اٹھائے کچھ ورق لالے نے، کچھ نرگس نے، کچھ گل نے
چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری
وادی سون میں ہرطرف ایک عجیب و غریب داستان بکھری ہوئی ہے۔ جن کے کردار یوں گم ہوئے کہ آج کوئی جانتا تک نہیں کہ یہ لوگ کون تھے ان کا مذہب کیا تھا۔ وہ کہاں غائب ہو گئے۔ اور اس طرح غائب ہوئے کہ آج کی دنیا میں ان کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا۔
” نرسنگ پھوار“۔ جہاں کی شہرت یہی ہے کہ یہاں کسی قوم نے پختہ اشنان گھاٹ یا سوئمنگ پول بنائے تھے عبادت کیلئے ایک گوردواہ بھی تعمیر کیا ۔ جس کے کھنڈرات آج بھی محققین اور سیاحوں کی دلچسپی کا محور بنے ہوئے ہیں ایک بہت بلند پہاڑ کی ڈھلوان پر بنائے یہ اشنان گھاٹ آج بھی ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ پہاڑ کے عین درمیان پانی کے کئی چشمے پھوٹ رہے ہیں جن کے پانیوں سے اشنان کرنے کیلئے اشنان گھاٹ بنائے گئے ۔ یہاں بہت قدیمی بوڑھ کے درخت بھی ہیں .
نرسنگ پھوار کا نام اس کے بنانے والے نرسنگ داس کی وجہ سے معروف ہوا چونکہ یہاں سے پانی ایک پھوار کی صورت میں نیچے کو گرتا ہے اس لئے اس جگہ کو نرسنگ پھوار کہتے ہیں۔ جس نے عورتوں اور مردوں کے لئے الگ الگ اشنان گھاٹ بنوائے تھے .
نرسنگ پھوار سے نیچے وادی سون سے بہہ کر آنے والے پانیوں پر آٹا پیسنے کیلئے ایک پن چکی جسے مقامی زبان میں جندر کہتے ہیں، وہ بھی تعمیر کی گئی تھی چونکہ یہاں پانی کی روانی کافی تیز تھی تو انہوں نے یہاں پن چکی لگا رکھی تھی۔ صدیوں پہلے کا انسان بہتے پانی کی قوت کو استعمال کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا سیکھ گیا تھا۔ اوپر سے تیزی سے آتے پانی کے سامنے لکڑی کے پھالے لگا دیئے تھے جو پانی کے سامنے گھومتے اور بڑے بڑے پتھر جو ایک دوسرے کے اوپر رکھے گئے تھے انہیں گھماتے۔ اوپر والے پتھر کے اوپر بنے سوراخ میں گندم ڈالی جاتی جو پتھروں کے کناروں سے آٹا بن کر باہر آتی رہتی۔ اسے مقامی زبان میں جندر کہا جاتا ہے۔ آج کے جدید دور میں رہنے والے ہم لوگ ان کٹھنائیوں کو کبھی نہیں سمجھ پائیں گے جن سے صدیوں پہلے کے انسان کو گزرنا پڑا۔
نرسنگ پھوار پہنچے تو ہر طرف خوب صورت درخت، برآمدوں کی دیواریں، ایک طرف بنا ہوا قدیم مندر، راہداریاں، گھاس سے بھرے ہموار قطعے، ایک بہت ہی خوب صورت اور ماڈرن تصویر پیش کر رہے تھے۔ زمانہ قدیم کے لوگ بہترین حسن کے مالک تھے جنہوں نے یہاں پر یہ سب کچھ بنایا۔ ایک تالاب میں پانی تھا مگر دوسرا بالکل خشک تھا۔ ہمارے ذہنوں میں یہاں نہاتے ہوئے مرد و خواتین کی مسرت بھری چیخوں، قلقاریوں کی آوازیں گونجنے لگیں جو کبھی یہاں اشنان کیا کرتے تھے۔ ٹیم ادھر ادھر دیکھنے میں مگن ہو گئی۔ جس چیز نے نرسنگ پھوار کے حسن کو بے مزہ کر رکھا تھا وہ ٹوٹے پھوٹے پنجرے، ایک پرانا پیٹر انجن، اور اسی طرح کے چند آلات تھے۔ ہر طرف سبز قطعات تھے۔ جن کو اگر کوئی ماہر فن ترتیب دے تو ایک شاندار باغ کی شکل بن جائے۔
ہم یہی سوچتے رہے کہ قدرتی پانی کی گزرگاہ پر واقع اس سرسبز و شاداب قطعے کو پھر سے آباد کیا جائے تو لاکھوں لوگ اس کو دیکھنے لئے امڈ پڑیں۔ دل میں یہی حسرت لئے ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔ اب یہاں سے کچھ ہی دیر میں ہم نے اوپر سطح زمین تک پہنچ جانا تھا جہاں ہمارا لنچ ہمارا منتظر تھا۔ سورج غروب ہونے کے قریب تھا جب ہم نے لنچ کیا اور پھر الوداعی ملاقاتیں۔ اگلے ٹریک میں شامل ہونے کا عزم لئے ٹریک ایک دوسرے سے الوداع ہوئے۔ یہ ایک شاندار دن تھا جو بہت عمدہ انداز میں اختتام پذیر ہوا۔
تصاویر بشکریہ عدنان عالم اعوان