سیاست، مفاہمت، اور محصور انسانیت: فیلڈ مارشل منیر صاحب سے دست بستہ درخواست

ماضی کو یاد کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا:

"میں اُس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس نے علیحدگی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ آج کی نسل اُس درد کو محسوس نہیں کر سکتی۔ ہمیں اُن زخموں کو بھرنے یا مداوا کرنے کی ضرورت ہے۔”

یہ ہے صدر آصف علی زرداری کے انگریزی میں کہے گئے دلسوز جملوں کا ترجمہ نما خلاصہ، جو میں نے لکھا۔

صدر نے یکم جون 2025 کو پاکستان کے دورے پر آئی بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم سے خطاب کرتے ہوئے، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور مفاہمت کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے 1971 کی "علیحدگی” اور اس سے جُڑے جذبات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ جدائی دونوں ممالک کے لیے ایک تکلیف دہ تجربہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی نوجوان نسل اس درد کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتی۔

صدر زرداری نے تسلیم کیا کہ ماضی میں ہم نے ایک دوسرے کے دل دکھائے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان دلوں کو جوڑیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اب مفاہمت، باہمی افہام و تفہیم اور تعلقات کی بہتری کی ضرورت ہے تاکہ ماضی کے زخم بھرے جا سکیں۔

کتنی اچھی بات ہے! زخم کے سلنے سے زیادہ پُرسکون مرحلہ اور امن سے زیادہ قیمتی عہد کیا ہو سکتا ہے؟

میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ مظلوم، مجبور، ٹھوکریں کھاتی، ٹھکرائی ہوئی، عبرت کا نشان بنی پاکستان کی عاشق بہاری اور غیر بنگالی برادری،جن کی چوتھی یا پانچویں نسل خون آلود آزادی یا سقوطِ ڈھاکہ کے بعد سے بنگلہ دیش کے تیرہ شہروں میں، بشمول ڈھاکہ، کیمپ نما اذیت خانوں میں اپنی شناخت کی متلاشی ہے،ان کے لیے ایک سچّا اور سادہ پیغام دینا، اور ان کے لیے ہمدلی پیدا کرنے کی کوشش ترک کر دوں۔

یہ وہ "مجرم” لوگ ہیں جو اپنے یا اپنے بزرگوں کے "جرم” کی تلاش میں ہیں،
جس کی پاداش میں انہیں تمسخر، تذلیل سے بھرپور، اور سسکتی ہوئی زیست ملی ہے۔
کوئی بھی توانا آواز میں ان کا کیس نہیں لڑتا—عجب سناٹا ہے۔
میں لکھتے، بولتے، نقصان سہتے سہتے بوڑھی ہو رہی ہوں، مگر یہ خوفناک سناٹا ٹوٹنے میں نہیں آتا۔

اب تو دل کو یہ کہہ کر تسلی دیتی ہوں کہ جب فلسطینیوں کی لائیو نسل کشی دیکھ کر، اور ان پر ڈھائے گئے انسانیت سوز مظالم دیکھ کر بھی دنیا کے ضمیر پر کچھ اثر نہیں ہوا، جب کروڑوں کا احتجاج بھی طاقتور بے ضمیروں کو اُن کی سفاکانہ پالیسیوں سے نہیں ہٹا سکا، تو ہماری بربادی پر کون رنجیدہ ہو؟ یا سنجیدہ ہو؟
ہماری تو کہانی بھی ڈھنگ سے بیان نہیں کی گئی—سب کچھ دبا دیا گیا، چھپا دیا گیا، یا بھلا دیا گیا۔

شاید اس لیے جب معروف پاکستانی ایکٹوسٹ، فیمینسٹ یا جنوبی ایشیائی سیاست پر عالمی اور علمی پذیرائی رکھنے والے لوگ بولتے ہیں، تو صرف بنگالی خواتین کے مبینہ ریپ، یا پاک فوج کے مبینہ ناقابلِ معافی کردار کی بات ہوتی ہے—مگر بہاری، یا اردو بولنے والی اس محصور کمیونٹی کی سچی داستان، بے دری اور نسل کشی کا ذکر تک نہیں آتا۔

سچ یہ ہے کہ سیاست میں دل نہیں ہوتا۔ اور سیاست صرف سیاست دان نہیں کرتے، بلکہ وہ لوگ بھی جو خود کو انسانی حقوق کے چیمپئن کہتے ہیں، یا "امتِ مسلمہ” نامی کسی فرضی فلسفے کے ڈھول پیٹتے ہیں۔

مجھے یاد نہیں کہ جماعتِ اسلامی نے آخری بار کب ان مظلوموں کے لیے گرجدار آواز اٹھائی؟
مجھے یاد نہیں کہ ایچ آر سی پی نے پاکستان کی بے رخی پر کوئی مدلل تبصرہ دیا ہو؟
مجھے یاد نہیں کہ کسی معروف صحافی، دانشور یا انفلوئنسر نے کبھی کوئی وائرل ہونے والی مثبت بات کی ہو۔
اگر بات ہوئی بھی تو صرف طعنوں، گالیوں اور "ادھر ہی رہو”، "مہاجر ننگے بھوکے” جیسے زہریلے جملوں کی صورت میں۔

سال 2024، پانچ اگست کے بعد، میں نے کچھ بدلا بدلا دیکھا۔ دلِ نادان کو کچھ امید ہوئی—بدلاؤ کی۔
مگر بے سود۔
ماہرِ تجارت، جن میں اصل بزنس برادری کے علاوہ کچھ صحافی اور دانشور بھی شامل ہیں، بنگلہ دیش کے کئی دورے کر چکے۔ کوئی فنڈنگ بھی ہوئی ہو گی۔
مگر ان کو نہ تاریخ کا ٹھیک علم ہے، نہ انسانی المیے کا ادراک، نہ ہجرت کی وحشت کا احساس، نہ بھائی کے ہاتھوں دھوکہ کھانے کا تجربہ۔
۔۔۔ مگر دلہن وہی جو پیا من بھائے۔
جس جس کا چورن بک رہا ہے، ان کو ان کی کامیابیاں مبارک۔

میری اس ناتواں تحریر کا مقصد صرف اتنا ہے کہ پاکستان کے طاقتور ترین فرد، یعنی عزت مآب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب سے دست بستہ، دل سے، انسانیت کے ناطے اپیل کی جائے:

آپ کو اللہ کا واسطہ ہے، ان مظلوموں پر توجہ دیں۔

جو واپس آنا چاہتے ہیں، انہیں پاکستان واپس لائیں۔
آپ چاہیں گے تو صدر زرداری صاحب اور وزیر اعظم شہباز شریف صاحب بھی قائل ہو جائیں گے۔
یقین کریں، ہمارے بچے، ہمارے بزرگ، آپ کے غلام بن کر رہیں گے۔
ہم برابری کا دعویٰ نہیں کریں گے،
بس ہمیں پاکستانی تسلیم کر لیں، اور اس مٹی میں مدفون ہونے کا اہل قرار دے دیں۔

جو واپس نہیں آنا چاہتے، یا بنگلہ دیش میں اپنے قفس سے مانوس ہو چکے ہیں، ان کے لیے وہاں کی حکومت سے بات کریں کہ انہیں کچھ شہری حقوق، شناخت، اور عزت دی جائے۔
انہیں اس دائمی عذاب سے نکالا جائے۔

مجھے معلوم ہے کہ میں شاید جذباتی لہجے میں لکھ رہی ہوں، مگر مجھے یہ نہیں معلوم کہ دکھ کی بات کو بزنس کیس میں کیسے ڈھالا جاتا ہے۔
مجھے صرف یہ معلوم ہے کہ اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ہے:

"قَوْلٌۭ مَّعْرُوفٌۭ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌۭ مِّن صَدَقَةٍۢ يَتْبَعُهَآ أَذًۭى ۗ وَٱللَّهُ غَنِىٌّ حَلِيمٌۭ” (البقرہ: 263)
اچھی بات کہنا اور معاف کر دینا اُس خیرات سے بہتر ہے جس کے بعد دل آزاری ہو۔ اور اللہ بے نیاز اور بردبار ہے۔

یہی بات میں کہنا چاہتی ہوں—اگر کچھ نہیں بھی کر سکتے تو کم از کم ہمارے لیے ایک "قولِ معروف” ہی کہہ دیں۔
آرمی میوزیم میں سابقہ مشرقی پاکستان کے فراموش کر دیئے گئے، پاکستان سے غیر مشروط محبت کرنے والوں کے لیے ایک کتبہ ہی لگا دیں۔

پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

— ڈاکٹر رخشندہ پروین
ایک پاکستانی صحتِ عامہ اور صنفی امور کی ماہر، اور سوشل انٹرپرینیور۔ وہ مختلف سماجی ترقی کے سیکٹرز میں کام کر چکی ہیں اور کئی جامعات میں تدریسی فرائض انجام دے چکی ہیں۔ پاکستان میں پی ٹی وی کی صبح کی لائیو نشریات اور حالاتِ حاضرہ کے شو کی پہلی خاتون اینکر ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں۔ صنف کے حوالے سے 1999 میں ان کی پروڈیوس کردہ سیریز "جینڈر واچ” ایوارڈ یافتہ رہی۔ جہیز اور صنفی تشدد کے خلاف ان کا کام منفرد اور مؤثر تسلیم کیا جاتا ہے۔ گزشتہ بارہ سالوں سے وہ اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے محبِ وطن بہاریوں، خصوصاً موجودہ بنگلہ دیش میں محصورین کے لیے ایک مستقل آواز بن کر ابھری ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے