برکینا فاسو: تاریخ، معاشرہ، سیاست اور موجودہ صدر کی شخصیت، اقدامات اور ترجیحات

گزشتہ چند ہفتوں سے لگاتار سوشل میڈیا پر برکینا فاسو کے نوجوان صدر کیپٹن ابراہیم ٹراورے (پیدائش 1988) کی ویڈیوز کلپس خوب وائرل ہیں جس میں وہ بار بار مغرب کو للکارتا ہے اور اپنی قومی سلامتی اور وسائل کی حفاظت کا عزم ظاہر کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ برکینا فاسو کے صدر ایک صحت مند، طویل القامت، جاذب نظر، پر اعتماد اور جذباتی لب و لہجے میں مخاطب ہونے والا نوجوان ہے۔

نوجوانوں میں کافی مقبول ہے اور دھڑا دھڑ ان کی ویڈیوز آگے پھیلا رہے ہیں۔ آئیے ذرا برکینا فاسو اور اس کے نوجوان صدر کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ دیکھنے کی بھی کہ وہ اچانک کیسے عالمی منظر نامے پر نمایاں ہوگئے۔

برکینا فاسو مغربی افریقہ کا ایک خشکی سے گھرا ہوا مسلم اکثریتی ملک ہے، جس کا مطلب ہے "انصاف پسند لوگوں کی سر زمین”۔ یہ ملک اپنی ثقافتی تنوع، سیاسی اتار چڑھاؤ اور حالیہ عسکری تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ برکینا فاسو کی تاریخ قدیم سلطنتوں سے لے کر فرانسیسی استعمار اور پھر آزادی پانے اور باہم خانہ جنگیوں میں پڑنے تک دراز ہے۔ آج، یہ ملک دہشت گردی، طرح طرح کے معاشی چیلنجز اور شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، لیکن اس کے عوام میں مزاحمت اور امید کی روح بہر حال زندہ و تابندہ ہے۔ اس ملک کو اگر امن، استحکام اور دانشمند سیاسی قیادت میسر آ جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ بہت جلد ان شاءاللہ اس کی تقدیر بدل جائے گی۔

برکینا فاسو کا کل رقبہ 2٫74٫200 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کے چاروں اطراف میں چھ ممالک واقع ہیں، شمال میں مالی، مشرق میں نائجر، جنوب مشرق میں ٹوگو اور گھانا جبکہ جنوب مغرب میں آئیوری کوسٹ واقع ہے۔ اس کا دار الحکومت اواگا ڈوگو ہے۔ 2023 کی مردم شُماری کے مطابق یہاں کی کل آبادی 2 کروڑ 30 لاکھ 35 ہزار ہے۔ برکینا فاسو کو ماضی میں جمہوریہ اپر وولٹا کہا جاتا تھا اور 4 اگست 1984ء کو اس کا نام تبدیل کر کے برکینا فاسو رکھا گیا۔ یہ فیصلہ اس وقت کے صدر تھامس سنکارا نے کیا تھا۔ یاد رہے برکینا فاسو میں سرکاری اور کاروباری زبان فرانسیسی ہے۔

برکینا فاسو میں فرانسیسی اور دیگر نوآبادیاتی طاقتوں کی انیسویں صدی کے تسلط سے قبل تک یہاں مختلف مقامی قبائل آباد تھے جن میں موسی سلطنت خاصی اہم تھی۔ فرانس سے 1960ء میں آزادی پانے کے بعد ملک میں کئی غیر متوقع حکومتی تبدیلیاں آئی ہیں۔ اکتوبر 2014ء سے ستمبر 2015ء تک نیم صدارتی نظام رائج رہا۔ بلیز کومپار یہاں کے آخری صدر تھے جو 1987ء سے برسرِ اقتدار تھے تاہم ان کی حکومت کا تختہ 31 اکتوبر 2014ء کو نوجوانوں کی تحریک نے الٹ دیا تھا۔ 17 ستمبر 2015ء کو فوج نے بغاوت کر کے عبوری حکومت ختم کر دی اور اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ برکینا فاسو کے علاقے میں لوگ ہزاروں سال سے رہائش پزیر ہیں۔ سب سے پہلے وہ شکاری تھے اور جانوروں کا شکار کرتے جبکہ پھل اور سبزیاں بھی بطور خوراک استعمال کرتے تھے، بعد میں وہ کسان بن گئے۔ برکینا فاسو کی تاریخ میں موسی، گورما، اور فولانی قبیلوں کی سلطنتیں زیادہ اہم ہیں۔ موسی سلطنت (11ویں صدی تک) اور گورما ریاستیں (16ویں صدی تک) یہاں کے اہم سیاسی ادوار سمجھے جاتے ہیں۔

19ویں صدی کے آخر میں فرانس نے اس خطے پر قبضہ کر لیا اور اسے "اوپر وولٹا” کا نام دیا۔ 1947 میں اسے فرانسیسی مغربی افریقہ کا حصہ بنا دیا گیا۔ فرانسیسی استعمار کے دوران مقامی لوگوں پر بدترین جبر ہوا جبکہ ان کا معاشی استحصال بھی کیا گیا۔ برکینا فاسو نے 5 اگست 1960 کو فرانس سے آزادی حاصل کی۔ برکینا فاسو کو آزادی ملی لیکن اسے سیاسی استحکام میسر نہیں آیا اور یوں مختلف چھوٹے بڑے فوجی اور سیاسی انقلابات آتے رہے۔ تھامس سانکارا جن کو "افریقہ کا چی گویرا” بھی کہا جاتا ہے، 1983 میں اقتدار میں آیا۔ اس نے ملک کا نام اوپر وولٹا سے تبدیل کر کے برکینا فاسو رکھا اور انہوں نے اپنے دور حکومت میں تعلیم، صحت اور خواتین کے حقوق کے لیے انقلابی اقدامات اٹھائے۔ تاہم، 1987 میں اس کے قریبی ساتھی بلیز کامپاؤری نے اسے قتل کروا دیا۔ برکینا فاسو پر بلیز کامپاؤری نے 27 سال تک حکومت کی، جس کے دوران جمہوریت کمزور، انسانی حقوق معدوم جبکہ کرپشن خوب بڑھی۔ 2014 میں عوامی احتجاج کے بعد اسے اقتدار چھوڑنا پڑا۔

برکینا فاسو میں 2015 کو فوجی بغاوت کے بعد روخ مارک کرسٹین کابورے صدر بنے، لیکن وہ دہشت گردی اور معاشی بحران کنٹرول کرنے میں ناکام رہے۔ جنوری 2022 میں ایک اور فوجی بغاوت ہوئی، جس کے بعد پال-ہنری سانداوگو دمبا نے اقتدار سنبھالا۔ چند ماہ بعد پھر ستمبر 2022 میں کیپٹن ابراہیم ٹراورے نے بغاوت کر کے حکومت گرائی اور خود صدر بن گئے۔ ابراہیم ٹراورے ایک فوجی افسر اور سیاسی رہنما ہیں، جو کہ تین برس سے ملک کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ ایک فوجی بغاوت کے بعد اقتدار میں آئے، جو برکینا فاسو میں سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی بحران کے پس منظر میں ہوئی تھی۔ ابراہیم ٹراورے کی پیدائش 1988 میں ہوئی۔ وہ برکینا فاسو کی فوج میں کیپٹن کے عہدے تک پہنچے اور خاص فورسز میں خدمات انجام دیں۔ 30 ستمبر 2022 کو، انہوں نے لیفٹیننٹ کرنل پال-ہنری سنداگو دمیبا کے خلاف فوجی بغاوت کی قیادت کی، جس کے بعد وہ ملک کے عبوری صدر بن گئے۔ دمیبا خود بھی جنوری 2022 میں ایک بغاوت کے ذریعے اقتدار میں آیا تھا، لیکن جلد ہی ابراہیم ٹراورے نے اسے معزول کر دیا۔

ابراہیم ٹراورے نے ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی ترجیح قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے فرانس کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا کیا اور روس سے قریبی تعلقات استوار کیے، جس میں عسکری تعاون خاص طور پر بھی شامل ہے۔ کچھ حلقوں میں انہیں ایک عوامی ہیرو کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کیونکہ وہ فرانسیسی اثر و رسوخ کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں۔ تاہم، ان کے مخالفین ان پر جمہوریت کی بحالی میں تاخیر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام بھی لگاتے رہتے ہیں۔ ابراہیم ٹراورے کی حکومت ملک میں امن و استحکام بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن دہشت گردی کے واقعات اب بدستور جاری و ساری ہیں۔ برکینا فاسو کا معاشرہ کثیر النسلی ہے، جس میں موسی، فولانی، گورما، اور بوبو قبیلے اہم ہیں۔ اگر چہ یہاں کی سرکاری اور کاروباری زبان فرانسیسی ہے، لیکن مقامی زبانیں جیسا کہ مورے، دیولا، اور فولفولڈے بھی بولی جاتی ہیں۔ یہاں مسلمان ساٹھ فیصد، مسیحی پچیس فیصد جبکہ دیگر عقائد کے حامل لوگ پندرہ فیصد کے تناسب سے بستے ہیں۔

ابراہیم ٹراورے روس اور ترکی سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ انہوں نے فرانسیسی اثر و رسوخ کو کم کرنے اور ملک میں امن بحال کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کئی بار اپنی تقریروں میں مغرب کو مخاطب کرتے ہوئے چیلنج کیا ہے اور اس کو افریقی استحصال کا بڑا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "ہمیں مغرب کی ضرورت نہیں بلکہ مغرب کو ہماری ضرورت ہے”۔ صدر ابراہیم ٹراورے کی ترجیحات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، مالی اور نائجر کی سرحدوں پر عسکری گروہوں کے خلاف موثر کارروائیاں جبکہ روس کے ساتھ خصوصی تعاون بڑھانا شامل ہے۔ اس کے علاؤہ فرانسیسی فوج کو ملک چھوڑنے کا کہا، مالی اور نائجر کے ساتھ مل کر ساحلی ریاستوں کو مضبوط کیا۔ اس طرح زراعت اور کان کنی (سونے کی پیداوار) پر خاص توجہ دی ہے جبکہ چین اور روس سے مختلف تجارتی معاہدے بھی کیے۔ 2024 میں انہوں نے نئے آئین کا اعلان کیا تھا، جس میں صدارتی مدت کو محدود کرنے کی بات شامل ہے۔ ان کی حالیہ مقبولیت میں شاید یہی اقدامات اور للکار پکار خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

برکینا فاسو کو درپیش اہم چیلنجز میں اس وقت دہشت گردی، معاشی مشکلات، اور شدید سیاسی عدم استحکام سر فہرست ہے۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے بروز قیامت براعظم افریقہ کی زبوں حالی پر اللہ یورپ اور امریکہ کو ضرور پوچھے گا کہ وہاں لاحق بے شمار مسائل اور مشکلات کا سبب یورپی اور امریکی پالیسیاں ہیں۔ ابراہیم ٹراورے کی حکومت اگر امن قائم کرنے اور معیشت کو بہتر بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ ملک استحکام پا سکتا ہے۔ برکینا فاسو ایک جنگجو اور پرعزم قوم ہے، جس نے تاریخ میں بے شمار بحرانوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔صدر ابراہیم ٹراورے کا مقصد ملک کو بیرونی مداخلت سے آزاد کرانا ہے۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ کیا برکینا فاسو ایک پرامن اور خوشحال ملک بن پائے گا یا پھر کشمکش اور انقلابات ہی کی آماجگاہ بنا رہے گا۔ مجھے یقین ہے کہ اگر چین اور ترکیہ اسے دوستی اور مہربانی کا ہاتھ بڑھائے تو قوی امکان ہے کہ وہ کشمکش اور بدحالی سے نکل کر امن، خوشحالی اور استحکام کے دور میں داخل ہو جائے گا اور یوں براعظم افریقہ کے لیے ایک بہترین مثال بن جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے