نمائش کی دوڑ اور بڑھتی ہوئی معاشرتی بے چینی

ہمارا معاشرہ تیزی سے ایک ایسی سمت میں بڑھ رہا ہے جہاں انسان کی اصل قدر اس کے کردار، علم اور اخلاق کے بجائے اس کی ظاہری حیثیت سے لگائی جانے لگی ہے۔ مہنگے کپڑے، جدید موبائل فون، پرتعیش گاڑیاں اور سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی مصنوعی شان و شوکت آج کامیابی کا معیار بنتی جا رہی ہیں۔ یہی رجحان معاشرتی بے چینی اور احساسِ محرومی کو جنم دے رہا ہے۔

سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ لوگ اپنی زندگی کے بہترین لمحات دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں جبکہ مشکلات اور مسائل کو چھپا لیتے ہیں۔ نتیجتاً دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ ہر شخص خوشحال اور کامیاب ہے سوائے ان کے۔ یہ سوچ نوجوانوں میں مایوسی، احساسِ کمتری اور غیر ضروری مقابلے کا سبب بن رہی ہے۔

شادی بیاہ کی تقریبات، عید کے تہوار اور دیگر خوشی کے مواقع بھی اب سادگی کے بجائے نمائش کا میدان بنتے جا رہے ہیں۔ بہت سے خاندان صرف معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ قرض لے کر بھی دوسروں کے سامنے اپنی حیثیت ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس کے منفی اثرات برسوں تک ان کی زندگی پر پڑتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ خوشی کا تعلق دولت کی نمائش سے نہیں بلکہ ذہنی سکون، مضبوط خاندانی تعلقات اور اچھے کردار سے ہے۔ ایک سادہ زندگی گزارنے والا شخص بھی خوش اور مطمئن ہو سکتا ہے جبکہ بے شمار آسائشوں کے باوجود کئی لوگ پریشانی اور تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی تربیت ایسے انداز میں کریں کہ وہ انسان کی قدر اس کے اخلاق، محنت اور کردار سے کریں، نہ کہ اس کے لباس، موبائل یا بینک بیلنس سے۔ جب معاشرہ ظاہری نمائش کے بجائے حقیقی اقدار کو اہمیت دے گا تو احساسِ محرومی، غیر ضروری مقابلہ بازی اور معاشرتی بے چینی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

ایک صحت مند معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں انسان کو اس کی انسانیت کی بنیاد پر عزت دی جائے، نہ کہ اس کے پاس موجود مادی وسائل کی بنیاد پر۔ یہی سوچ ہمیں ایک متوازن اور پُرسکون معاشرے کی طرف لے جا سکتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے