے کہ ہندو شاؤنزم گاندھی جی کو اپنا دشمن سمجھ لے گا۔ چنانچہ بہت بعد میں وہ اپنی کتاب انڈیا ونز فریڈم میں لکھتے ہیں کہ انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ سردار پٹیل سمجھتے تھے کہ گاندھی کا بھرت پٹیل کے خلاف ہے۔یہی نہیں بلکہ گاندھی جی کے قتل کا جب پٹیل پر الزام لگا تو ابو الکلام نے اس معاملے کو ایک فقرے میں نبٹا دیا۔ گویا وہ اب بھی ہند شاؤنزم کی ناراضی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے۔

ابوالکلام آزاد یہ پیش گوئی بھی نہ کر سکے کہ کابینہ کی میٹنگز میں انہیں صرف مسلمان ہو نے کی وجہ سے متعدد بار سردار پٹیل کے ہاتھوں توہین آمیز سلوک کا سامنا رہے گا۔

وہ یہ پیش گوئی بھی نہ کر سکے کہ بھارت کی آزادی کے بعد جب وہ ’انڈیا ونز فریڈم‘ لکھیں گے تو خوف ] یا مصلحت[ کے تقاضے اتنے خوفناک ہو چکے ہوں گے کہ انہیں خود نوشت لکھ کر وصیت کرنا پڑے گی کہ فلاں تیس صفحات میرے مرنے کے تیس سال بعد چھاپے جائیں۔ابوالکلام آزاد یہ پیش گوئی تک نہ کر پائے کہ سیکولر بھارت میں آزادی رائے کی صورت حال اتنی سنگین ہو جائے گی۔

ابولکلام آزاد یہ پیش گوئی بھی نہ فرما سکے کہ بھارت جو خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پامال کر دے گا۔ ابوالکلام آزاد یہ پیش گوئی بھی نہ فرما سکے کہ بھارتی قیادت نے کشمیریوں سے جو یہ وعدہ کیا ہے کہ ان کے حق خود ارادیت کو یقینی بنایا جائے گا یہ اس وعدے سے بھی مکر جائے گی۔

کشمیر میں فوجیں اتار کر جب نہرو نے لیاقت علی خان کو ٹیلی گرام بھیجا کہ ”ہم عہد کرتے ہیں، کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے عوام کریں گے۔اور یہ وعدہ محض حکومت پاکستان سے نہیں یہ ساری دنیا سے ہے اور کشمیریوں سے بھی ہے“ تو ابو الکلام آزاد ایسی کوئی پیش گوئی نہ فرما سکے کہ اے اہل کشمیر نہرو جھوٹ بول رہا ہے یہ اپنے وعدے سے مکر جائے گا۔ اہل کشمیر امام الہند کی کتاب کا انتساب ہی پڑھتے رہ گئے:”دوست اور ساتھی جواہر لال نہرو کے لیے“۔

ابوالکلام آزاد بھارت کے پہلے وزیر تعلیم رہے مگر یہ پیش گوئی نہ فرما سکے کہ ایک وقت آئے گا بھارت کے گیارہویں جماعت کے پولیٹیکل سائنس کے نصاب کے آئین کے باب سے ابوالکلام کا اپنا نام بھی نکال دیا جائے گا۔

ابوالکلام آزاد یہ پیش گوئی بھی نہ فرما سکے کہ ان کے سیکولر بھارت میں ایک وقت آئے گا ہند کے ہیرو سلطان فتح علی ٹیپو کا نام بھی کرناٹکا کی سلیبس کی کتابوں سے نکال دیا جائے گا۔ وہ یہ پیش گوئی بھی نہ کر سکے کہ اتر پردیش کے سیاحتی کتابچوں سے تاج محل کو بھی غائب کر دیا جائے گا۔

ابولکلام آزاد یہ پیش گوئی بھی نہ فرما سکے کہ جس پاکستان کے وجود کے وہ قائل ہی نہیں ہیں وہی پاکستان ایک دن آئے گا کہ مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی قوت بنے گا۔وہ پاکستان ایسی تزویراتی اہمیت کا حامل ہو گا کہ دنیا کے لیے اسے نظر انداز کرنا ممکن ہی نہی ہو گا اور وہی پاکستان خطے میں ہندو شاؤنزم کے سامنے کھڑا ہو گا۔

ہمارے مسائل بے شک شدید ہو چکے ہیں لیکن مایوسی کے سفیر پیش گوئیوں کے ڈھیر سے نکل کر دیکھیں تو امید کا سورج بھی جگمگا رہا ہے۔دنیا عمل کا میدان ہے،پیش گوئیوں کا آزار نہیں۔ یہاں دھوپ چھاؤں آتی رہتی ہے۔ بیمار نفسیات پیش گوئیوں کے خول سے نکل سکے تو دنیا وسیع ہے۔
ا

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے