خوشی انسانی زندگی کا ایک بنیادی مقصد ہے، ہر فرد خوشی کا طلبگار، خواہش مند اور اس کے حصول کے لیے دل و جان سے کوشاں رہتا ہے لیکن یہ کیوں اور کیسے وجود میں آتی ہے؟ اس بارے میں انسان کا ذہن ازل سے تجسّس میں لگا ہے۔ جدید سائنس، جدید نفسیاتی تحقیقات اور سماجی علوم نے خوشی کے پیچیدہ عوامل کو سمجھنے سمجھانے میں کافی پیش رفت کی ہے۔ آئیے خوشی کی سائنسی بنیادوں، اس کے حصول میں سماجی تعلقات کی اہمیت اور ایک فرد کے اپنے ذاتی ارادے کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ خوشی کی حقیقت کیا ہے ؟ اور اس کے حصول میں کن بنیادی عوامل اور محرکات کو عمل دخل حاصل ہے۔
1. خوشی کی سائنسی توجیہ
انسانی دماغ میں قدرتی طور پر کئی کیمیائی مادے موجود ہوتے ہیں جیسا کہ (Neurotransmitters) یہ باقاعدہ خوشی کے جذبات کو مختلف مواقع کی مناسبت سے جنم دیتے ہیں، جن کی نمایاں ذیلی اقسام یہ ہیں:
ڈوپامائن (Dopamine) یہ گویا "مثبت انعام” کا کیمیکل ہے، جو کہ کسی کامیابی، مقصد کی تکمیل یا خوشگوار تجربات کے بعد خارج ہوتا ہے۔ اس طرح سیروٹونن (Serotonin) یہ موڈ کو مستحکم رکھتا ہے اور ڈپریشن کی کمی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس طرح اینڈورفنز (Endorphins) یہ قدرتی درد کش غدود ہیں جو کہ ورزش، ہنسی مزاح یا خوشگوار سرگرمیوں کے بعد خارج ہوتے ہیں۔ اس طرح جدید تحقیقی مطالعات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مراقبہ (Meditation)، ورزش کا اہتمام اور گہری نیند ان کیمیکلز کو متوازن رکھتی ہیں، جس سے خوشی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس طرح سائنس دانوں کا یہ بھی اندازہ ہے کہ خوشی کا پچاس فیصد حصہ جینیاتی عوامل پر منحصر ہوتا ہے یعنی کچھ لوگ فطری طور پر زیادہ خوش مزاج ہوتے ہیں، جبکہ دیگر لوگوں کو باقاعدہ مثبت سوچ کی تربیت ضروری ہوتی ہے۔ تاہم، جینیات کے باوجود، ماحول اور طرز زندگی جیسے عوامل بھی خوشی کے احساسات پر اپنا گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
2. سماجی تعامل: خوشی کا دوسرا سب سے بڑا ذریعہ
انسانوں کے باہمی تعلقات خوشی کی سب سے بڑا خارجی سبب ہیں۔ چند برس قبل ہارورڈ یونیورسٹی کی 75 سالہ طویل مطالعہ (Harvard Study of Adult Development) نے ثابت کیا ہے کہ گہرے اور مثبت انسانی تعلقات ہی طویل اور خوشگوار زندگی کی ضمانت ہیں۔
انسان کو پیش آنے والے مشکل لمحات میں جذباتی وابستگی اور حمایت کی ضرورت ہوتی ہے، یہ ضرورت بالعموم دوست احباب اور خاندان کے لوگ حوصلہ افزائی کی صورت میں پوری کرتے ہیں، جس سے درپیش تناؤ کم ہوتا ہے، اس طرح مقصد کا احساس بھی ایک اہم عامل ہے یعنی دوسروں کے ساتھ جڑے رہنے سے زندگی کو معنی و مقصد ملتے ہیں، اس طرح مثبت اور تعمیری تجربات کا اشتراک بھی خوشی کے احساسات اور ان کی شدت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اپنی ذاتی دلچسپی اور اہتمام سے اپنا دماغ مختلف اچھے لوگوں سے متعلق یاداشت، باتوں، اہداف اور خیالوں کی آمیزش سے ایک پورا تالاب بنا دیا ہے جس سے میرے دل کی کھیت کو ایک نالہ جاتا ہے اور یہ میرے دل کی سیرابی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ بعض لوگ، بعض باتیں، بعض مقامات اور بعض کام میرے لیے رزق جیسے ہوتے ہیں ان کے بغیر میرا گزارا نہیں۔
زندگی اور خوشی دونوں کا تقاضا ہے کہ ہم انسانوں سے جڑ کر رہے نہ کہ ان سے کٹ کر۔ تنہائی صرف جذباتی تکلیف ہی نہیں دیتی بلکہ یہ جسمانی صحت کو بھی بے حد متاثر کر رہی ہے۔ تحقیقات کے مطابق، تنہائی کا تجربہ سوزش (Inflammation) اور دل کی بیماریوں کے خطرے کو کئی گنا بڑھاتا ہے۔ جو دل، جو وجود اور جو زندگیاں اچھے لوگوں، اچھے کاموں اور اچھے مقاصد سے لگے نہیں ہوں گے وہ لازماً پریشانیوں، بیماریوں اور خالی پن کے نرغے میں چلے جاتے ہیں۔
3. خوشی کے معاملے میں ایک فرد کے اپنے کردار ارادے، عقیدے اور سوچ کے اثرات
جینیاتی ہیئت اور سماجی عوامل کے علاوہ، خوشی کا ایک اہم پہلو خود فرد کا اپنا ذوقِ انتخاب بھی ہے۔ شکرگزاری (Gratitude) ایک اہم ذہنی عامل ہے۔ کئی چیزوں سے روزانہ ایک فرد استفادہ کرتا ہے ان پر مختلف تناظرات میں باقاعدہ شکر گزاری سے خوشی کے احساسات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح "موجودہ لمحے” میں جینا (Mindfulness) سیکھ لیں یہ بھی ایک اہم ذہنی رویہ ہے کہ کس طرح ایک فرد خود کو ماضی میں گم کرنے یا مستقبل کی فکروں میں بکھر جانے سے بچا کر اپنے آپ کو حال میں رکھنے پر توجہ دے۔ یہ طرزِ عمل ذہنی سکون کا باعث ہے۔ اس طرح جن افراد کے پاس واضح مقاصد ہوتے ہیں، وہ زیادہ مطمئن اور خوش رہتے ہیں۔ ویکٹر فرینکل (Viktor Frankl) کی کتاب Man’s Search for Meaning میں بتایا گیا ہے کہ "مشکل حالات میں بھی، جو لوگ اپنی زندگی کو معنی خیز سمجھتے ہیں، وہ زیادہ خوش رہتے ہیں”۔
خوشی کے حصول میں مختلف تحقیقی مطالعات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ کسی اعلیٰ حقیقت یا سچائی کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں، ان میں ڈپریشن کم اور زندگی کے بارے میں اطمینان زیادہ ہوتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خوشی کا احساس صرف جینے یا ایک مخصوص ماحول کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت سائنسی، سماجی، جذباتی، ذہنی، نظریاتی اور انفرادی اعمال کا مجموعہ ہے۔ اگرچہ ہم اپنی جینیاتی ہیئت تبدیل نہیں کرسکتے، لیکن ہم اپنے رویوں، تعلقات اور سوچ کو تبدیل کر کے خوشی کو اپنی زندگی کا ایک لازمی حصہ بنا سکتے ہیں۔