دیدارِ اول: لفظوں کے معمار سے ملاقات

کبھی ایک عام سا لمحہ بھی زندگی کے غیرمعمولی راز آشکار کر دیتا ہے۔ وہ دن، جب کتاب "شہر میں گاؤں کے پرندے” پر شاعر اسحاق وردگ کا نام دیکھا۔یہ نام کسی خواب کی ابتدا جیسا لگا۔ کتاب کے پچھلے صفحے پر ایک نام تھا—اسحاق وردگ۔ وردگ؟ یہ تو میرا قبیلہ تھا، مگر کیا ہمارے قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی ایسا شخص بھی ہو سکتا ہے، جس کا نام علمی دنیا میں روشنی بن کر چمکے؟ دل میں ایک عجیب سی خوشی اور تجسس پیدا ہوا، جیسے کسی بھولے خزانے کا سرا ہاتھ آ گیا ہو۔

‎جب استاد محترم ڈاکٹر سید زبیر شاہ صاحب سے پوچھا تو ان کا جواب میرے اشتیاق کو مزید ہوا دے گیا: "وہ تو یہیں کالج میں ہیں!” یہ سن کر دل میں یہ خواہش شدت اختیار کر گئی کہ ان سے ملوں، ان کی باتیں سنوں، اور اس راز کو سمجھوں کہ وہ کون سا جذبہ یا ہنر ہے، جس نے انہیں ادب کی دنیا میں ممتاز کر دیا۔

‎پھر وہ لمحہ آیا۔ معمول کے مطابق استاد کے ساتھ ڈیپارٹمنٹ گیا تو کرسی پر ایک باوقار شخصیت کو بیٹھے دیکھا۔ ان کے چہرے پر ایک خاص قسم کا سکون اور دانائی جھلک رہی تھی۔ استاد نے مسکرا کر تعارف کرایا: "یہ ہیں اسحاق وردگ۔” دل کی دھڑکن لمحہ بھر کو تیز ہو گئی۔ ان کی موجودگی میں ایک غیر معمولی کشش تھی، جیسے الفاظ خود ان کے ساتھ جیتے ہوں۔

‎باتوں کے دوران ایک شعر سننے کو ملا، جو آج تک میرے دل کی دیوار پر کندہ ہے:

‎”دروازے کو اوقات میں لانے کے لیے میں
‎دیوار کے اندر سے کئی بار گیا ہوں۔”

‎یہ شعر کئی دنوں تک میرے ذہن میں گردش کرتا رہا۔ یہ ایک راز کی طرح تھا، جو ہر بار نئے معنی دیتا تھا۔ جب مفہوم سمجھ میں آیا، تو یوں لگا جیسے زندگی کی دیوار کے پار جھانکنے کا ہنر مل گیا ہو۔ یہ شعر محنت، قربانی، اور ثابت قدمی کی وہ داستان سنا رہا تھا، جو ہر عظیم کامیابی کا راستہ ہے۔

‎اسحاق وردگ سے یہ ملاقات محض ایک شخص سے ملنے کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے خیال سے آشنا ہونے کا لمحہ تھا، جو زندگی کے معنی بدل دیتا ہے۔ اور آج بھی، ان کے الفاظ میں لپٹا ہوا یہ راز دل کو جھنجھوڑتا ہے کہ ہر دیوار کے پیچھے ایک دروازہ ہے،
‎بس اسے دیکھنے کی ہمت چاہیے۔

‎لیکن اصل حیرت تو یہ تھی کہ اسحاق وردگ، جنہیں میں ایک نام سے جانا تھا، اب میرے لیے علم و ادب کی جیتی جاگتی مثال بن چکے تھے۔ اور شاید آج بھی، ہر بار اس شعر کو یاد کرنے پر، میں اسی حیرت میں گرفتار ہو جاتا ہوں جیسے پہلی بار ہوا تھا۔ کیا یہ محض ایک اتفاق تھا؟ یا زندگی کی دیوار کے پیچھے کسی اور دروازے کا اشارہ؟ اس سوال کا جواب شاید ابھی باقی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے