درجہ حرارت کی دہکتی گھنٹیاں

ان دنوں پاکستان کے بیشتر علاقے شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں۔ درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ، بعض مقامات پر 7 ڈگری سینٹی گریڈ کی خطرناک حد تک تجاوز کرچکا ہے۔ یہ صورتحال صرف احتیاطی تدابیر ہی نہیں بلکہ سنجیدہ اور پائیدار اقدامات کا تقاضا کرتی ہے تاکہ نہ صرف انسانی جانوں کو تحفظ دیا جا سکے بلکہ ماحول پر پڑنے والے دیرپا منفی اثرات کو بھی کم کیا جا سکے۔

اقوامِ متحدہ اور ماحولیاتی سائنسدان عشروں سے دنیا کو گلوبل وارمنگ کے خطرات سے آگاہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ وارننگز اب زمینی حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے زرعی شعبے کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ وہ اجناس جو کبھی ہماری معیشت کا ستون سمجھی جاتی تھیں، اب گرمی، پانی کی کمی اور بے ترتیب موسموں کی وجہ سے کم پیداوار دینے لگی ہیں۔

موسمی شدت صرف فصلوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کا دائرہ جنگلات کی آتشزدگی، قحط سالی، گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ، بے وقت بارشوں اور غیر متوقع سیلابوں تک پھیل چکا ہے۔ یہ سب علامات ہیں اُس ماحولیاتی بے اعتدالی کی، جسے ہم نے مسلسل نظرانداز کیا اور فطرت سے ٹکرانے کی جسارت کی۔ آج ہیٹ ویو ہماری بستیوں میں سایہ بان، ٹھنڈے پانی کے سبیلیں اور ابتدائی طبی امداد کی ضرورت بن چکی ہیں۔ حکومت نے کئی شہروں میں ان انتظامات کو یقینی بنایا ہے، لیکن یہ سب عارضی ریلیف ہیں۔

اس گرم لہر کو صرف موسم کی وقتی شدت سمجھ لینا ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ سب ماحولیاتی تبدیلی کی ایسی واضح نشانی ہے جسے نظرانداز کرنا آنے والے برسوں میں ناقابل تلافی نقصان کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ 2022ء میں آنے والے ہولناک سیلاب اسی غفلت کا نتیجہ تھے، جس نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا، زرعی رقبے تباہ ہوئے اور معیشت کو ناقابلِ بیان نقصان پہنچا۔

بیشک ماحولیاتی تبدیلی کے بنیادی اسباب میں صنعتی ترقی یافتہ ممالک کی کاربن گیسوں کا بےتحاشا اخراج شامل ہے۔ لیکن ایک متاثرہ اور غیر محفوظ ملک ہونے کے ناطے ہم اپنی کوتاہیوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ پاکستان میں درختوں کی اندھی کٹائی، آبادیوں کی بے ترتیب وسعت، زرعی زمینوں اور پارکوں کا سکڑنا، اور زیرِ زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال وہ عوامل ہیں جو مقامی سطح پر حالات کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ماحولیاتی بہتری کو صرف تقریروں تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اپنی آئندہ نسلوں کے لیے ایک محفوظ، پائیدار اور متوازن ماحول کی بنیاد رکھیں۔ ہمیں شجرکاری کو قومی سطح پر تحریک کا درجہ دینا ہوگا، پانی کے ضیاع کو روکنا ہوگا، اور شہری ترقی کے منصوبوں کو ماحولیاتی اصولوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔

ورنہ قدرت کی طرف سے جو وارننگز ہمیں مل رہی ہیں، وہ جلد ہی تباہ کن نتائج کی صورت اختیار کر لیں گی اور تب شاید ہمارے پاس صرف پچھتاوے بچیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے