آئی سی یو ڈائیریز

چین کے ایک اسپتال کے آئی سی یو میں جہاں ہر لمحہ امید اور سانسیں جاری رہنے کی جنگ جاری ہے اور خاموشی میں لپٹی بے شمار کہانیاں لکھی جا رہی ہیں ایک میل نرس” سن گوتاؤ ” ایک مختلف کام میں مصروف ہیں۔ وہ مریضوں کی زندگی کے ان لمحات کو محفوظ کر رہے ہیں، جنہیں مریض نہ دیکھ پاتے ہیں اور نہ ہی کبھی جان پاتے ہیں ۔

سینٹر آف کریٹیکل کیئر میڈیسن سے وابستہ سن گوتاؤ نے دو برس قبل، جب وہ شمال مغربی چین کے صوبہ گانسو کے شہر لانژو میں بطور انٹرن کام کر رہے تھے، ایک غیر معمولی عادت اپنائی۔ وہ اپنی ڈیوٹی کے بعد ان مریضوں کے لیے ڈائری لکھتے، جو آئی سی یو میں بے ہوشی کی حالت میں دن اور رات گزارتے تھے۔

یہ صرف طبی ریکارڈ نہیں ہوتا۔ ان ڈائریوں میں مریضوں کے دن بھر کے حالات، اہل خانہ کے جذبات، اور وہ چھوٹے چھوٹے لمحات محفوظ کیے جاتے ہیں جو زندگی کی امید کو زندہ رکھتے ہیں۔ سن گوتاؤ کہتے ہیں کہ آئی سی یو ایک ایسی جگہ ہے جہاں مریض اپنے خاندان، دوستوں اور دنیا سے کٹ جاتا ہے۔ جب وہ صحت یاب ہو کر واپس اپنے گھروں کو جاتے ہیں تو اکثر ان کی یادداشت میں ایک خلا رہ جاتا ہے ، اور یہی خلا بعد میں بے چینی، ڈپریشن یا نفسیاتی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ اور اگر کوئی ان لمحات کو محفوظ کر لے، تو یہ مریضوں کے لیے جذباتی سہارا بن سکتا ہے۔

آئی سی یو میں کام آسان نہیں۔ ہر دو گھنٹے بعد مریضوں کی کروٹ بدلنا، ان کی سانسوں اور دل کی دھڑکنوں پر مسلسل نظر رکھنا، اور ہر لمحے کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنا، یہ سب نرسوں کی روزمرہ ذمہ داری ہے۔ لیکن ان سب کاموں کے باوجود وہ روز ایک یا دو گھنٹے مزید وقت لگا کر اپنی ڈائری مکمل کرتے ہیں۔

سن اب تک چالیس سے زیادہ مریضوں کے لیے ایسی ڈائریاں لکھ چکے ہیں۔سن گوتاؤ کا یہ کام اب ایک فرد کی کوشش نہیں رہا۔ ان کے ساتھیوں نے بھی آئی سی یو ڈائری گروپ بنا لیا ہے۔ کوئی تصاویر لیتا ہے، کوئی نوٹس مرتب کرتا ہے، اور کوئی یادداشتوں کو ترتیب دیتا ہے۔ یوں ایک میل نرس کی ذاتی کاوش اب اجتماعی ہمدردی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

طبی تحقیق بھی اس انسانی جذبے کی تائید کرتی ہے۔ مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ آئی سی یو ڈائریاں مریضوں میں پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر، بے چینی اور ڈپریشن کی علامات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

سن گوٹاؤ کے لیے یہ صرف پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں، بلکہ ذاتی احساس بھی ہے۔ ان کی والدہ سے جڑا احساس جب وہ آئی سی یو میں تھیں ۔ اس لیے وہ جانتے ہیں کہ آئی سی یو کے باہر انتظار کرنے والوں کے دل پر کیا گزرتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایک طبی کارکن کے طور پر ہمیں صرف علاج نہیں، بلکہ ایک اچھا احساس بھی دینا چاہیے۔شاید یہی وجہ ہے کہ چین کے اس اسپتال میں لکھی جانے والی یہ ڈائریاں محض الفاظ نہیں، بلکہ امید، ہمدردی اور انسانیت کی ایک خاموش داستان بنتی جا رہی ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے