آج الحمدللہ عید کا مبارک دن ہے اور فضائیں تکبیراتِ تشریق کی گونج سے معطر ہیں۔ اللہ رب العزت اس سعید دن کو پوری امتِ مسلمہ کے لیے رحمت، برکت اور عافیت کا ذریعہ بنائے، آمین۔ عید کے اس پرمسرت موقع پر جب دل مکہ اور مدینہ کی یادوں سے لبریز ہے، تو سوچا کہ اپنے قارئین کے ساتھ زندگی کے اس سب سے بڑے اثاثے کو شیئر کروں جو آسمانوں کے فیصلے کے بغیر ممکن نہ تھا۔ میں نے اپنی چالیس سالہ زندگی میں تین مرتبہ حجِ بیت اللہ کا وہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے جس کے لیے دنیا ترستی ہے۔ یہ نہ تو میری علمی یا عملی قابلیت تھی اور نہ ہی مجھ ناچیز میں کوئی ایسی بات تھی، یہ محض اس کریم رب کے کرم کے فیصلے تھے اور سچی بات یہی ہے کہ یہ بہت بڑے نصیب کی بات تھی۔ ان تینوں حج کی اپنی ایک الگ، منفرد اور ایمان افروز داستان ہے۔ پہلی مرتبہ میں نے اپنا حج ادا کیا، جسے عام اور فقہی اصطلاح میں "حجِ تمتع” کہا جاتا ہے۔
دوسری مرتبہ مجھے اپنی والدہ صاحبہ (رحمہ اللہ) کے لیے اور تیسری مرتبہ اپنے والدِ محترم (رحم اللہ) کی طرف سے حجِ بدل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ آج کے اس کالم میں، میں آپ کو اپنے پہلے سفرِ عشق کی رُوداد سناتا ہوں، جو آج سے تقریباً 9 یا 10 سال پرانی بات ہے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب یہ ناچیز پارلیمنٹ ہاؤس کی انٹر پارلیمنٹری ریلیشنز برانچ میں ‘سعودی ڈیسک’ کا انچارج تھا۔ عیدِ قربان سے چند روز قبل، اسلام آباد میں ‘پالیمنٹری یونین آف او آئی سی’ (PUIC) کی 34 ویں ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم اجلاس ہونا تھا اور سعودی عرب کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان آیا ہوا تھا۔ غالب گمان یہی ہے کہ ستمبر کا مہینہ تھا۔ اللہ تعالیٰ محترم و مکرم شفقات علی خان صاحب کو ہمیشہ آباد اور سلامت رکھے۔ وہ ان دنوں جوائنٹ سیکرٹری کے طور پر نیشنل اسمبلی میں آئے تھے (اور حال ہی میں انہوں نے پاکستان کے امورِ خارجہ کے ترجمان کے حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دی ہیں)۔ میں ان کے ساتھ بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فرائض سرانجام دے رہا تھا۔ کانفرنس سے عین چند دن پہلے، وہ ایک سرکاری دورے پر امریکہ روانہ ہو گئے۔ جاتے جاتے انہوں نے مجھے سخت لہجے میں حکم صادر فرمایا کہ "رحیم! جب میں واپس آؤں تو ہر چیز مکمل ہونی چاہیے، میں ایک ایک چیز کا خود حساب لوں گا اور تم سے پوچھوں گا۔” شفقات صاحب کا اندازِ تربیت بڑا انوکھا تھا، وہ پہلے زبردست قسم کی ڈانٹ پلاتے تھے، سخت احتساب کرتے تھے، اور پھر پیار سے گلے لگا لیتے تھے۔ بندہ ناچیز حیران رہ جاتا کہ اس شفقت پر کیا ردِعمل دے! خیر، اللہ کریم ہے؛ جب وہ امریکہ سے واپس اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترے، تو صبح کے 4 بج رہے تھے۔ مجھے ان کی آمد کا علم نہیں تھا اور میں دیوانہ وار ایئرپورٹ پر آنے والے دیگر بین الاقوامی مندوبین کو ریسیو کر کے سرینا ہوٹل بھجوانے میں مصروف تھا۔ اسی دوران اچانک کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا، مڑ کر دیکھا تو شفقات صاحب کھڑے تھے۔ مسکرا کر کہنے لگے کہ "ہاں رحیم صاحب! سب ٹھیک ہے؟” میں نے چونک کر مؤدبانہ عرض کیا کہ "جی سر! سب بالکل تیار ہے۔” وہ مطمئن ہو کر گھر روانہ ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ نے میری لاج رکھی اور وہ کانفرنس انتہائی احسن طریقے سے اختتام پذیر ہوئی۔ اس دوران سعودی وفد کے ساتھ میری ملاقات اس وقت کے ناظم الامور مروان صاحب سے ہوئی۔ میں نے ان سے مروت میں ‘کورٹسی ویزا’ (Courtesy Visa) کی درخواست کر دی۔ اس ویزے کا فائدہ یہ تھا کہ بندہ محض اپنی ٹکٹ لے کر اور منیٰ کے خیموں کی فیس ادا کر کے حج کی سعادت حاصل کر سکتا تھا، ورنہ سرکاری یا پرائیویٹ حج کے اخراجات میری اوقات اور بساط سے بالکل باہر تھے۔ چونکہ اس ویزے کی منظوری کا ایک خاص نظام تھا جو براہِ راست ریاض یا مکہ سے آتا تھا، اس لیے درخواست جمع کرانے کے بعد انتظار کا وقت انتہائی تکلیف دہ اور اضطراب انگیز تھا۔ مروان صاحب نے تسلی تو دی تھی کہ "تمہارا کام ہو جائے گا”، مگر دل تھا کہ ماننے کو تیار نہ تھا۔ جیسے جیسے حج کے دن قریب آ رہے تھے، دل کی تشنگی، بے چینی اور پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ایک دن جب ناامیدی کی حد ہونے لگی، تو میں نے دل گرفتہ ہو کر پرانے مدینہ منورہ کی ایک خوبصورت تصویر اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر لگائی، اور غم اور تھکن کے مارے اپنے آفس کی میز کے نیچے، زمین پر ہی سر رکھ کر سو گیا۔ میں ایک سادہ طبیعت انسان ہوں، جہاں جگہ ملے سر رکھ کر سو جاتا ہوں۔ مجھے یاد بھی نہیں کہ میز کے نیچے اس سخت زمین پر روتے روتے کب آنکھ لگ گئی، مگر سبحان اللہ، اللہ کے کام دیکھیں۔ جیسے ہی میری آنکھ کھلی اور میں نے اپنا فون اٹھا کر فیس بک دیکھی، تو مروان صاحب نے میری اس پوسٹ کے نیچے کمنٹ کیا ہوا تھا کہ "ان شاء اللہ، اگیئن”۔
وہ کمنٹ دیکھنا تھا کہ جیسے مجھے ایک نئی زندگی مل گئی۔ مجھے فوراً سرکارِ دو عالم ﷺ کی وہ مشہور حدیثِ مبارکہ یاد آ گئی جس میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر کسی شخص کا اونٹ تمام ساز و سامان کے ساتھ چٹیل صحرا میں گم ہو جائے اور وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک ہار کر ایک درخت کے نیچے مایوس ہو کر سو جائے، پھر جب اس کی آنکھ کھلے تو دیکھے کہ اس کا اونٹ تمام سامان کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا ہے، تو اسے کتنی خوشی ہوگی! واللہ، ویزے کی اس غیبی خوشخبری پر مجھے بھی بالکل ویسی ہی خوشی محسوس ہو رہی تھی۔ میں نے فوراً مروان صاحب کو فون کیا اور دھڑکتے دل کے ساتھ عرض کیا کہ "میرے بھائی! میرے ویزے کا کیا بنا؟” انہوں نے محبت سے جواب دیا کہ "سفارت خانے آ جاؤ اور اپنا ویزا لے جاؤ۔” اور معجزہ بالائے معجزہ یہ ہوا کہ صرف میرا ہی نہیں، بلکہ میرے بڑے بھائی لائق شاہ صاحب کا بھی حج کا ویزا لگ چکا تھا! ہم دونوں بھائیوں نے اللہ کا نام لیا، رختِ سفر باندھا اور اگلے ہی دن بیت اللہ کی طرف روانہ ہو گئے۔
یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ شریعتِ اسلامی میں حج اسلام کا پانچواں اہم ترین رکن ہے، جو صاحبِ استطاعت پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ "اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو”۔ احادیثِ مبارکہ میں حجِ مبرور یعنی مقبول حج کی فضیلت بے پناہ بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں کوئی فحش بات یا گناہ نہ کیا، تو وہ گناہوں سے پاک ہو کر اس دن کی طرح لوٹتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ حجِ مبرور کا بدلہ سوائے جنت کے کچھ نہیں ہے۔ فقہِ اسلامی کے مطابق حج کی تین بنیادی اقسام ہیں؛ پہلی حجِ افراد، جس میں زائر صرف حج کی نیت سے احرام باندھتا ہے۔ دوسری حجِ قران، جس میں ایک ہی احرام کے ساتھ حج اور عمرہ دونوں کی اکٹھی نیت کی جاتی ہے۔ اور تیسری حجِ تمتع ہے، جس کی سعادت اس راقم الحروف کو ملی۔ اس میں زائر حج کے مہینوں میں پہلے صرف عمرے کی نیت سے احرام باندھتا ہے، عمرہ مکمل کرنے کے بعد احرام کھول کر حلال ہو جاتا ہے، اور پھر 8 ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ ہی سے دوبارہ حج کا احرام باندھ کر مناسکِ حج کے لیے روانہ ہوتا ہے، اور اس حج میں شکرانے کی قربانی واجب ہوتی ہے۔
ہم مکہ مکرمہ پہنچے۔ زندگی کا وہ پہلا حج، بیت اللہ کا وہ پہلا نظارہ، طواف کی وہ برکتیں، اور پھر منیٰ، عرفات اور مزدلفہ کے وہ روح پرور میدان! مٹی اور دھول میں اٹے لاکھوں انسانوں کے سمندر میں اپنے رب کے حضور "لبیک اللہم لبیک” کی صدائیں بلند کرتے ہوئے جو رقت اور سرور ملا، وہ لفظوں میں بیان ہی نہیں کیا جا سکتا۔ کعبہ شریف کے سائے میں گزارے وہ لمحات زندگی کا کل سرمایہ ہیں۔ اور پھر حج کے بعد، وہ سفرِ مدینہ! آقائے دو جہاں، سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دربارِ اقدس میں حاضری۔ مدینہ منورہ کی گلیوں میں ننگے پاؤں چلنے کا وہ احساس، وہاں گزارے ہوئے وہ مسحور کن 8 دن، اور مسجدِ نبوی ﷺ میں ادا کی جانے والی وہ 40 نمازیں! دل آج بھی ان یادوں سے تڑپ اٹھتا ہے۔ اے اللہ! تیرا بے انتہا شکر ہے، میں اس قابل کہاں تھا؟ یہ تیرا ہی کرم تھا کہ تو نے مجھے چنا، حج کروایا اور ان تمام نعمتوں کا حصول میرے مقدر میں لکھ دیا۔ اپنے اگلے کالموں میں، میں آپ کو اپنے دوسرے اور تیسرے حج کی رُوداد سناؤں گا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے میری والدۂ محترمہ اور والدِ گرامی کے لیے حجِ بدل کی توفیقِ خاص عطا فرمائی، ان شاء اللہ۔