آج کل مسلمانوں کی پستی اور زوال کی سب سے بڑی وجہ فرقہ واریت ہے۔ اسی کی وجہ سے ایک افسوسناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ہر فرقہ باقاعدہ طور پر خود کو حق کا معیار سمجھنے لگا ہے۔ اپنے رویوں سے وہ عملاً یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر زمین پر اللہ کے دین کا کوئی نمائندہ ہے تو صرف ہمارا فرقہ ہے۔ گویا پوری امت کے لیے حق کا پیمانہ صرف ہمارا گروہ ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاء علیہم السلام کو ایک فرد کی شکل میں حق کا معیار بنا کر بھیجا تھا، اب وہی معیار ہمارا فرقہ ہے (اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے)۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ ایک فرد تھے، جبکہ ہم ایک گروہ کی شکل میں حق کا معیار بن گئے ہیں۔
فرقہ پرستوں کا یہ حال ہے کہ گویا اللہ کا دین صرف ان پر ہی نازل ہوا ہے۔ اس کی تشریح کا حق بھی صرف انہی کے پاس ہے۔ عملاً ان کا رویہ یہ بتاتا ہے کہ گویا انہیں (اللہ تعالیٰ کی پناہ) قوانین بنانے کے اختیارات مل گئے ہیں۔ یہ محض بات نہیں ہوتی، بلکہ باقاعدہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ:
ہماری ہر بات حق ہے۔
ہماری رائے کے سامنے جھکنا ہی حق پر ہونا ہے۔
جو ہمارے موافق نہیں، وہ باطل ہے۔
یہ کوئی چھوٹا موٹا دعویٰ نہیں۔ بلکہ یہ گمراہی کی اس انتہا کو چھو لینا ہے جہاں سے اسلام ختم ہوتا ہے اور کچھ اور شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے دین میں ایسے دعوؤں کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایسے فرقہ وارانہ رویے کو زیادہ سے زیادہ "جاہلیت” کہا جا سکتا ہے۔ جاہلیت سے گھٹیا کوئی لفظ اس رویے کے لیے موزوں نہیں۔
فرقوں کے نظریات کو کسوٹی بنا لینا اور انہیں کی بنیاد پر کفر و اسلام کے فیصلے کرنا، آج کل کی فرقہ بندیوں کا نمایاں رویہ بن چکا ہے۔ کسی چیز کو عقیدہ بنا دینا اور اس سے اختلاف کرنے والے کو مسلمان ہی نہ سمجھنا اب عام ہو گیا ہے۔ مثلاً: مردے سنتے ہیں یا نہیں؟ جیسے مسائل میں بہت زیادہ عقل لڑا کر، عقل پرستی کرتے ہوئے انہیں دین کا لازمی حصہ بنا دینا کس سے چھپا ہوا ہے؟
ان فرقہ پرستوں کی اکثریت اُن بنی اسرائیل جیسی ہے جنہوں نے اپنی قومیت کو کامیابی کی ضمانت سمجھ لیا تھا۔ بالکل اسی طرح یہ لوگ بھی سچائی، دیانت، اللہ کا خوف اور صحیح عقیدے کو چھوڑ کر صرف اپنے فرقے سے وابستگی کو ہی کامیابی کی شرط بنا بیٹھے ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ان گروہوں کے بڑے بڑے علماء اس سنگین صورتحال پر خاموش ہیں۔ صرف اس لیے کہ یہ رویے ان کے اپنے فرقے کے لوگوں نے اپنا رکھے ہیں۔
اس سلسلے میں ایک اور پریشان کن بات یہ ہے کہ فرقہ پرست شخص گروہ پرستی کو دین ہی کا تقاضا سمجھتا ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کو غلط راستے سے روکنے کا جو مضبوط ہتھیار (اللہ کا خوف) ہوتا ہے، فرقہ پرستی کی سوچ اس راستے کو بھی بند کر دیتی ہے۔
اگر اس مسئلے پر اعداد و شمار جمع کیے جائیں تو پتہ چلے گا کہ یہ خطرناک مرض اس حد تک پھیل چکا ہے کہ اب صرف نصیحت سے اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔ جب تک حکومت (ریاست) اس میں مداخلت نہ کرے، اس کا علاج ناممکن ہے۔
فرقہ پرستی کے اس بھیانک مسئلے کو دیکھتے ہوئے، حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس وبا کو ختم کرنے کے لیے فوری قدم اٹھائے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ اگر کوئی عیسائی یا ہندو مسلمان نہیں بنتا تو شریعت نے ہمیں صرف دعوت دینے کا پابند بنایا ہے۔ لیکن کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے گروہ کو دین کی تعلیمات کی تشریح کا اکلوتا حقدار ٹھہرائے۔ اور اپنے اس دعوے کو اس حد تک بڑھا دے کہ اس سے اختلاف کرنے والا کافر ٹھہرے۔
اس کا فوری اور عملی حل یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت پہلے مرحلے پر تمام مکاتبِ فکر کے معتدل اور دینی علوم کے ماہر علماء کی ایک کونسل بنائے۔
وہ علماء اسلامی تعلیمات کے بنیادی ماخذ (قرآن و سنت)، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور پہلے دور کے معتدل محقق علماء کی تشریحات کی روشنی میں، فرقہ بندی کے بارے میں اسلام کا بنیادی موقف واضح کریں۔
پھر، اسی علماء کونسل کے ذریعے اس موضوع پر ایک تفصیلی نصاب (کورس) تیار کیا جائے۔ اس نصاب میں وہ تمام باتیں واضح طور پر شامل ہوں جو اسلام میں فرقہ بندی اور گمراہی کی وجہ بنتی ہیں۔ ساتھ ہی معاشرے میں موجود مختلف گروہوں کے ان خیالات کی نشاندہی بھی کی جائے جو فرقہ واریت یا گمراہی پر مبنی ہوں۔ اسی طرح ان باتوں کو بھی واضح کیا جائے جو اگرچہ گمراہی کی وجہ نہ ہوں، لیکن محض اختلافِ رائے کی بنا پر لوگوں نے کسی خاص گروہ کو ان کی وجہ سے گمراہ قرار دے دیا ہو۔اسی نصاب کو حکومت کی طرف سے ہر تعلیمی ادارے میں لاگو کیا جائے۔ اس نصاب کو مختلف حصوں میں بانٹا جائے۔ ہر تعلیمی سطح (کلاس) پر اس کا مناسب حصہ پڑھایا جائے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، حکومت خود، یا ملک کے تمام دینی بورڈز کے مشترکہ امتحان کے ذریعے، ڈگری (سند) دینے کے لیے اس نصاب میں پاس ہونا لازمی قرار دیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ، علماء اور شرعی ماہرین جو قرآن و سنت کی روشنی میں فرقہ واریت کے خلاف اصول طے کریں، ان اصولوں کو قانون کا حصہ بنایا جائے۔ ان اصولوں کی خلاف ورزی پر حکومت سزا دے۔
ایک اور اہم کام یہ ہو کہ اگر کوئی شخص یا گروہ کسی دوسرے فرقے کے خلاف کتاب یا مضمون لکھے، تو اس پر پابندی ہو کہ وہ صرف اسی کتاب یا تحریر سے مواد لے سکتا ہے جس پر وہ تنقید کر رہا ہے۔ یعنی کوئی تنقیدی تحریر افواہوں یا سنی سنائی باتوں پر مبنی نہ ہو۔ اگر کوئی کسی مصنف یا عالم کسی جھوٹی اور خلاف واقعہ بات منسوب کرے، تو اسے قابل سزا جرم قرار دیا جائے۔ اگر ایسا کرنے کا پہلے سے کوئی قانون موجود ہو، تو اسے سختی سے نافذ کیا جائے۔
اس کے علاوہ، حکومت کی سرپرستی میں مختلف دینی اداروں میں فرقہ واریت پر سیمینار منعقد کیے جائیں۔
جہاں مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان خوشگوار ماحول میں علمی بات چیت ہو۔ ہر طرف کو موقع دیا جائے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنا موقف پیش کرے۔ پھر اس بات چیت کا جائزہ علماء کی کونسل کے بنائے ہوئے اصولی موقف کی روشنی میں لیا جائے۔ دیکھا جائے کہ پیش کردہ موقف ان اصولوں کے مطابق ہیں یا نہیں۔ آخر میں اس پوری بحث کو ریکارڈ کر کے کتابچے یا کتاب کی شکل میں عام لوگوں کے فائدے کے لیے شائع کیا جائے۔
فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لیے یہ بھی ضروری اور فوری طور پر ممکن ہے کہ حکومت ایسے دینی تعلیمی ادارے قائم کرے۔ جن میں مختلف مکتبہ فکر کے علماء کو بطور استاد رکھا جائے۔ ہر صوبے میں کم از کم دس ایسے ادارے بنائے جائیں۔ اگر فوری طور پر عمارتیں نہ ہوں، تو انتظار نہ کیا جائے۔ کرائے پر عمارتیں لی جائیں جب تک ان اداروں کے لیے مستقل عمارتیں تیار نہ ہو جائیں۔
امید ہے کہ ان ابتدائی اقدامات سے عام لوگوں کے سامنے، خاص طور پر دینی علم رکھنے والوں کے سامنے، یہ بات واضح ہو جائے گی کہ گمراہی کیا ہے اور کیا نہیں۔ اختلافات کی نوعیت بھی واضح ہو جائے گی کہ کون سا اختلاف گمراہی کا باعث ہے اور کون سا دین کے دائرے میں ہے۔ یہ بھی امید کی جا سکتی ہے کہ کوئی اپنی طرف سے کسی نظریے کو دین کا لازمی حصہ نہیں بنا پائے گا۔
فرقہ پرستی محض ایک گناہ نہیں۔ بلکہ یہ دین کے نام پر دین کو بدلنے کی دانستہ یا انجانے میں چلنے والی ایک منظم مہم ہے۔ اس لیے اس کو روکنے کے لیے اگر بااختیار اور ذمہ دار لوگ خود کوئی قدم نہ اٹھائیں، تو انہیں عوامی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے مجبور کرنا چاہیے کہ وہ عملی اقدام کریں۔ جس طرح اگر شراب پینا ایسا عام ہو جائے جیسے حکومت نے اسے حلال قرار دے دیا ہو، تو ہمیں سڑکوں پر آنا پڑے گا۔ بالکل اسی طرح فرقہ پرستی کے جرم کو ختم کرنے کے لیے بھی ہمیں سڑکوں پر آنا چاہیے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا، تو یہ ممکن ہے کہ یہ رویے آگے چل کر عقائد کی شکل اختیار کر لیں۔ آج اگر لوگوں نے عملاً قوانین بنانے(شارعین) والوں جیسا رویہ اختیار کر لیا ہے، تو کل کو یہی رویہ باطل عقیدے کی شکل بھی لے سکتا ہے۔