اتفاق ہسپتال کی وہ رات اور استاد کا مان

گزشتہ رات گھڑی کی سوئیاں بارہ بجا رہی تھیں جب مجھے ایک قریبی عزیز کی اچانک طبیعت خراب ہونے کے باعث لاہور کے اتفاق ہسپتال جانا پڑا۔ رات کے اس پہر بھی ہسپتال کا ماحول اپنی مخصوص گہما گہمی میں تھا، جہاں ہر طرف تشویش اور بھاگ دوڑ کا منظر تھا۔ میں اپنے اس عزیز کا ہاتھ تھامے، پریشانی کے عالم میں ایمرجنسی وارڈ سے ہوتے ہوئے ڈاکٹرز کے کیبن کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی ہم داخل ہوئے، سفید کوٹ پہنے،گلے میں سٹیتھوسکوپ لٹکائے ایک نوجوان ڈاکٹر صاحبہ نے سر اٹھا کر ہماری طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں دن بھر کی تھکن واضح تھی، مگر چہرے پر اپنے پیشے کا وقار برقرار تھا۔میں ابھی اپنے عزیز کی تکلیف بتانے کے لیے لفظ ہی ڈھونڈ رہا تھا کہ اچانک ان ڈاکٹر صاحبہ کے چہرے پر حیرت اور احترام کے ملے جلے جذبات ابھرے۔ وہ فوراً اپنی کرسی سے کھڑی ہوئیں، انتہائی ادب سے آگے بڑھیں اور مسکراتے ہوئے بولیں، ”سر! کیا آپ نے مجھے پہچانا؟“

میں نے چند لمحے ان کے چہرے کو دیکھا اور پھر میری آنکھوں کے سامنے دس سال پرانا منظر کسی فلم کی طرح گھوم گیا۔ یہ میری وہی ہونہار شاگرد تھی جو کبھی میری کلاس میں سامنے والی بینچ پر بیٹھ کر بڑی بڑی پرامید آنکھوں سے میری باتیں سنا کرتی تھی۔ دس سال کا طویل عرصہ گزر چکا تھا، وہ نوخیز طالب علم اب ایک باصلاحیت اور قابل ڈاکٹر بن چکی تھی، لیکن اس کے لہجے کا وہ احترام، عاجزی اور عقیدت آج بھی بالکل ویسی ہی تھی، بلکہ شاید اس میں گزرتے وقت کے ساتھ مزید اضافہ ہو چکا تھا۔اسے دیکھتے ہی میری یادوں کے دریچے کھل گئے اور مجھے ماضی کا وہ خوبصورت دور یاد آگیا جب شدید گرمیوں کی تپش اور حبس زدہ ماحول میں بھی، میں پسینے سے شرابور ہو کر ان بچیوں کو بالکل اپنی بیٹیوں کی طرح پڑھایا کرتا تھا اور ان کے روشن مستقبل کے خواب بنتا تھا۔ میں نے انہیں کبھی صرف”اسٹوڈنٹس“ نہیں سمجھا تھا، بلکہ ان کی اخلاقی تربیت اور کردار سازی کو اپنا اولین فریضہ جانا۔ ایک سچے استاد کے لیے اس کی سب سے بڑی کائنات اس کے شاگرد ہی ہوتے ہیں، جن کی کامیابی کے لیے وہ اپنی راحت اور سکون قربان کر دیتا ہے اور انہیں زندگی کے کٹھن راستوں پر وقار کے ساتھ چلنا سکھاتا ہے۔

آج اتفاق ہسپتال کے اس کمرے میں، اپنی اس بیٹی کو معاشرے کے اتنے معزز مقام پر دیکھ کر میرا دل فخر اور امتنان سے بھر گیا۔ اس نے صرف میرا زبانی احترام ہی نہیں کیا، بلکہ اپنے استاد کی محبت میں آگے بڑھ کر میرے عزیز کے چیک اپ سے لے کر تمام ضروری امور اور ٹیسٹ وغیرہ اپنی نگرانی میں کروائے۔ ہسپتال کے اس مصروف ترین اور تناؤ والے ماحول میں بھی، جہاں ڈاکٹرز پر مریضوں کا شدید دباؤ ہوتا ہے، اس نے مجھے ایک استاد کا وہ مان اور مقام دیا جس کی تپش اور سکون میں نے اپنے دل کے نہاں خانوں میں محسوس کی۔ مجھے ڈاکٹر صاحبہ کا اپنے استاد کا احترام کرنے کا یہ انداز سچی مچی بھا گیا۔بات صرف علاج معالجے اور ڈیوٹی تک ہی محدود نہ رہی۔ جب تمام طبی امور مکمل ہو گئے، تو اس باادب شاگردہ نے محبت سے کہا سر آپ میرے ساتھ چلیں اور وہ مجھے اپنے آفس میں لے گئی۔ وہاں اس نے مجھے عزت سے بٹھایا اور رات کے اس پہر اپنے ہاتھوں سے چائے بنا کر پلائی۔ چائے کی اس پیالی میں جو گرمجوشی، اپنائیت اور خلوص تھا، وہ میرے دل میں اتر گیا اور ایک استاد کی برسوں کی تھکن منٹوں میں دور ہو گئی۔ مجھے لگا کہ شدید گرمی کے اس دور میں جو پسینہ میں نے بہایا تھا، اس چائے کی مٹھاس اور شاگرد کی اس عزت نے اس کا حق ادا کر دیا ہے۔

ہسپتال سے واپسی پر میں گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ ہمارے ہاں اکثر اخبارات، ٹی وی ٹاک شوز اور سوشل میڈیا پر یہ شکوہ عام ہے کہ ”آج کل کے نوجوان اپنے اساتذہ کا احترام نہیں کرتے اور نئی نسل اخلاقی زوال کا شکار ہو چکی ہے۔“ لوگ اکثر گلہ کرتے ہیں کہ یہ گوگل، یوٹیوب اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا دور ہے، تعلیم اب ایک ”کمرشل پروڈکٹ“ بن چکی ہے جہاں بھاری فیسیں دے کر ڈگریاں خریدی اور بیچی جاتی ہیں، اور شاگرد خود کو علم کا پیاسا سمجھنے کے بجائے ایک”کسٹمر“ سمجھتا ہے۔ اس لیے اب اساتذہ اور شاگردوں کے رشتے میں وہ پرانا خلوص اور تقدس باقی نہیں رہا۔لیکن اتفاق ہسپتال میں رات بارہ بجے پیش آنے والے اس واقعے نے میرے دل سے اس تاثر کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیا۔ سچ تو یہ ہے کہ وقت بدل گیا ہے، پڑھنے پڑھانے کے طریقے بدل گئے ہیں، ٹیکنالوجی آ گئی ہے، لیکن انسانی جذبے اور مشرقی اقدار آج بھی اپنی جگہ قائم ہیں۔ نئی نسل کے بارے میں یہ گمان کرنا سراسر ناانصافی ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو بھول چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بچے آج بھی اپنے اساتذہ کا ویسے ہی دل و جان سے احترام کرتے ہیں جیسے پرانے وقتوں میں کیا کرتے تھے،احترام کا اظہار کرنے کا انداز شاید بدل گیا ہو، لیکن عقیدت کا وہ مادہ آج بھی ان کے دلوں میں اسی طرح موجزن ہے۔

کتابیں، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی آپ کو معلومات تو فراہم کر سکتی ہیں، آپ کو ایک بہترین ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل تو بنا سکتی ہیں، لیکن ایک بااخلاق اور باادب انسان صرف استاد کی صحبت اور اس کی بے لوث محبت ہی بنا سکتی ہے۔ اور جب ایک استاد اپنے شاگردوں پر دل سے محنت کرتا ہے، تو شاگرد بھی اس محبت کا قرض اسی طرح چکاتے ہیں جیسے پرانے وقتوں کے باادب شاگرد چکایا کرتے تھے۔میں جب اتفاق ہسپتال کی عمارت سے باہر نکلا تو لاہور کی سڑکیں سنسان ہو رہی تھیں، لیکن میرے دل میں اپنی اس ہونہار شاگرد کے سلوک، اس کی عاجزی اور اس چائے کی مٹھاس کی وجہ سے ایک عجب سا نور اور تسکین تھی۔ مجھے پختہ یقین ہو گیا کہ جب تک ہماری اس مٹی میں اساتذہ کے سامنے سر جھکانے والے، ان کا مان رکھنے والے ایسے لائق اور باادب بچے موجود ہیں، ہماری تہذیب، اقدار اور اخلاقیات کا سورج کبھی غروب نہیں ہو سکتا۔ نئی نسل میں خلوص اور وفا کے ایسے روشن چراغ ہر دور کی طرح آج بھی موجود ہیں جو معاشرے کے اندھیروں کو دور کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے