قوم پرستی ایک ایسا نظریہ ہے جسے ہمیشہ مقدس، فطری اور ناگزیر بنا کر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ درحقیقت ایک جدید، مصنوعی اور سیاسی مفاد پر مبنی تصور ہے۔ میں کبھی یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ لوگ اپنی جانیں ایک ایسی زمین کے لیے کیوں دیتے ہیں جہاں انہیں زندہ رہنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ ایک ایسی جگہ کے لیے قربانی دینے کا جذبہ کیوں بیدار کیا جاتا ہے جو اکثر ان کی بھوک، محرومی اور بےبسی کا مرکز بنی رہتی ہے؟ اور وہی سرزمین امیر طبقے کے لیے محض ایک تفریح گاہ بن کر رہ جاتی ہے، جسے وہ جب چاہیں چھوڑ کر دوسری دنیا میں جا بسیں۔
قوم پرستی ایک ایسی سوچ کو فروغ دیتی ہے جس میں انسان کو زمین، پرچم یا زبان سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ ریاست اپنے شہریوں کو ایک قوم کے نعرے تلے متحد کرتی ہے، لیکن اس اتحاد کا فائدہ ہمیشہ طاقتور طبقات کو ملتا ہے۔ وہی غریب جنہیں "وطن کے محافظ” بنا کر سرحدوں پر کھڑا کیا جاتا ہے، وہی زندگی بھر پسماندگی، غربت اور استحصال کا شکار رہتے ہیں۔ جب جنگ ہوتی ہے تو یہی غریب اپنی جانیں دیتے ہیں، اور جب امن ہوتا ہے تو انہی کی زمینیں برباد، ان کے بچے یتیم اور ان کی بستیاں اجاڑ دی جاتی ہیں۔
کارل مارکس نے اگرچہ "قوم پرستی” پر براہِ راست کتاب نہیں لکھی، مگر اس کا پورا فلسفہ قوم پرستی کے خلاف ہے۔ اس کے نزدیک انسانوں کی اصل تقسیم قوم، نسل، مذہب یا زبان کی بنیاد پر نہیں بلکہ طبقاتی بنیاد پر ہوتی ہے۔ مارکس کا مشہور قول ہے کہ "دنیا بھر کے مزدورو، متحد ہو جاؤ۔ تمہارے پاس کھونے کو صرف زنجیریں ہیں”۔ یہ الفاظ خود بتاتے ہیں کہ مارکس کے نزدیک مزدور کی کوئی سرحد نہیں، اس کا کوئی قومی پرچم نہیں، اس کا وطن وہ نظام ہے جو اس کی آزادی، عزت اور روٹی کی ضمانت دے۔
مارکس نے کہا تھا کہ "مزدور کا کوئی وطن نہیں ہوتا”، اور اس جملے کی صداقت آج کے دور میں بھی ویسی ہی قائم ہے جیسی دو سو سال پہلے تھی۔ قوم پرستی مزدوروں اور عام عوام کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیتی ہے۔ ہندوستان کا مزدور پاکستانی مزدور سے نفرت کرتا ہے، اسرائیلی کسان فلسطینی کسان کو دشمن سمجھتا ہے، اور یورپ میں نسل پرستی اور قوم پرستی کے نام پر پناہ گزینوں کو انسانیت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔
یہ سب تقسیمیں اس مقصد سے کی جاتی ہیں کہ اصل دشمن، یعنی سرمایہ دار طبقہ، بچا رہے۔ وہ طبقہ جو جنگ سے منافع کماتا ہے، جو قومی پرچم کی آڑ میں اپنا سیاسی اقتدار مضبوط کرتا ہے۔
قوم پرستی کی بنیاد مذہب، ثقافت، نسل یا زبان پر رکھی جاتی ہے، لیکن یہ بنیادیں محض فرق ڈالنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ مذہب جو روحانیت اور اخلاقیات کی تعلیم دیتا ہے، جب قوم پرستی کے ہاتھوں میں آتا ہے تو وہ تشدد، نفرت اور تعصب کا ہتھیار بن جاتا ہے۔ برصغیر کی تقسیم میں یہی ہوا۔ لاکھوں لوگ مذہب کی بنیاد پر اپنے ہمسایوں کو دشمن سمجھنے لگے اور نتیجہ خونریزی، ہجرت، اور انسانی المیے کی صورت میں نکلا۔ مارکس مذہب کو عوام کے لیے "افیون” کہتا ہے، اس معنی میں کہ جب اسے طاقت کا آلہ بنایا جائے، تو یہ انسان کو اپنی اصلی حیثیت، یعنی ایک مظلوم اور استحصال زدہ فرد، کو سمجھنے نہیں دیتا۔ قوم پرستی بھی ایسی ہی ایک افیون ہے جو عوام کو خواب غفلت میں مبتلا رکھتی ہے۔
قوم پرستی انسان کو اس کی اصل پہچان، یعنی "انسان” ہونے سے محروم کر دیتی ہے۔ وہ اسے سکھاتی ہے کہ وہ کسی خاص نسل، زبان یا مذہب سے وابستہ ہے، اور اس کا دشمن وہ ہے جو اس شناخت سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں جتنی بڑی جنگیں ہوئیں، ان میں قوم پرستی کا کردار بنیادی رہا۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ، بوسنیا کی نسل کشی، روانڈا میں قبائلی قتل عام، یا برصغیر کی فرقہ وارانہ فسادات — ان سب کے پیچھے یہی سوچ کارفرما تھی کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے برتر ہے، اور اس برتری کو قائم رکھنے کے لیے تشدد جائز ہے۔
آج جب دنیا شدید ماحولیاتی بحران، عالمی وباؤں، اور معاشی بے یقینی کا شکار ہے، اس وقت قوم پرستی جیسے نظریات نہ صرف غیر متعلق ہو چکے ہیں بلکہ خطرناک بھی ہو گئے ہیں۔ جب ایک ملک اپنے شہریوں کی جان بچانے کے بجائے "قومی سلامتی” کے نام پر جنگی اخراجات میں اضافہ کرتا ہے، تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ ریاست کا اصل مقصد کیا ہے؟ کیا ریاست انسانوں کی فلاح کے لیے ہے یا زمین کے ٹکڑوں کی حفاظت کے لیے؟
قوم پرستی درحقیقت ایک دھوکہ ہے، جو عوام کو یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ ایک عظیم مقصد کے لیے قربانی دے رہے ہیں، جبکہ اصل میں وہ ایک نظام کی بقا کے لیے استعمال ہو رہے ہوتے ہیں جو صرف طاقتوروں کے مفاد میں ہوتا ہے۔ انسان کی قدر، اس کی زندگی، اس کی آزادی، اور اس کا شعور کسی بھی قوم، کسی بھی پرچم اور کسی بھی سرحد سے زیادہ اہم ہے۔ ہمیں اپنی وفاداری اس زمین کے ٹکڑوں سے نہیں بلکہ انسانوں سے ہونی چاہیے۔
کارل مارکس کی فکر ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب تک ہم طبقاتی شعور پیدا نہیں کرتے، ہم محض ایک بھیڑ بن کر طاقتوروں کے مفادات کی خدمت کرتے رہیں گے۔
قوم پرستی اس بھیڑ کو کنٹرول کرنے کا بہترین ہتھیار ہے۔ اس لیے آج کے دور میں سب سے بڑی مزاحمت یہی ہے کہ ہم اس مصنوعی نظریے کو رد کریں، اور انسان کو اس کی اصل شناخت — ایک باشعور، آزاد اور برابری کے حقدار فرد کے طور پر تسلیم کریں۔