جموں و کشمیر کے متنازع علاقے میں سیزفائر لائن (Ceasefire Line – CFL) کی تاریخ، انڈیا اور پاکستان کے درمیان بدلتے ہوئے جغرافیائی اور سیاسی fault lines کی عکاسی کرتی ہے — ایک ایسی داستان جو جنگ، سفارت کاری، اور وقفے وقفے سے ہونے والی امن کی کوششوں سے عبارت ہے۔
1947-48 میں ریاست جموں و کشمیر کی جغرافیائی تقسیم اور کنٹرول:
1۔ تقسیم کے وقت ریاست کا جغرافیائی حال:
– ریاست جموں و کشمیر برطانوی ہند کی سب سے بڑی نوابی ریاست تھی، جس کا رقبہ تقریباً 222,236 مربع کلومیٹر تھا۔
– اس میں جموں (ہندو اکثریتی)، کشمیر وادی (مسلم اکثریتی)، لداخ (بدھ اکثریتی)، گلگت بلتستان، اور آزاد کشمیر کے علاقے شامل تھے۔
2۔ ذیلی حصے اور کنٹرول:
– جموں: ہندو اکثریتی علاقہ، جو تقسیم کے وقت مہاراجہ ہری سنگھ کے کنٹرول میں تھا۔
– کشمیر وادی: مسلم اکثریتی علاقہ، جس کا دارالحکومت سری نگر تھا۔ یہ بھی مہاراجہ کے پاس تھا۔
– لداخ: وسیع پہاڑی علاقہ جس میں لیہہ (مرکزی شہر) اور کارگیل شامل تھے۔ مہاراجہ کے کنٹرول میں تھا۔
– اکسائی چن: لداخ کا ایک غیر آباد، پہاڑی علاقہ جسے برٹش انڈیا کے بعد کے نقشوں میں کشمیر کی ریاست کا حصہ ظاہر کیا گیا تھا۔ 1947 تک یہ مہاراجہ کے پاس تھا لیکن 1950 کی دہائی میں چین نے اس پر قبضہ کر لیا اور اب یہ چین کے زیر کنٹرول ہے (اکسائی چن کا کل رقبہ تقریباً 38,000 مربع کلومیٹر ہے، جو انڈیا کا دعویٰ شدہ لیکن چین کے زیرِ انتظام ہے۔ پاکستان چین کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے، جبکہ انڈیا اسے لداخ کا حصہ سمجھتا ہے۔)
– گلگت بلتستان: یہ شمالی علاقہ مسلم اکثریتی تھا اور مہاراجہ کے زیر انتظام تھا، لیکن 1947-48 میں مقامی بغاوت کے بعد پاکستان نے اسے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
– آزاد کشمیر (مظفر آباد): 1947-48 کی جنگ کے بعد پاکستان کے زیر کنٹرول آیا، جسے اب "آزاد جموں و کشمیر” کہا جاتا ہے۔
3۔ 1947-48 کی جنگ کے بعد تبدیلیاں:
– انڈیا کے زیر کنٹرول: جموں، کشمیر وادی، اور لداخ (لیہہ و کارگیل)۔
– پاکستان کے زیر کنٹرول: آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان۔
– چین کے زیر کنٹرون: اکسائی چن (1950s میں قبضہ) اور شاکسگام ویلی (1963 میں پاکستان نے چین کو دیا)۔
اس مختصر پس منظر بیان کرنے کے بعد واپس سیز فائر لائن پر بات کرتے ہیں۔ یہ لائن، جو ابتدا میں 1949 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک عارضی حد بندی کے طور پر قائم ہوئی، وقت کے ساتھ ساتھ مختلف جنگوں اور معاہدوں کے بعد لائن آف کنٹرول (LoC) میں تبدیل ہو گئی۔ دہائیوں کے دوران، اس لائن کے کردار، نام، اور تشریح میں تبدیلیاں آتی رہیں، جو زمینی حقائق اور دونوں ممالک کے بدلتے ہوئے سیاسی موقف کو ظاہر کرتی ہیں۔
سیزفائر لائن کی ابتدا 1947-48 کی پہلی انڈیا-پاکستان جنگ کے خاتمے سے ہوئی۔ اس جنگ کا آغاز پاکستان سے آنے والے قبائلی جنگجوؤں کے جموں و کشمیر کی ریاست پر حملے سے ہوا، جس سے مہاراجہ ڈر گیا اور اس نے اس خوف میں انڈیا سے الحاق اور فوجی مدد کی درخواست کر دی۔ شدید لڑائی کے بعد، اقوام متحدہ کی ثالثی سے ایک سیزفائر 1 جنوری 1949 کو نافذ العمل ہوئی، جس کے نتیجے میں کشمیر انڈیا اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہو گیا۔
اس جنگ بندی کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کمیشن برائے انڈیا و پاکستان (UNCIP) نے 27 جولائی 1949 کے کراچی معاہدے کی نگرانی کی، جس نے سیزفائر لائن کو باقاعدہ طور پر قائم کیا۔ یہ 740 کلومیٹر طویل لائن اس خطے کو انڈیا کے زیر انتظام (جموں و کشمیر — لداخ) اور پاکستان کے زیر انتظام (آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان) علاقوں میں تقسیم کرتی ہے، اور اس کی نگرانی اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے انڈیا و پاکستان (UNMOGIP) کے تحت ہوتی رہی۔
ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک پاکستان اور انڈیا میں کوئی جنگ نہ ہوئی حالانکہ پاکستان اور انڈیا دونوں ہی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے پابند تھے۔ لیکن اس دوران جتنے بھی مذاکرات ہوئے اور ان میں جو بھی طریقے پیش کیے جاتے وہ کبھی ایک فریق مسترد کردیتا اور کبھی دوسرا۔ یہاں تک کہ انڈیا کی چین سے اسکائی چن کے متنازعہ علاقے پر جنگ ہوئی اور اس پورے خطے پر چین نے قبضہ کر لیا۔
چین کے لیے یہ خطہ بہت اہم تھا کیوں کہ یہاں سے تبت اور سنکیانگ کا براہ راست راستہ بنتا ہے۔ اس شاہراہ کی تعمیر کے بعد انڈیا اور چین کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی جو جنگ پر منتج ہوئی۔ اس موقع پر صدر ایوب خان کو کہا گیا تھا کہ وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر پر حملہ کر کے اُسے آزاد کرا لیں۔ لیکن اُنھوں نے ایسا نہیں کیا۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے صدر ایوب خان کو یقین دلایا تھا کہ وہ انڈیا کی چین سے جنگ کے دوران کوئی فائدہ نہ اُٹھائے تو امریکہ اس تنازعہ کو حل کروانے میں ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔ لیکن بعد میں ایسا نہ ہوا۔ تین سال تک مذاکرات چلتے رہے لیکن پہلے کی طرح۔
بہرحال سیز فائر لائن کا یہ انتظام 1965 کی دوسری انڈیا-پاکستان جنگ تک برقرار رہا۔ 1965 کی جنگ کی ایک وجہ تو صدر ایوب خان کی سیاسی لیجیٹیمیسی کے فقدان کا بحران تھا جو فاطمہ جناں کو دھاندلی زدہ الیکشن میں ہرانے کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ اس جنگ کا آغاز رن آف کچھ کے تنازع سے ہوا جس میں پاکستانی فوج کو کچھ کامیابیاں حاصل ہوئی تھیں، اور اس سے حوصلہ پاتے ہوئے پاکستان نے کشمیر میں خفیہ فوجی کارروائی شروع کی جو بعد میں کشمیر کے مسئلے پر ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ جنگ کے غیر فیصلہ کن اختتام کے بعد، سوویت یونین نے وزیر اعظم لال بہادر شاستری اور صدر ایوب خان کے درمیان تاشقند مذاکرات کی میزبانی کی، جس کے نتیجے میں 10 جنوری 1966 کو تاشقند اعلامیہ سامنے آیا۔
اس اعلامیے میں دونوں فریقوں سے کہا گیا کہ وہ جنگ سے پہلے کی پوزیشنز پر واپس چلے جائیں اور 1949 کی سیزفائر لائن کا احترام کریں۔ تاہم، اس اعلامیے میں نہ تو اس لائن میں کسی قسم کی تبدیلی کی تجویز دی گئی اور نہ ہی خودمختاری یا حق خودارادیت جیسے بنیادی تنازعات کو چھیڑا گیا، جس کی وجہ سے مسئلہ اپنی جڑ سے حل نہ ہو سکا۔ البتہ علاقوں کی واپسی کی وجہ سے انڈیا نے جن پیر کا جو انتہائی سٹریٹجک پہاڑی علاقہ قبضے میں لیا تھا، وہ پاکستان کو واپس کر دیا۔ اس علاقے کی واپسی کی وجہ سے شاستری پر اتنا دباؤ بڑھا کہ اس کا تاشقند میں ہی انتقال ہو گیا۔
1971 کی جنگ اور 1972 کا شملہ معاہدہ:
دسمبر 1971 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان تیسری جنگ کے بعد ایک بنیادی تبدیلی رونما ہوئی۔ یہ جنگ بنیادی طور پر مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر لڑی گئی تھی، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش معرض وجود میں آیا، لیکن کشمیر میں بھی شدید فوجی کارروائیاں ہوئیں، جہاں انڈیا نے 1949 کی سیز فائر لائن (CFL) سے آگے نئے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ یہ جنگ 2 جولائی 1972 کو شملہ معاہدے پر دستخط کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس پر انڈیا کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے دستخط کیے۔ اس معاہدے نے CFL کو "کنٹرول لائن” یا لائن آف کنٹرول (LoC) میں تبدیل کر دیا، جو ایک نئی اصطلاح تھی جس نے فوجی اور سیاسی حقیقت کو تسلیم کیا، لیکن دونوں ممالک کے قانونی موقف (حاکمیت کے حوالے سے) کو برقرار رکھا۔ معاہدے میں کہا گیا کہ "جموں و کشمیر میں 17 دسمبر 1971 کی جنگ بندی سے جو کنٹرول لائن وجود میں آئی ہے، دونوں طرف کے موقف کو مجروح کیے بغیر اس کا احترام کیا جائے گا۔” دونوں ممالک نے یکطرفہ طور پر LoC کو تبدیل نہ کرنے اور تنازعات کو دوطرفہ طور پر حل کرنے کا عہد کیا، جس سے بین الاقوامی ثالثی کا کردار کم ہو گیا اور UNMOGIP کی اہمیت (خاص طور پر انڈیا کے نقطہ نظر سے) گھٹ گئی۔
LoC کی حیثیت اور تصادم:
اس کے بعد کے سالوں میں، LoC ایک “ڈی فیکٹو” (عملی) سرحد بن گئی، لیکن “ڈے جُورے” (قانونی) طور پر نہیں۔ انڈیا جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ سمجھتا رہا، جبکہ پاکستان نے اسے متنازعہ علاقہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں (بشمول رائے شماری) کے نفاذ کا مطالبہ جاری رکھا۔ 1984 میں انڈیا نے سیاچین گلیشیئر پر قبضہ کر لیا جو پہلے پاکستان کے پاس تھا۔ لیکن انڈیا نے موقف اختیار کیا کہ یہ خطہ LoC سے اوپر واقع ہے اور اس پر اس لائن کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ تاہم یہ قبضہ پاکستانی فوج کی ایک ناکامی تھی۔
LoC پر متعدد خلاف ورزیاں ہوئیں، جن میں سب سے نمایاں 1999 کی کارگل جنگ تھی، جب پاکستانی فوجیوں اور مسلح عناصر نے LoC پار کر کے انڈیا کے زیر کنٹرول علاقوں میں مورچے بنا لیے۔ انڈیا نے شدید جنگ کے بعد ان پوزیشنوں کو واپس لے لیا، لیکن یہ واقعہ LoC کی غیر مستحکم نوعیت کو ظاہر کرتا تھا۔ 2000 کی دہائی سے لے کر 2019 تک جنگ بندی کی متعدد خلاف ورزیوں کے بعد، فروری 2021 میں دونوں ممالک نے 2003 کی جنگ بندی کے معاہدے کی تجدید کی، جس سے خطے میں کسی حد تک استحکام آیا۔
امن کی کوششیں اور چار نکاتی فارمولا:
فوجی تصادموں کے علاوہ، LoC پر امن کی متعدد کوششیں بھی ہوئیں۔ جنرل پرویز مشرف کا 2006-2007 میں پیش کیا گیا چار نکاتی فارمولا سب سے نمایاں تھا، جس میں:
1. موجودہ سرحدوں کو دوبارہ کھینچے بغیر برقرار رکھنا،
2. LoC کے پار آزاد نقل و حرکت،
3. جموں و کشمیر کے خطوں کو خود مختاری دینا، اور
4. انڈیا، پاکستان اور کشمیری نمائندوں پر مشتمل مشترکہ نگرانی کا نظام قائم کرنا شامل تھا۔
اگرچہ یہ فارمولا کبھی رسمی شکل اختیار نہیں کر سکا، لیکن اس کے لچکدار اور عملی ہونے کی ٹریک II ڈپلومیسی میں تعریف کی گئی۔ اس کے تحت LoC کے پار تجارت اور بس سروسز (مثلاً سری نگر-مظفر آباد اور پونچھ-راولا کوٹ) جیسے اعتماد سازی کے اقدامات شروع ہوئے، لیکن بعد میں انہیں عدم اعتماد اور دہشت گرد حملوں کی وجہ سے معطل کر دیا گیا۔
2019 کا تاریخی موڑ:
پلوامہ حملہ 14 فروری 2019 کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ہوا، جہاں جیشِ محمد کے خودکش حملہ آور نے دھماکہ خیز گاڑی انڈیا کے نیم فوجی دستوں کے ایک قافلے سے ٹکرا دی، جس سے 40 انڈین اہلکار ہلاک ہوئے۔ بھارت نے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا اور 26 فروری کو بالاکوٹ میں فضائی کارروائی کی۔ جواباً 27 فروری کو پاکستان نے جوابی کارروائی کی اور ایک انڈین پائلٹ کو گرفتار کر کے بعد میں رہا کیا۔ اس واقعے سے دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدہ ہو گئے، اور عالمی سطح پر کشیدگی، سفارتی دباؤ اور سکیورٹی پالیسیوں میں سختی دیکھی گئی۔
اور پھر کشیدگی کے اس پس منظر میں 5 اگست 2019 کو انڈیا کی حکومت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی اور اسے دو یونین ٹیریٹریز (جموں و کشمیر اور لداخ) میں تقسیم کر دیا۔ انڈیا کے نقطہ نظر سے یہ قدم کشمیر کے معاملے کو اس کا داخلی مسئلہ بنا دیتا ہے، جبکہ پاکستان نے اسے شملہ معاہدہ اور تاشقند اعلامیے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انڈیا اب کشمیر میں مکمل آئینی انضمام، سیکورٹی مرکز حکومت، اور اقتصادی ترقی پر زور دیتا ہے، جبکہ تیسرے فریق کی ثالثی کو مسترد کرتا ہے۔
موجودہ صورتحال (6 مئی، 2025 تک):
انڈیا اور پاکستان کے موقف پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو چکے ہیں۔ انڈیا قانونی اور انتظامی اقدامات کے ذریعے اپنا کنٹرول مضبوط کر رہا ہے، جبکہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اٹھانے اور انڈیا کے اقدامات کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ LoC ایک فوجی لائن کے طور پر قائم ہے، جہاں استحکام کے باوجود تصادم کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ خودمختاری، غیر فوجی کاری، یا نرم سرحدوں جیسے حل اب سرکاری گفتگو کا حصہ نہیں رہے، لیکن علمی اور سفارتی حلقوں میں مشرف فارمولا جیسے خیالات کبھی کبھار زیر بحث آتے ہیں۔
جنگ بندی لائن سے کنٹرول لائن تک کا سفر نہ صرف انڈیا-پاکستان تعلقات کی تاریخ کے سفر کو پیش کرتا ہے، بلکہ عالمی جیو پولیٹکس، علاقائی قوم پرستی، اور داخلی سلامتی کے تقاضوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ آج LoC محض ایک جسمانی سرحد نہیں، بلکہ دو متضاد قومی بیانیوں (انضمام بمقابلہ خودارادیت) کی علامت بن چکی ہے۔ مستقبل میں مفاہمت کے لیے نہ صرف سیاسی عزم اور لچک، بلکہ خطے کے سلامتی ماحول میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہوگی۔
جموں و کشمیر (اور لداخ) پر انڈیا اور پاکستان کے سفارتی مؤقف — 10 مئی 2025 کے بعد(امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے تناظر میں)
10 مئی 2025 کو انڈیا اور پاکستان کے درمیان تازہ ترین کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد، جموں و کشمیر (اور لداخ) کے تنازع پر انڈیا اور پاکستان کے سفارتی مؤقف میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ اگرچہ یہ جنگ بندی وقتی طور پر لائن آف کنٹرول (LoC) پر امن بحال کرنے میں کامیاب رہی ہے، لیکن نئی دہلی اور اسلام آباد کے بنیادی اختلافات بدستور موجود ہیں — اور اب یہ جنگ چین کی شمولیت کے ساتھ ایک وسیع تر جغرافیائی کشمکش کا حصہ بن چکی ہے۔
انڈیا کا مؤقف — جنگ بندی کے بعد (10 مئی 2025)
انڈیا نے یہ جنگ بندی بنیادی طور پر فوری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے قبول کی، خاص طور پر امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کے دباؤ کے تحت۔ تاہم، انڈیا نے صدر ٹرمپ کی جموں و کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو دوٹوک طور پر مسترد کر دیا۔ انڈیا کا مؤقف درج ذیل بنیادوں پر قائم ہے:
1. خودمختاری اور علاقائی سالمیت
5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد، انڈیا جموں و کشمیر اور لداخ کو مکمل طور پر اپنے وفاقی علاقوں (یونین ٹیریٹریز) کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ انڈیا کا موقف ہے کہ اب کوئی تنازع باقی نہیں بلکہ صرف وہ علاقے ہیں جو پاکستان (پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر) اور چین (اکسائی چن) کے قبضے میں ہیں اور جنہیں انڈیا واپس لینا چاہتا ہے۔
2. شملہ معاہدہ کے تحت دوطرفہ طریقہ کار
انڈیا مسلسل 1972 کے شملہ معاہدے کا حوالہ دیتا ہے، جس کے مطابق انڈیا اور پاکستان نے باہمی طور پر تنازعات کے حل پر اتفاق کیا تھا، لہٰذا کسی تیسرے فریق کی ثالثی کو انڈیا مسترد کرتا ہے۔
3. چین کا عنصر
انڈیا اس تنازعے کو صرف انڈیا اور پاکستان کا مسئلہ نہیں مانتا بلکہ اسے ایک سہ فریقی علاقائی تنازع بھی سمجھتا ہے، خاص طور پر چین کے قبضے والے اکسائی چن کے حوالے سے، جسے انڈیا لداخ کا حصہ مانتا ہے۔ انڈیا کو خدشہ ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی ثالثی سے چین کا قبضہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے — جو نئی دہلی کے لیے ناقابل قبول ہے اور امریکہ بھی چین کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
4. مشرف فارمولا اور نرم سرحدوں کی مخالفت
جمہوریت، خودمختاری، یا نرم سرحدوں جیسے پرانے تصورات (مثلاً مشرف فارمولا) کو انڈیا اب ناقابل عمل سمجھتا ہے۔ انڈیا کا مؤقف ہے کہ “مشترکہ خودمختاری” یا علاقائی سمجھوتے کی اب کوئی گنجائش نہیں رہی ہے کیونکہ جموں و کشمیر اب انڈیا کی ٹیریٹریز قرار دی جا چکی ہیں۔
پاکستان کا مؤقف — جنگ بندی کے بعد (10 مئی 2025)
اس کے برعکس، پاکستان نے ٹرمپ کی جنگ بندی اپیل کا خیرمقدم کیا اور موجودہ صورتحال کو ایک انسانی اور عالمی سلامتی کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کھل کر ان سے ثالثی کی اپیل کی ہے۔ پاکستان کے بنیادی دلائل درج ذیل ہیں:
1. جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت
پاکستان کا مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، اور اقوام متحدہ کی قراردادیں اب بھی قابلِ عمل ہیں۔ پاکستان تیسرے فریق کی ثالثی کا حامی ہے تاکہ انڈیا پر دباؤ ڈالا جا سکے اور مسئلہ کسی ریفرنڈم یا خودمختاری پر مبنی حل کی طرف بڑھ سکے۔
2. آرٹیکل 370 کی منسوخی کی مخالفت
اسلام آباد انڈیا کے 2019 کے اقدام کو غیر قانونی سمجھتا ہے اور اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ پاکستان اس اقدام کو عالمی مداخلت کے لیے ایک بنیاد بناتا ہے۔
3. کشمیری عوام کے حقوق کی حمایت
پاکستان مسلسل اس مؤقف پر قائم ہے کہ انڈین انتظامیہ کے تحت کشمیری عوام کے انسانی اور سیاسی حقوق پامال ہو رہے ہیں، جسے وہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرکے اخلاقی برتری حاصل کرنا چاہتا ہے۔
چین کا کردار — ایک سہ فریقی تنازع
اگرچہ انڈیا-پاکستان تنازعہ اس مسئلے کا مرکز رہا ہے، لیکن لداخ اور اکسائی چن کا معاملہ چین کو براہ راست اس تنازعے میں شامل کرتا ہے، اور اسے ایک سہ فریقی علاقائی تنازع بنا دیتا ہے:
چین اکسائی چن پر قابض ہے، جو ایک اسٹریٹجک علاقہ ہے اور انڈیا اسے لداخ کا حصہ مانتا ہے۔
بیجنگ نے اس علاقے میں فوجی انفراسٹرکچر کو وسعت دی ہے اور پاکستان کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنرشپ، خصوصاً چائنا-پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) کے ذریعے مضبوط کی ہے، جو گلگت بلتستان سے گزرتا ہے — وہ علاقہ جس پر انڈیا اپنا دعویٰ رکھتا ہے۔
انڈیا اور چین کے درمیان 2020 کے گلوان وادی جیسی مہلک جھڑپیں ہو چکی ہیں، اور انڈیا کسی ایسے عالمی حل کو قبول نہیں کرے گا جو چین کے قبضے کو قانونی حیثیت دے۔
امریکہ کا مؤقف اور مفادات
امریکہ، جو جنوبی ایشیا میں امن چاہتا ہے، اپنے سٹریٹجک مفادات کی روشنی میں کچھ واضح آؤٹ لائن رکھتا ہے:
وہ انڈیا کی قیمت پر چین کے علاقائی فائدے کو قبول نہیں کرے گا۔
امریکہ کسی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا جس کے نتیجے میں اکسائی چن پر چین کا قبضہ مستحکم ہو — خاص طور پر صدر ٹرمپ کے تحت، جن کی پالیسی کھل کر چین مخالف ہے۔
البتہ امریکہ اس بات کی ضرور خواہش رکھے گا کہ گلگت بلتستان کا خطہ جو متنازعہ ہے اس پر چین کی دسترس برقرار نہ رہے، یعنی اس خطے پر انڈیا کے موقف کی حمایت کی جائے۔
صدر ٹرمپ کا سفارتی مخمصہ اور ممکنہ حکمت عملی
صدر ٹرمپ، جنہوں نے جنگ بندی کرائی، اب تین متصادم پہلوؤں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں:
انڈیا، پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (PoJK) اور اکسائی چن کو واپس حاصل کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان، بین الاقوامی ثالثی اور کشمیری خودارادیت یا خودمختاری پر مبنی حل کا خواہاں ہے۔
چین، اکسائی چن میں اسٹریٹجک قبضہ رکھتا ہے، اور کسی بھی علاقائی مفاہمت سے اس کا فائدہ ہو سکتا ہے — جو امریکہ کو منظور نہیں۔
ٹرمپ کے پاس محدود لیکن اہم دباؤ کے ذرائع موجود ہیں:
انڈیا کے لیے: مارکیٹ تک رسائی، دفاعی معاہدے، یا ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی پیشکش کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ وہ امن قائم رکھنے کی کسی لچکدار حکمت عملی میں شامل ہو۔
پاکستان کے لیے: اقتصادی امداد، قرضوں میں ریلیف، یا آئی ایم ایف میں تعاون فراہم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ کشیدگی کم کرے اور دہشت گردی کے خلاف عملی اقدامات کرے۔
تاہم، ٹرمپ کسی علاقائی تنازع کا حتمی حل مسلط نہیں کر سکتے۔ زیادہ سے زیادہ وہ صرف تنازع کو “منجمد” رکھنے اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
کیا یہ تنازع حل ہو سکتا ہے؟ یا اسے منجمد کرنا ہی واحد راستہ ہے؟
تنازع کی پیچیدگی، تاریخی دعوے، اور جغرافیائی حساسیتوں کے پیش نظر، جموں و کشمیر (اور لداخ) کے مسئلے کا حتمی حل مستقبل قریب میں ممکن نظر نہیں آتا۔ وجوہات درج ذیل ہیں:
اگر موجودہ زمینی حقائق کو قانونی حیثیت دے دی جائے (یعنی status quo کو تسلیم کر لیا جائے)، تو:
اکسائی چن چین کے پاس رہے گا۔
گلگت بلتستان پاکستان کے پاس رہے گا۔
جموں، وادیٔ کشمیر، اور لداخ انڈیا کے پاس رہیں گے۔
یہ حل انڈیا کے لیے ناقابل قبول ہو گا، خاص طور پر موجودہ قوم پرست حکومت کے ہوتے ہوئے۔
مشرف فارمولا یا “مشترکہ خودمختاری” جیسے ماڈلز اب انڈیا میں سیاسی طور پر ناقابل قبول ہو چکے ہیں، جبکہ پاکستان میں بھی اب ان کی کوئی انسٹیٹیوشنل حمایت باقی نہیں رہی۔
اگر کسی نے LoC یا اکسائی چن کی حیثیت کو زبردستی تبدیل کرنے کی کوشش کی، تو پورا خطہ بڑی جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔
ہو کیا سکتا ہے—- ایک منجمد تنازع، مگر باقی معاملات بہتر ہوں…….
جی ہاں — موجودہ عالمی و علاقائی حالات میں، جموں و کشمیر (اور لداخ) کا تنازع عملاً ناقابل حل ہے۔ ٹرمپ (یا کوئی بھی امریکی صدر) ایسا کوئی معاہدہ نہیں کرا سکتا جو انڈیا، پاکستان اور چین — تینوں کو مطمئن کرے۔ اور جو حل ممکن ہیں ان میں امریکہ کے کسی بھی صدر کی دلچسپی نہیں ہوگی کیونکہ امریکہ چین کو فائدہ نہیں ہونے دے گا۔ لہٰذا بہترین حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ اس تنازعے کو منجمد کر دیا جائے، جبکہ دوسرے شعبوں میں نارملائزیشن (normalization) کی بھرپور کوشش کی جائے —
جیسے:
تجارت
علاقائی روابط
سیاحت
انسدادِ دہشت گردی
ماحولیاتی تعاون
پانی کی تقسیم
اس دوران مستقبل میں سیاسی حالات کی تبدیلی کے امکانات کو زندہ رکھا جائے۔ امریکہ کی ثالثی بعض اوقات مؤثر رہی، خاص طور پر جہاں فریقین آمادہ تھے، مگر جہاں سٹریٹجک مفادات، خودمختاری یا طاقت کا توازن پیچیدہ ہو، وہاں امریکہ کی مداخلت اکثر ناکام یا متنازع رہی۔ اب تک امریکہ کو بڑی کامیابیاں اسرائیل کو محفوظ بنانے والے تنازعات طے کرنے میں ملی ہیں!
(جموں و کشمیر متنازع علاقہ — — تین حصوں پر مشتمل یہ مضمون یہاں اختتام پزیر ہوتا ہے۔)