گری ،پناہ گاہ بنی قتل گاہ

دنیا کے کئی خطوں میں جس درجہ حرارت پر نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے وہیں برصغیر میں صدیوں سے اُسی درجہ حرارت پر زندگی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ بھرپور انداز سے رواں دواں ہوتی ہے.

ول ڈیورانٹ نے تہذیبوں کے عروج و زوال کے فلسفے پر قابل رشک کام کیا ہے. کئی ملکوں کے سفر کیے. جب ہندوستان پہنچا تو اپنی کتاب ہیروز آف ہسٹری میں ” انڈیا فرام بدھا ٹو اندرا گاندھی” کے باب میں کہتا ہے کہ؛
The soul of India is heat.

ہم بھی 40 ڈگری سینٹی گریڈ کی پرواہ کیے بغیر، تپتی سہ پہر میں گھر سے نکل پڑے. تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت طے کر کے، پہنچ گئے ہم، مارگلہ کے دامن میں، واقع گری کے مقام پر.

دلرُبا منظر ، روح پرور ہوا کی سنسناہٹ، پرندوں کی چہچہاہٹ اور ٹھنڈے پانی کے چشمے کے شور نے ہمارا استقبال کیا.

گائیڈ ٹو ٹیکسلا (کیمبرج ایڈیشن) میں سر جان مارشل نے گری کے عنوان سے مفصل مضمون لکھا ہے. جس کا خلاصہ یہ ہے کہ گری بدھ مت کی ایک خانقاہ ہے جسے قلعہ نما انداز میں تعمیر کیا گیا تھا جس کا بنیادی مقصد بیرونی یلغار اور دیگر خراب حالات کی صورت میں دھرما راجیکا اور دیگر قریبی خانقاہوں میں رہائش پذیر بدھ بھکشوؤں کو ایک محفوظ پناہ گاہ میسر کرنے کا تھا.

وقت کا دریا اپنی فطرت کے عین مطابق، آگے بڑھ گیا.
سلطان محمود غزنوی کے تین بیٹے تھے، مسعود غزنوی، محمد غزنوی اور عبدالرشید غزنوی. باقی دو بیٹوں کی نسبت، مسعود غزنوی محمود غزنوی کے دل کے زیادہ قریب تھا اور محمود نے ابتدائی طور پر اسے ہی اپنا ولی عہد نامزد کر رکھا تھا، لیکن کچھ عرصے کے بعد باپ اور بیٹے کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے.

ان اختلافات کا نتیجہ یہ نکلا کہ محمود نے مسعود کے بجائے محمد کو اپنا ولی عہد نامزد کر دیا. جب 1030 میں سلطان محمود غزنوی کا انتقال ہوا تو اُس وقت، مسعود ہمدان میں تھا اور محمد، غزنی میں موجود تھا لہٰذا اس نے تخت سنبھال لیا. مسعود کو یہ بات ناگوار گزری، اس نے عراق اور عجم میں اپنی مرضی کے نائب مقرر کیے اور خود خراسان پہنچ کر محمد کے نام ایک خط لکھا کہ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ تمہارے قبضے میں کون کون سے علاقے ہیں؟

لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ جو علاقے میں نے فتح کیے ہیں، وہ میرے قبضے میں ہی رہیں. جب خط محمد کو ملا تو اس نے نہایت سخت جواب دیا اور جنگ کی تیاری شروع کر دی. غزنی سے روانہ ہوا اور کسی علاقے میں خیمہ زن ہو گیا. ایک روز اچانک اس کے سر سے اس کا تاج گر گیا تو قریبی لوگوں نے اسے بدفال سمجھا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ محمد سے الگ ہو جائیں گے، انہوں نے بغاوت کر دی، مسعود کے حق میں اور محمد کے خلاف نعرے لگائے اور محمد کے خیمے کا محاصرہ کر کر کے اسے گرفتار کر کے قندھار کے قریب ایک قلعے میں قید کر دیا اور مسعود کو سلطان بنا دیا. مسعود نے اپنے بھائی کی دونوں آنکھیں نکلوا کر اسے اندھا کر دیا.

مسعود نے دس سال تک حکومت کی. جب سلجوقیوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تو اُس نے اپنا سارا خزانہ اونٹوں پر لادا، اور لاہور کو دارالحکومت بنانے کی غرض سے، غزنی سے لاہور کی طرف نکل پڑا. جب راولپنڈی پہنچا اور مارگلہ میں پڑاؤ کیا تو اس کے غلاموں اور ساتھیوں نے ہی، اس کے خزانے کو لوٹنا شروع کر دیا اور مسعود کو گرفتار کر لیا. اسی اثنا میں محمد بھی پہنچ گیا. مسعود کو اس کے سامنے پیش کیا گیا. محمد نے کہا کہ میں تمہیں قتل تو نہیں کروں گا لیکن جہاں تم کہو گے میں تمہیں وہیں قید کر دوں گا. مسعود نے اِسی گری میں رہنا پسند کیا.

محمد چونکہ اندھا ہو چکا تھا. لہذا اس نے زمام اقتدار اپنے بیٹے کے حوالے کر دی. ایک روز محمد کا بیٹا، عبد الرحمن اپنے ساتھیوں کے ساتھ گری قلعے میں داخل ہوا اور باپ کی اجازت کے بغیر چچا یعنی مسعود کو قتل کر دیا.

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسعود کو کنویں میں پھینک کر کنویں کو مٹی اور پتھروں سے بھر دیا گیا تھا. جب یہ اطلاع غزنی پہنچی تو امرا نے مسعود کے بیٹے مودود کو سلطان تسلیم کر کے اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لیے بھیجا اور اُس نے راولپنڈی کے مقام پر مخالفین کو بری طرح شکست دی، ایک سرائے تعمیر کروائی اور ایک شہر آباد کیا، جس کا نام رکھا، فتح آباد.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے