کراچی میں سلمان فاروقی نامی ایک آدمی نے ایک موٹر سائیکل سوار کو اس کی بہن کے سامنے مارا، گندی اور غلیظ گالیاں دیں، تشدد کا نشانہ بنایا، اور اس کی عزتِ نفس کو مجروح کیا۔
یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ اس میں کوئی زیادہ دُکھ کا عنصر بھی نہیں ہے۔
جب یہ واقعہ پیش آ رہا تھا، اس وقت بہت سارے لوگ وہاں کھڑے تھے۔ ہر عمر کے لوگ، ہر طرح کے لوگ، اور وہ یہ تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
یہ بھی کوئی انہونی بات نہیں ہے، اور نہ ہی دُکھ کی بات ہے۔
اصل میں انہونی بات یہ ہے، دُکھ کی بات یہ ہے، افسوس کی بات یہ ہے، ماتم کرنے والی بات یہ ہے کہ یہ سارے لوگ، جو تماشائی بنے وہاں کھڑے تھے، اگر یہ سب مل کر سلمان فاروقی کو پکڑ لیتے، اس کے گارڈ کو قابو کر لیتے، چاہے ان کی پٹائی نہ بھی کرتے، لیکن ان کے ہاتھ باندھ کر ظلم سے روک لیتے، پولیس کے حوالے کر دیتے—تو شاید کچھ فرق پڑتا۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
کسی ایک شخص کے اندر اتنی جُرأت، اتنی ہمت، یا اتنا احساس باقی نہیں تھا کہ وہ اس کو روک سکتا۔ اگر وہ سارے لوگ مل جاتے، تو یہ کبھی نہ ہوتا۔ اگر لوگوں کو معلوم ہو کہ ہم کہیں سڑک پر ظلم کریں گے تو عوام ہم پر ٹوٹ پڑے گی اور ہمیں روک دے گی، تو شاید اس سوچ سے ہی ظلم کی شرح میں کچھ کمی آ جائے۔
لیکن بے حسی عام ہے۔
پہلی بات تو یہ ہے، انتہائی افسوس کے ساتھ، کہ ہمارا قانون کسی پرانی موم بتی یا دیے کی طرح ہے، جو پوری روشنی ہی نہیں دے پا رہا۔ اوپر سے عوام کی بے حسی—سب کو پتا ہے کہ کوئی کچھ نہیں کہے گا، جو مرضی کر لو۔
اصل بات دُکھ کی یہ ہے، اصل بات ماتم کرنے والی یہ ہے کہ "امر بالمعروف” اور "نہی عن المنکر”—یعنی بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا—اس سے لوگ اب واقف نہیں رہے۔ اس سے لوگ اب شناسا نہیں ہیں۔ معاشرہ اسی طرح تباہ ہوتا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ فلاں بستی کو اُلٹ دو جہاں میری نافرمانی ہو رہی ہے، تو فرشتوں نے عرض کیا: "یا اللہ! اس بستی میں تو ایک بہت نیک آدمی بھی موجود ہے۔”
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"پہلے اسی کو اُلٹو، کیونکہ آج تک میری نافرمانی کو دیکھ کر اس کے ماتھے پر ایک شکن بھی نمودار نہیں ہوئی۔”
ہم اجتماعی طور پر اور معاشرتی طور پر بے حسی اور درندگی کی اس سطح پر پہنچ چکے ہیں، جہاں پر بستیاں اُلٹ دی جاتی ہیں۔
(نوٹ: کالم لکھتے وقت تک خبر یہ آئی تھی کہ سلمان فاروقی گرفتار ہو گیا ہے، اور ایک مشکوک سی تصویر بھی سوشل میڈیا پر نظر آ رہی ہے، جہاں پہ وہ سلاخوں کے پیچھے ہے۔ حیرت ہے کہ اس نے تصویر کھنچواتے وقت وکٹری کا نشان نہیں بنایا، اگرچہ اس کے چہرے پر فخر اور غرور کے تاثرات نمایاں ہیں۔ کاش مجھے یقین ہوتا کہ اس کو سزا ملے گی۔)